صوبہ پنجاب میں ماحولیاتی تحفظ، وائلڈ لائف مینجمنٹ اور قدرتی وسائل کے سائنسی اندراج کے لیے ایک بہت بڑی اور تاریخی کامیابی حاصل کر لی گئی ہے۔ پنجاب وائلڈ لائف اینڈ پارکس ڈیپارٹمنٹ نے انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر (IUCN) پاکستان کے تعاون سے صوبے کی تاریخ کا پہلا جامع ترین ماحولیاتی جائزہ مکمل کر لیا ہے، جس کے ابتدائی پنجاب جنگلی حیات سروے نتائج نے ماہرین اور عوام کو حیران کر دیا ہے۔]
اس میگا پراجیکٹ کا باقاعدہ آغاز اپریل 2025 میں لاہور سے کیا گیا تھا، جس پر تقریباً 53 کروڑ (530 ملین) روپے کی بھاری لاگت آئی ہے۔ اس سروے کا بنیادی مقصد پنجاب بھر کے جنگلات، صحراؤں اور آبی گزرگاہوں میں موجود جنگلی حیات کی آبادی، ان کی جغرافیائی تقسیم اور انہیں درپیش ماحولیاتی خطرات کا کمپیوٹرائزڈ اور جیو ٹیگنگ پر مبنی سائنسی ریکارڈ تیار کرنا ہے۔
نایاب ستنداری جانوروں اور انڈس ڈولفن کی حیرت انگیز آبادی
سروے کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق پنجاب کے مختلف حفاظتی زونز اور پوٹھوہار کے کٹھن پہاڑی سلسلوں میں نایاب جنگلی جانوروں کی حوصلہ افزا تعداد ریکارڈ کی گئی ہے:
پنجاب اڑیال : سروے میں سب سے حیرت انگیز ریکارڈ پنجاب کے مخصوص پہاڑی چٹانوں میں پائے جانے والے 5,128 پنجاب اڑیال کا سامنے آیا ہے۔
چنکارہ ہرن اور نیل گائے: صوبے کے صحرائی اور میدانی علاقوں میں 1,276 چنکارہ ہرن، 160 نیل گائے ، 138 پاڑا ہرن اور 93 نایاب کالے ہرن گنے گئے ہیں۔
اندس ریور ڈولفن : دریائے سندھ کے میٹھے پانیوں میں سائنسی کیمروں کی مدد سے 540 انڈس ڈولفن کی موجودگی کا پائیدار ریکارڈ حاصل ہوا ہے۔
پرندوں کی لاکھوں میں گنتی اور نایاب گدھوں کا اندراج
پنجاب کے فضائی اور جنگلی ماحول میں پرندوں کی گنتی کے کسٹمز اور سافٹ ویئر مینوئل کے تحت لاکھوں پرندوں کا ڈیٹا بیس تیار کیا گیا ہے۔ سروے کے مطابق پرندوں کی تعداد درج ذیل ہے:
تیتر اور چکور: صوبے بھر میں 92,636 بھورے تیتر ، 40,526 کالے تیتر اور 6,052 چکور ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
تلور اور نایاب پرندے: صحرائی علاقوں میں 1,821 تلور اور خوبصورت پہاڑی علاقوں سے 49 کالیج فیزنٹ کی گنتی کی گئی ہے۔
نایاب گدھ : ماحولیاتی توازن کے لیے انتہائی اہم سمجھے جانے والے 345 گدھ بھی اس سروے کے ریکارڈ میں شامل ہیں، جو کہ وائلڈ لائف مینیجرز کے لیے ایک بڑی خوشخبری ہے۔
رینگنے والے جاندار، مینڈک اور مقامی پودوں کا ڈیٹا بیس
حیاتیاتی تنوع کو مکمل طور پر سمجھنے کے لیے سروے ٹیموں نے رینگنے والے جانداروں اور پودوں کا بھی تفصیلی مینوئل تیار کیا ہے۔ اس ڈیٹا کے مطابق پنجاب میں 7,600 مینڈک، 1,070 بنگال مانیٹر لزارڈ (گو)، 720 انڈین سوفٹ شیل کچوے، 85 انڈین کوبرا سانپ اور 22 انڈین راک پائتھن (اژدھے) پائے گئے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ، پنجاب کے روایتی پودوں اور درختوں جیسے کہ شیشم (ٹاہلی)، کیکر، پیپل، پھلائی اور پیلو کی جغرافیائی میپنگ بھی کی گئی ہے۔ آئی یو سی این (IUCN) پاکستان کے پراجیکٹ مینیجر عاصم جمال کے مطابق یہ تمام سائنسی ڈیٹا مستقل میں پنجاب کی پہلی ریڈ ڈیٹا بک تیار کرنے کے لیے بنیادی ستون کا کردار ادا کرے گا جس کی مدد سے کسٹمز اور وائلڈ لائف فنڈنگ کے قوانین وضع کیے جائیں گے۔






