حکومتِ سندھ نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیشِ نظر صوبے کے غریب اور متوسط طبقے کے لیے سندھ ریلیف پیکیج کے تحت 30 ارب روپے کے تاریخی امدادی پیکیج کا اعلان کر دیا ہے۔ مئی 2026 کے اس خصوصی پروگرام کے تحت خاص طور پر ماہی گیروں (Fishermen) اور موٹر سائیکل چلانے والے شہریوں کو پیٹرول اور بنیادی ضروریات پر بھاری سبسڈی فراہم کی جائے گی۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے مطابق، اس پیکیج کا مقصد براہِ راست ان افراد تک امداد پہنچانا ہے جو پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔
سندھ ریلیف پیکیج 2026: اہم مراعات کی تفصیل
اس پیکیج کو دو بڑے حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے تاکہ معاشرے کے محروم طبقات کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچایا جا سکے:
ماہی گیروں کے لیے سبسڈی (Fishermen Relief)
سندھ کی ساحلی پٹی پر رہنے والے لاکھوں ماہی گیروں کے لیے انجن کے ایندھن اور مچھلی پکڑنے کے جال پر خصوصی رعایت دی جائے گی۔ حکومت نے ماہی گیروں کے لیے ماہانہ وظیفہ اور ان کی کشتیوں کے لیے رعایتی نرخوں پر پیٹرول فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ان کی روزی روٹی کا سلسلہ جاری رہ سکے۔
موٹر سائیکل سواروں کے لیے پیٹرول سبسڈی
متوسط طبقے کے لیے سب سے بڑا ریلیف موٹر سائیکل سواروں کے لیے ہے۔ رجسٹرڈ موٹر سائیکل مالکان کو مخصوص لیٹر تک پیٹرول پر فی لیٹر 20 سے 30 روپے تک کی سبسڈی دی جائے گی۔ یہ امداد براہِ راست ‘بینظیر انکم سپورٹ پروگرام’ (BISP) کے ڈیٹا یا سندھ حکومت کے اپنے پورٹل کے ذریعے فراہم کی جائے گی۔
اپنا نام رجسٹر کرانے کا مکمل طریقہ
اگر آپ ماہی گیر ہیں یا موٹر سائیکل سوار تو ریلیف پیکیج سے فائدہ اٹھانے کے لیے درج ذیل طریقہ کار پر عمل کریں:
آن لائن پورٹل: سندھ حکومت کے آفیشل ریلیف پورٹل sindh.gov.pk پر جائیں۔
ایس ایم ایس (SMS) سروس: اپنا شناختی کارڈ نمبر مخصوص کوڈ (جو جلد ہی جاری کیا جائے گا) پر بھیج کر اپنی اہلیت چیک کریں۔
دستاویزات کی فراہمی: موٹر سائیکل سواروں کے لیے ضروری ہے کہ گاڑی ان کے اپنے نام پر رجسٹرڈ ہو اور ان کے پاس درست ڈرائیونگ لائسنس موجود ہو۔
تصدیق کا عمل: درخواست جمع کرانے کے بعد، ضلعی انتظامیہ آپ کے کوائف کی تصدیق کرے گی، جس کے بعد آپ کو سبسڈی کارڈ یا کوڈ جاری کر دیا جائے گا۔
پیکیج کی شفافیت اور حکومتی نگرانی
حکومتِ سندھ نے اس 30 ارب روپے کے پیکیج کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم متعارف کرایا ہے۔ محکمہ خزانہ سندھ اس پورے عمل کی نگرانی کر رہا ہے تاکہ کوئی بھی مستحق شخص اس حق سے محروم نہ رہے۔ اس کے علاوہ، شکایات کے ازالے کے لیے صوبائی سطح پر ہیلپ لائن بھی قائم کی جا رہی ہے۔
مزید تازہ خبروں اور اہم معلومات کے لیے Urdu Khabar ضرور دیکھیں۔






