پاکستان میں خواتین کو مالیاتی طور پر خودکفیل بنانے صنفی فرق کو ختم کرنے اور نجی شعبے میں ان کی کاروباری صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے حکومتِ پاکستان کے اقدامات رنگ لانے لگے ہیں۔ وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی جانب سے قومی اسمبلی میں جمع کرائے گئے ایک تحریری جواب کے مطابق ملک بھر کی 1 لاکھ 4 ہزار سے زائد نوجوان کاروباری خواتین نے وزیراعظم یوتھ بزنس اینڈ ایگریکلچر لون اسکیم کے تحت مجموعی طور پر 29 ارب روپے کی فنانسنگ حاصل کر لی ہے۔
یہ تفصیلی اعداد و شمار ایم این اے ڈاکٹر نفیسہ شاہ کی جانب سے خواتین کی مالیاتی شمولیت اور مائیکرو انٹرپرینیورز کو درپیش رکاوٹوں کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں سامنے آئے ہیں۔ یہ پیشرفت ثابت کرتی ہے کہ اب پاکستان کی خواتین روایتی گھریلو دائرہ کار سے نکل کر ملکی معیشت کی مینوفیکچرنگ اور تجارتی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں۔
پاکستانی خواتین کی مالیاتی شمولیت اور صنفی فرق میں کمی
وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی رپورٹ کے مطابق مرکزی بینک اور حکومتی پالیسیوں کی بدولت ملک میں خواتین کی مالیاتی شمولیت کے گراف میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے۔ رپورٹ کے اہم ترین معاشی اشاریے درج ذیل ہیں:
مالیاتی شمولیت کی شرح: دسمبر 2025 تک پاکستان میں خواتین کی مالیاتی شمولیت کی مجموعی شرح 55 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔
بینک اکاؤنٹس کا صنفی فرق: بینک اکاؤنٹ کی ملکیت میں مردوں اور عورتوں کے درمیان پایا جانے والا روایتی صنفی فرق گھٹ کر 29 فیصد پر آ گیا ہے۔
تجارتی قرضوں میں حصہ: مارچ 2026 تک کے اعداد و شمار کے مطابق کل تجارتی قرضوں میں خواتین اور ان کے ملکیتی کاروباری اداروں کا حصہ 13 فیصد جبکہ نجی شعبے کے کریڈٹ میں 9 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اگر اس میں مائیکرو فنانس کے قرض داروں کو بھی شامل کر لیا جائے تو یہ حصہ بالترتیب 18 فیصد اور 11 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔
اسٹیٹ بینک کا ویمن انکلوسیو فنانس پروگرام اور ایشیائی ترقیاتی بینک کا تعاون
خواتین کی باقاعدہ بینکنگ نظام تک رسائی کو آسان بنانے کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بھی کئی اہم ریگولیٹری ترامیم متعارف کرائی ہیں۔ ان میں سب سے اہم ویمن انکلوسیو فنانس پروگرام ہے جسے ایشیائی ترقیاتی بینک کی مالی معاونت اور فنڈز سے چلایا جا رہا ہے۔
اس پروگرام کے تحت قائم کردہ خصوصی کریڈٹ لائن کی سہولیات کے ذریعے، شراکت دار مالیاتی اداروں اور بینکوں نے مارچ 2026 تک 546,144 خواتین قرض داروں کو 46 ارب روپے سے زائد کی رقم تقسیم کی ہے۔ یہ فنڈز خواتین کو سستے مارک اپ ریٹس پر ڈیجیٹل اور مینوفیکچرنگ بزنس شروع کرنے کے لیے فراہم کیے گئے ہیں۔
وزیراعظم یوتھ لون اسکیم کا بنیادی ڈھانچہ اور خواتین کا 25 فیصد کوٹہ
نوجوان پاکستانیوں میں انٹرپرینیورشپ (کاروباری رجحان) کو فروغ دینے کے لیے وزیراعظم یوتھ بزنس اینڈ ایگریکلچر لون اسکیم کا باقاعدہ آغاز جنوری 2023 میں کیا گیا تھا۔ اس اسکیم کے اسٹرکچرل قوانین کے تحت یہ لازمی قرار دیا گیا ہے کہ کل قرضوں کا کم از کم 25 فیصد حصہ لازمی طور پر خواتین انٹرپرینیورز کے لیے مختص کیا جائے گا۔
موجودہ مینوفیکچرنگ رولز کے تحت یہ اسکیم اب بھی مکمل طور پر فعال ہے اور تمام اہل خواتین جو اپنا نیا کاروبار شروع کرنا چاہتی ہیں یا پہلے سے موجود سیٹ اپ کو وسعت دینا چاہتی ہیں، وہ آن لائن پورٹل کے ذریعے درخواست دے سکتی ہیں۔ حکومت کا یہ قدم نہ صرف بے روزگاری کا خاتمہ کرے گا بلکہ ڈیجیٹل پاکستان وژن کے تحت خواتین کو بااختیار بنا کر ملکی جی ڈی پی (GDP) کو بڑھانے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔






