Skip to main content

اردو خبر

Blogger-b Quora Tiktok Medium Newspaper Instagram Youtube Facebook X Twitter Users
urdu_khabar_logo
Menu
  • قومی نیوز
  • سیاست کی خبریں
  • کھیل کی خبریں
    • کرکٹ نیوز
  • بزنس کی خبریں
    • معیشت کی خبریں
    • ٹیکنالوجی
  • تفریح
    • فلمیں انڈسٹری نیوز
    • موسیقی
  • بین الاقوامی
  • علاقائی خبریں
  • لائف سٹائل نیوز
    • صحت
    • سفر

اسٹیٹ بینک ہاؤسنگ فنانس رولز میں تاریخی تبدیلی: اب دکان، پلاٹ اور مکان کے لیے ملے گا 90 فیصد تک قرضہ

عدیل حسن by عدیل حسن
اگست 20, 2026
in آج کی اہم خبریں – پاکستان اور دنیا کی سرخیاں اور بریکنگ نیوز, پاکستانی معیشت کی خبریں – جی ڈی پی، مہنگائی اور اقتصادی پیش رفت, مالیات
اسٹیٹ بینک ہاؤسنگ فنانس رولز

پاکستان میں اپنا گھر یا جائیداد خریدنے کا خواب دیکھنے والے شہریوں اور مڈل کلاس طبقے کے لیے مرکزی بینک نے ایک بہت بڑی اور انقلابی خوشخبری کا اعلان کر دیا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) نے ہاؤسنگ فنانس کے پرسیڈنشل ریگولیشنز میں بڑے پیمانے پر ترمیم کرتے ہوئے اسٹیٹ بینک ہاؤسنگ فنانس رولز کا نیا اور جامع فریم ورک جاری کر دیا ہے۔

ان نئے قوانین کے تحت اب تمام تجارتی بینک اور ترقیاتی مالیاتی ادارے (DFIs) کسی بھی پراپرٹی کی کل مالیت کا 90 فیصد تک قرضہ (90:10 Loan-to-Value Ratio) فراہم کرنے کے مجاز ہوں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب خریدار کو اپنی جیب سے صرف 10 فیصد رقم ڈاؤن پیمنٹ کے طور پر ادا کرنی ہوگی جبکہ باقی 90 فیصد رقم بینک فنانس کرے گا۔ یہ نئے قوانین فوری طور پر نافذ العمل ہو چکے ہیں اور انہوں نے 2019 سے 2021 کے درمیان جاری ہونے والے تمام پرانے نوٹیفکیشنز کو منسوخ کر دیا ہے۔

قرض کی واپسی کی مدت 30 سال تک بڑھا دی گئی

مرکزی بینک نے پراپرٹی ہولڈرز اور تنخواہ دار طبقے پر ماہانہ اقساط کا بوجھ کم کرنے کے لیے قرض کی واپسی کی زیادہ سے زیادہ مدت (Tenor) کو بڑھا کر 30 سال کر دیا ہے۔ اس طویل المدتی مدت کی وجہ سے اب شہریوں کے لیے ہاؤسنگ لون کی ماہانہ اقساط سستی اور قابلِ برداشت ہو جائیں گی۔

اس نئے فریم ورک کے تحت بینک درج ذیل مقاصد کے لیے ہاؤسنگ لون فراہم کر سکتے ہیں:

مکان، فلیٹ، اپارٹمنٹ یا بنے بنائے پلاٹ کی خریداری کے لیے۔

یہ بھی پڑھیں:   پنجاب پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ بورڈ میں 12 لاکھ روپے تک ماہانہ تنخواہ کی نوکریوں کا اعلان

پہلے سے ملکیتی پلاٹ پر نئے مکان کی تعمیرات کے لیے۔

موجودہ گھر کی توسیع، تزئین و آرائش یا رینوویشن کے لیے۔

گھروں میں سولر سسٹم اور متبادل توانائی کی تنصیب کے لیے۔ (یاد رہے کہ سولر اور گرین انرجی کے لیے قرض کی زیادہ سے زیادہ مدت 10 سال مقرر کی گئی ہے)

قرض لینے کی صلاحیت اور آمدنی کا معیار

اسٹیٹ بینک نے ہاؤسنگ فنانس رولز کو جہاں آسان بنایا ہے وہیں بینکوں کے مالیاتی رسک کو مینیج کرنے کے لیے لون ری پیمنٹ کی سخت حد بھی مقرر کی ہے۔ نئے قوانین کے مطابق، کسی بھی قرض لینے والے شخص کی تمام ماہانہ اقساط (موجودہ ہاؤسنگ لون اور دیگر تمام پرسنل یا کار لون ملا کر) اس کی خالص ڈسپوزایبل آمدنی کے 65 فیصد سے زیادہ نہیں ہونی چاہئیں۔ 

اس کے علاوہ پاکستان کی ایک بڑی آبادی جو غیر رسمی شعبے سے وابستہ ہے اور جن کے پاس تنخواہ کی باقاعدہ سلپ نہیں ہوتی، ان کے لیے بھی بڑی سہولت دی گئی ہے۔ اسٹیٹ بینک نے کمرشل بینکوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ پاکستان بینکس ایسوسی ایشن (PBA) کے منظور شدہ پراکسی ماڈلز استعمال کر کے ایسے شہریوں کی غیر رسمی آمدنی کا اندازہ لگائیں اور انہیں بھی لون کی سہولت فراہم کریں۔

پراپرٹی کی ویلیوایشن، سیکیورٹی اور انشورنس کی شرائط

شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے اسٹیٹ بینک نے جائیداد کی مالیت جانچنے اور سیکیورٹی کے حوالے سے واضح گائیڈ لائنز دی ہیں:

پراپرٹی ویلیوایشن: 10 ملین (ایک کروڑ) روپے تک کے ہاؤسنگ لون کے لیے بینک اپنے اندرونی ذرائع سے پراپرٹی کی قیمت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ تاہم ایک کروڑ روپے سے زائد مالیت کے قرضوں کے لیے پی بی اے (PBA) کے منظور شدہ پینل ویلیوایٹر سے جائیداد کی تصدیق کرانا لازمی ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:  سندھ کا ریلیف پیکیج: ماہی گیروں اور موٹر سائیکل سواروں کے لیے بڑی خوشخبری

سیکیورٹی اور رہن : فنانس کیا جانے والا گھر یا پلاٹ لازمی طور پر بینک کے پاس رہن رکھا جائے گا۔ 50 لاکھ روپے تک کے کم لاگت والے ہاؤسنگ لون کے لیے پراپرٹی پر Lien مارک کیا جا سکتا ہے جس کے لیے پنجاب لینڈ ریکارڈز اتھارٹی کا جاری کردہ گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ یا متعلقہ صوبائی اتھارٹی کی دستاویز قابلِ قبول ہوگی۔

لازمی انشورنس / تکافل: بینکوں کے لیے لازمی قرار دیا گیا ہے کہ وہ فنانس کی جانے والی پراپرٹی کی کل واجب الادا رقم کے برابر انشورنس یا تکافل کوریج حاصل کریں تاکہ کسی بھی حادثے کی صورت میں شہری کا نقصان نہ ہو۔

قرض کے حصول کے لیے اب تمام درخواست گزاروں کا اسٹیٹ بینک کے الیکٹرانک کریڈٹ انفارمیشن بیورو (e-CIB) یا لائسنس یافتہ پرائیویٹ کریڈٹ بیورو سے تازہ ترین کریڈٹ اسکور چیک کرنا لازمی ہوگا۔

عدیل حسن

عدیل حسن

عدیل حسن ایک اقتصادی نامہ نگار ہیں جو کاروباری ترقی اور شہری منڈیوں سے متعلق موضوعات پر لکھتے ہیں۔ ان کی رپورٹنگ ملکی معیشت، تجارتی رجحانات، اور کاروباری مواقع کے تجزیے پر مبنی ہوتی ہے۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ خبریں

یوتھ لون اسکیم میں خواتین کا حصہ

یوتھ لون اسکیم میں خواتین کا حصہ: پاکستانی کاروباری خواتین کے لیے 29 ارب روپے کے قرضے جاری

اگست 20, 2026
بحیرہ احمر میں جہاز پر حملہ

بحیرہ احمر میں جہاز پر حملہ: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی شدید مذمت، زخمیوں اور لاشوں کی پاکستان واپسی

اگست 20, 2026
پی ایم ایس امتحان میں عمر کی رعایت

پی ایم ایس امتحان میں عمر کی رعایت: پنجاب حکومت نے بالائی حد 32 سال کر دی

اگست 20, 2026
ہائیر ایجوکیشن کمیشن بلاک چین کورسز

ہائیر ایجوکیشن کمیشن بلاک چین کورسز: پاکستان بھر کی جامعات میں کرپٹو اور بلاک چین تعلیم کا باقاعدہ آغاز

اگست 20, 2026
اسٹیٹ بینک ہاؤسنگ فنانس رولز

اسٹیٹ بینک ہاؤسنگ فنانس رولز میں تاریخی تبدیلی: اب دکان، پلاٹ اور مکان کے لیے ملے گا 90 فیصد تک قرضہ

اگست 20, 2026
ایس سی او اجلاسوں کی میزبانی

ایس سی او اجلاسوں کی میزبانی: پاکستان کا شاندار انعقاد کے لیے مکمل عزم، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی اہم ہدایات

اگست 20, 2026

اردو خبر ویب سائٹ عوام کے لئے مقامی اور ٹرینڈنگ خبروں کو شیئر کرنے کے لئے بنائی گئی ہے۔ یہاں آپ کیلئے تازہ ترین خبریں ، آراء ، شہ سرخیاں ، کہانیاں ، رجحانات اور بہت کچھ ہے۔ قومی واقعات اور تازہ ترین معلومات کے لئے سائٹ کو براؤز کریں

ہم سے رابطہ کریں
سائٹ کا نقشہ

  ہمارے بارے میں    |    پرائیویسی پالیسی    |    سروس کی شرائط

یوتھ لون اسکیم میں خواتین کا حصہ

یوتھ لون اسکیم میں خواتین کا حصہ: پاکستانی کاروباری خواتین کے لیے 29 ارب روپے کے قرضے جاری

اگست 20, 2026
بحیرہ احمر میں جہاز پر حملہ

بحیرہ احمر میں جہاز پر حملہ: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی شدید مذمت، زخمیوں اور لاشوں کی پاکستان واپسی

اگست 20, 2026
پی ایم ایس امتحان میں عمر کی رعایت

پی ایم ایس امتحان میں عمر کی رعایت: پنجاب حکومت نے بالائی حد 32 سال کر دی

اگست 20, 2026

ہمارے ساتھ رہئے

Blogger-b Quora Tiktok Medium Newspaper Instagram Youtube Facebook X Twitter Users

Add New Playlist

No Result
View All Result
  • Home

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.