خیبر پختونخوا (KP) کے شہریوں کو اراضی کے سرکاری دستاویزات کے حصول میں سہولت فراہم کرنے اور ریوینیو کے نظام کو جدید ترین خطوط پر استوار کرنے کے لیے صوبائی حکومت نے ایک انقلابی اقدام اٹھایا ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے باقاعدہ طور پر صوبے بھر میں نادرا (NADRA) کے ای سہولت (e-Sahulat) فرینچائز نیٹ ورک کے ذریعے زمین کی ملکیت کا ریکارڈ یعنی فرد جاری کرنے کی اصولی منظوری دے دی ہے۔ کے پی میں اراضی ریکارڈ
محکمہ مال میں جاری اصلاحاتی مہم کے سلسلے میں پشاور میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو کڑی ہدایات جاری کیں کہ اس ڈیجیٹل سروس کا باقاعدہ آغاز اگلے ہفتے سے ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ عوام مینوئل دفتری تاخیر اور پٹواریوں کے دفاتر کے چکر کاٹے بغیر اپنے حقوقِ اراضی کے کاغذات حاصل کر سکیں۔
پبلک سروس ڈیلیوری میں بڑی تبدیلی اور وقت کی بچت
صوبائی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ نئے اسٹرکچرل فریم ورک کے تحت اب شہریوں کو زمین کا ریکارڈ (فرد ملکیت) حاصل کرنے کے لیے ریوینیو ڈیپارٹمنٹ کے روایتی سروس ڈیلیوری سینٹرز (SDCs) تک جانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اب یہ اہم سروس صوبے کے دور دراز اور دیہی اضلاع میں قائم ہزاروں نادرا ای سہولت سینٹرز پر بھی باقاعدہ طور پر دستیاب ہوگی۔
وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے اس ڈیجیٹل منتقلی کی وجوہات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا:
عوامی فلاح و بہبود: ہم عوام دوست طرزِ حکومت پر پختہ یقین رکھتے ہیں اور شہریوں کو ان کی دہلیز پر بنیادی سہولیات فراہم کرنا ہماری اولین ترجیح ہے۔
وسائل اور وقت کا تحفظ: اس ڈیجیٹل ہب کے قیام سے پسماندہ اضلاع اور شہروں کے رہائشیوں کا قیمتی وقت اور پیسہ ضائع ہونے سے بچے گا۔
شفافیت کا فروغ: یہ اقدام مینوئل رکارڈ میں ہیر پھیر اور رشوت ستانی کے امکانات کو جڑ سے ختم کر دے گا۔
فیسوں کی کیش لیس ادائیگی کا لازمی نظام
محکمہ مال کے حکام نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اراضی کے ریکارڈ کے حصول کے لیے سرکاری فیس اور دیگر سروس چارجز کی مینوئل یا نقد وصولی پر مکمل پابندی ہوگی۔ کرپشن کے سدِباب کے لیے تمام تر مالیاتی لین دین کو مکمل طور پر کیش لیس پیمنٹ مینوئل پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
شہری اپنی مقررہ فیس ڈیجیٹل بینکنگ کارڈز، موبائل والٹس یا ای سہولت کے تصدیق شدہ سافٹ ویئر کے ذریعے آن لائن ادا کر سکیں گے جس کا باقاعدہ کیو آر کوڈ اور رسید موقع پر فراہم کی جائے گی تاکہ کسٹمر کا ڈیٹا محفوظ رہے اور ریوینیو براہِ راست سرکاری خزانے میں جمع ہو۔
لینڈ ایکوزیشن بل 2026 کا جائزہ اور تاخیر کا سدِباب
اراضی کے ریکارڈ کے اجراء کے ساتھ ہی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے خیبر پختونخوا لینڈ ایکوزیشن بل 2026 کے مسودے کا بھی تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے قانون سازوں کو حکم دیا کہ مجوزہ قانون کے اندر ایسی سخت شقیں شامل کی جائیں جو سرکاری یا ترقیاتی منصوبوں کے لیے اراضی کے حصول کے عمل میں ہونے والی غیر ضروری مینوئل اور عدالتی تاخیر کا خاتمہ کر سکیں۔
انہوں نے حکام کو ہدایت کی کہ اس بل کے مسودے کو جلد از جلد حتمی شکل دے کر منظوری کے لیے متعلقہ فورمز اور صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جائے تاکہ صوبے میں مینوفیکچرنگ اور انفراسٹرکچر کے پراجیکٹس کو تیزی سے آگے بڑھایا جا سکے۔ یہ اصلاحات پی ٹی آئی کے وژن کے عین مطابق ہیں جو پبلک انٹرسٹ کو سب سے مقدم رکھتی ہیں۔






