جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا کے دو بڑے برادر اسلامی ممالک، پاکستان اور ملائیشیا نے اپنے سفارتی، تجارتی اور عسکری و سیکیورٹی روابط کو ایک نئی بلندی پر لے جانے کے لیے پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔ آج 22 اگست 2026 کو اسلام آباد میں دونوں ممالک کے مابین وفود کی سطح پر انتہائی اہم اور تزویراتی مذاکرات کا انعقاد ہوا جس میں پاک ملائیشیا تعلقات میں مضبوطی اور کثیر الجہتی شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک میپ تیار کیا گیا۔
اس اعلیٰ سطحی بیٹھک میں پاکستانی وفد کی قیادت وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے کی، جبکہ ملائیشیا کے وفد کی سربراہی وہاں کے وزیرِ داخلہ سیف الدین ناسوتیون بن اسماعیل نے کی۔ وفود کی سطح پر ہونے والی ان گفتگوؤں سے پہلے دونوں وزرائے داخلہ کے مابین ون آن ون ملاقات بھی ہوئی جس میں خطے کی جیو پولیٹیکل صورتحال پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جوائنٹ ورکنگ گروپ کا قیام
مذاکرات کے دوران دونوں وزرائے داخلہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ عصرِ حاضر کے سیکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے محض مینوئل خط و کتابت کافی نہیں ہے بلکہ دونوں وزارتوں کے مابین مستقل اور بلا تعطل روابط ناگزیر ہیں۔ اس مقصد کے لیے دونوں ممالک نے دونوں وزارتِ داخلہ کے مابین تعلقات کو منظم کرنے کے لیے ایک جوائنٹ ورکنگ گروپ قائم کرنے کا حتمی فیصلہ کیا۔
اجلاس میں طے پانے والے دیگر اہم ترین سیکیورٹی فیصلے درج ذیل ہیں:
انٹیلی جنس شیئرنگ: دہشت گردوں، کالعدم تنظیموں اور منشیات کے بین الاقوامی ڈیلرز کے خاتمے کے لیے دونوں ممالک حقیقی وقت میں خفیہ معلومات کا تبادلہ کریں گے۔
انسدادِ جرائم کی حکمتِ عملی: دہشت گردی، منشیات کی اسمگلنگ، غیر قانونی ہجرت اور بڑھتے ہوئے سائبر کرائمز کے خلاف ایک مشترکہ اور مؤثر ترین اسٹریٹجی وضع کی جائے گی۔
#Pakistan and #Malaysia have reaffirmed commitment to further strengthen bilateral relations@MOIofficialGoP @MohsinnaqviC42 @MalaysiaMFA @saifnasution @ForeignOfficePk #RadioPakistan #News https://t.co/H8Ygh1tSzr pic.twitter.com/nGq7YZfcM0
— Radio Pakistan (@RadioPakistan) August 22, 2026
پولیس اکیڈمیز کا تعاون: پاکستان کی نیشنل پولیس اکیڈمی اور رائل ملائیشین پولیس کالج کے مابین تربیتی پروگرامز اور کسٹمز مینوئل کا تبادلہ بڑھایا جائے گا۔
کوسٹ گارڈز سیکٹر میں ملائیشین تجربے سے فائدہ اٹھانے کا عزم
وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے گفتگو کرتے ہوئے ملائیشیا کی ساحلی سیکیورٹی اور نیول کسٹمز کے انفراسٹرکچر کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بحری حدود کے تحفظ اور اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے کوسٹ گارڈز سیکٹر میں ملائیشیا کے طویل اور کامیاب تجربے سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔
اس سلسلے میں دونوں اطراف نے کوسٹ گارڈز کی مشترکہ مشقوں اور جدید ترین سوفٹ وئیر پر مبنی ٹریننگ سیشنز شروع کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان فیصلوں پر عمل درآمد کو تیز کرنے کے لیے پاکستان کا ایک اعلیٰ سطحی سیکیورٹی وفد بہت جلد ملائیشیا کا باقاعدہ دورہ کرے گا۔
ویزا سہولیات میں آسانی، سیاحت کا فروغ اور پاکستانیوں کے لیے ورک کوٹہ
سیکیورٹی امور کے علاوہ مذاکرات کا ایک بڑا حصہ عوامی روابط اور اقتصادی تعاون پر مرکوز رہا۔ محسن نقوی نے ملائیشیا کو مسلم امہ کے اندر ایک تیزی سے ابھرتی ہوئی معاشی طاقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملائیشیا پاکستانی سیاحوں کے لیے ایک بہترین اور پرامن ترین ملک ہے۔ دونوں رہنماؤں نے سیاحت کے فروغ کے لیے ویزا جاری کرنے کے مینوئل کو آسان اور ڈیجیٹلائز کرنے پر تفصیلی گفتگو کی۔
پاکستانی افرادی قوت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیرِ داخلہ نے اپنے ملائیشین ہم منصب پر زور دیا کہ ملائیشیا میں پاکستانی کارپوریٹ ملازمین اور ہنر مند ورکرز کے لیے کام کا کوٹہ بڑھایا جائے جس سے مزید پاکستانیوں کو قانونی راستوں کے ذریعے ملائیشیا جا کر روزگار حاصل کرنے کے مواقع ملیں گے۔ ملائیشین وزیرِ داخلہ نے ان تجاویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے ملکی رولز کے مطابق ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔






