پاکستان میں اپنا گھر یا جائیداد خریدنے کا خواب دیکھنے والے شہریوں اور مڈل کلاس طبقے کے لیے مرکزی بینک نے ایک بہت بڑی اور انقلابی خوشخبری کا اعلان کر دیا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) نے ہاؤسنگ فنانس کے پرسیڈنشل ریگولیشنز میں بڑے پیمانے پر ترمیم کرتے ہوئے اسٹیٹ بینک ہاؤسنگ فنانس رولز کا نیا اور جامع فریم ورک جاری کر دیا ہے۔
ان نئے قوانین کے تحت اب تمام تجارتی بینک اور ترقیاتی مالیاتی ادارے (DFIs) کسی بھی پراپرٹی کی کل مالیت کا 90 فیصد تک قرضہ (90:10 Loan-to-Value Ratio) فراہم کرنے کے مجاز ہوں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب خریدار کو اپنی جیب سے صرف 10 فیصد رقم ڈاؤن پیمنٹ کے طور پر ادا کرنی ہوگی جبکہ باقی 90 فیصد رقم بینک فنانس کرے گا۔ یہ نئے قوانین فوری طور پر نافذ العمل ہو چکے ہیں اور انہوں نے 2019 سے 2021 کے درمیان جاری ہونے والے تمام پرانے نوٹیفکیشنز کو منسوخ کر دیا ہے۔
قرض کی واپسی کی مدت 30 سال تک بڑھا دی گئی
مرکزی بینک نے پراپرٹی ہولڈرز اور تنخواہ دار طبقے پر ماہانہ اقساط کا بوجھ کم کرنے کے لیے قرض کی واپسی کی زیادہ سے زیادہ مدت (Tenor) کو بڑھا کر 30 سال کر دیا ہے۔ اس طویل المدتی مدت کی وجہ سے اب شہریوں کے لیے ہاؤسنگ لون کی ماہانہ اقساط سستی اور قابلِ برداشت ہو جائیں گی۔
اس نئے فریم ورک کے تحت بینک درج ذیل مقاصد کے لیے ہاؤسنگ لون فراہم کر سکتے ہیں:
مکان، فلیٹ، اپارٹمنٹ یا بنے بنائے پلاٹ کی خریداری کے لیے۔
پہلے سے ملکیتی پلاٹ پر نئے مکان کی تعمیرات کے لیے۔
موجودہ گھر کی توسیع، تزئین و آرائش یا رینوویشن کے لیے۔
گھروں میں سولر سسٹم اور متبادل توانائی کی تنصیب کے لیے۔ (یاد رہے کہ سولر اور گرین انرجی کے لیے قرض کی زیادہ سے زیادہ مدت 10 سال مقرر کی گئی ہے)
قرض لینے کی صلاحیت اور آمدنی کا معیار
اسٹیٹ بینک نے ہاؤسنگ فنانس رولز کو جہاں آسان بنایا ہے وہیں بینکوں کے مالیاتی رسک کو مینیج کرنے کے لیے لون ری پیمنٹ کی سخت حد بھی مقرر کی ہے۔ نئے قوانین کے مطابق، کسی بھی قرض لینے والے شخص کی تمام ماہانہ اقساط (موجودہ ہاؤسنگ لون اور دیگر تمام پرسنل یا کار لون ملا کر) اس کی خالص ڈسپوزایبل آمدنی کے 65 فیصد سے زیادہ نہیں ہونی چاہئیں۔
اس کے علاوہ پاکستان کی ایک بڑی آبادی جو غیر رسمی شعبے سے وابستہ ہے اور جن کے پاس تنخواہ کی باقاعدہ سلپ نہیں ہوتی، ان کے لیے بھی بڑی سہولت دی گئی ہے۔ اسٹیٹ بینک نے کمرشل بینکوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ پاکستان بینکس ایسوسی ایشن (PBA) کے منظور شدہ پراکسی ماڈلز استعمال کر کے ایسے شہریوں کی غیر رسمی آمدنی کا اندازہ لگائیں اور انہیں بھی لون کی سہولت فراہم کریں۔
پراپرٹی کی ویلیوایشن، سیکیورٹی اور انشورنس کی شرائط
شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے اسٹیٹ بینک نے جائیداد کی مالیت جانچنے اور سیکیورٹی کے حوالے سے واضح گائیڈ لائنز دی ہیں:
پراپرٹی ویلیوایشن: 10 ملین (ایک کروڑ) روپے تک کے ہاؤسنگ لون کے لیے بینک اپنے اندرونی ذرائع سے پراپرٹی کی قیمت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ تاہم ایک کروڑ روپے سے زائد مالیت کے قرضوں کے لیے پی بی اے (PBA) کے منظور شدہ پینل ویلیوایٹر سے جائیداد کی تصدیق کرانا لازمی ہوگا۔
سیکیورٹی اور رہن : فنانس کیا جانے والا گھر یا پلاٹ لازمی طور پر بینک کے پاس رہن رکھا جائے گا۔ 50 لاکھ روپے تک کے کم لاگت والے ہاؤسنگ لون کے لیے پراپرٹی پر Lien مارک کیا جا سکتا ہے جس کے لیے پنجاب لینڈ ریکارڈز اتھارٹی کا جاری کردہ گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ یا متعلقہ صوبائی اتھارٹی کی دستاویز قابلِ قبول ہوگی۔
لازمی انشورنس / تکافل: بینکوں کے لیے لازمی قرار دیا گیا ہے کہ وہ فنانس کی جانے والی پراپرٹی کی کل واجب الادا رقم کے برابر انشورنس یا تکافل کوریج حاصل کریں تاکہ کسی بھی حادثے کی صورت میں شہری کا نقصان نہ ہو۔
قرض کے حصول کے لیے اب تمام درخواست گزاروں کا اسٹیٹ بینک کے الیکٹرانک کریڈٹ انفارمیشن بیورو (e-CIB) یا لائسنس یافتہ پرائیویٹ کریڈٹ بیورو سے تازہ ترین کریڈٹ اسکور چیک کرنا لازمی ہوگا۔






