Skip to main content

اردو خبر

Blogger-b Quora Tiktok Medium Newspaper Instagram Youtube Facebook X Twitter Users
urdu_khabar_logo
Menu
  • قومی نیوز
  • سیاست کی خبریں
  • کھیل کی خبریں
    • کرکٹ نیوز
  • بزنس کی خبریں
    • معیشت کی خبریں
    • ٹیکنالوجی
  • تفریح
    • فلمیں انڈسٹری نیوز
    • موسیقی
  • بین الاقوامی
  • علاقائی خبریں
  • لائف سٹائل نیوز
    • صحت
    • سفر

فیشن ایبل زہر: کیا ویپنگ واقعی روایتی سگریٹ کا محفوظ متبادل ہے؟

عروج نیازی by عروج نیازی
اگست 10, 2026
in صحت اور تندرستی – بیماریوں سے بچاؤ، غذائی مشورے اور طبی خبریں
ویپنگ کے نقصانات اور کینسر

کچھ سال پہلے تک جب نوجوانوں کے ہاتھوں میں ویپنگ کے نقصانات اور کینسر کے خدشات سے لاعلمی کے باعث دھوئیں کے بڑے بڑے بادل اڑاتی ہوئی رنگ برنگی اور جدید ڈیزائن کی برقی ڈیوائسز نظر آنا شروع ہوئیں تو اسے ایک انقلابی ایجاد سمجھا گیا۔ اسے ویپ یا ای سگریٹ کا نام دیا گیا اور یہ پروپیگنڈا کیا گیا کہ یہ سگریٹ نوشی چھوڑنے کا سب سے بہترین اور بے ضرر طریقہ ہے۔ اشتہارات اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز نے اس کے پھلوں، چاکلیٹ اور پودینے جیسے دلکش ذائقوں کو اس طرح پیش کیا جیسے یہ کوئی نقصان دہ چیز نہیں بلکہ محض ایک جدید طرزِ زندگی کا حصہ ہے۔ لیکن حال ہی میں سامنے آنے والی ایک مایہ ناز بین الاقوامی طبی تحقیق نے اس خوبصورت سراب کو چکنا چور کر دیا ہے۔ سائنسی شواہد نے یہ ثابت کیا ہے کہ ویپنگ منہ اور پھیپھڑوں کے اندرونی خلیات میں کینسر سے وابستہ ابتدائی جینیاتی اور ساختی تبدیلیاں پیدا کر رہی ہے۔

یہ تحقیق ہمارے لیے ایک سائرن کی مانند ہے جو یہ باور کرواتی ہے کہ ہم جسے ایک بے ضرر دھواں سمجھ کر پھیپھڑوں میں اتار رہے ہیں وہ دراصل کینسر جیسے موذی مرض کا بچھا ہوا ابتدائی جال ہے۔

نئی طبی تحقیق کا بنیادی نچوڑ اور سائنسی حقائق

بین الاقوامی طبی جریدوں میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں جدید مالیکیولر اور جینیاتی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ای سگریٹ پینے والے افراد کے منہ کے اندرونی حصوں اور پھیپھڑوں کے خلیات کا گہرا مطالعہ کیا گیا۔ سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ جو لوگ باقاعدگی سے ویپنگ کرتے ہیں ان کے خلیات کے ڈی این اے (DNA) میں وہی مخصوص تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں جو ایک روایتی سگریٹ پینے والے شخص کے جسم میں کینسر کی شروعات سے پہلے دیکھی جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  پیٹ کی گیس ختم کرنے کے دیسی نسخے

خلیات کے اندر ہونے والی اس تبدیلی کو طبی زبان میں ایپی جینیٹک الٹریشن کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ ویپنگ کرنے سے فوری طور پر خلیات مرتے نہیں ہیں، لیکن ان کے کام کرنے کا قدرتی طریقہ کار بدل جاتا ہے۔ خلیات کا یہ بدلا ہوا رویہ مستقبل میں انہیں کینسر کی رسولیوں میں تبدیل کرنے کے لیے بنیاد فراہم کرتا ہے۔ سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ یہ تبدیلیاں منہ کے حصوں اور پھیپھڑوں کے ان راستوں میں پائی گئیں جہاں سے ویپ کا کیمیکل آمیز دھواں براہِ راست گزرتا ہے۔

ذائقوں کے پیچھے چھپا کیمیکلز کا مہلک کھیل

عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ویپ میں صرف پانی کا دھواں اور ہلکی سی نیکوٹین ہوتی ہے اس لیے یہ نقصان دہ نہیں ہے۔ یہ ایک انتہائی خطرناک مفروضہ ہے۔ ویپ کے اندر موجود مائع کو جب برقی کوائل کے ذریعے گرم کیا جاتا ہے تو وہ صرف دھواں نہیں بنتا بلکہ ایک پیچیدہ کیمیکل ایروسول میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اس مائع میں درج ذیل انتہائی خطرناک اجزاء شامل ہوتے ہیں:

پروپیلین گلائیکول اور گلیسرین: یہ وہ کیمیکلز ہیں جو دھواں پیدا کرنے کے لیے بنیادی سالوینٹ کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ جب انہیں تیز درجہ حرارت پر گرم کیا جاتا ہے، تو یہ فارملڈیہائڈ (Formaldehyde) جیسے کینسر پیدا کرنے والے زہر میں بدل جاتے ہیں۔

مصنوعی فلیورز: پودینے، آم، اسٹرابیری اور دیگر ذائقوں کو بنانے کے لیے جو کیمیکلز استعمال کیے جاتے ہیں وہ کھانے کے لیے تو شاید محفوظ ہوں، لیکن پھیپھڑوں کے اندر سانس کے ذریعے لے جانے کے لیے شدید نقصان دہ ہیں۔ مثال کے طور پر ‘ڈائی ایسیٹائل’ نامی کیمیکل پھیپھڑوں کی نالیوں کو مستقل طور پر بند کرنے والی بیماری ‘پاپ کارن لنگ’ کا باعث بنتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  اسلام آباد / راولپنڈی میں ڈینگی کے مزید 8 کیس مثبت آگئے

بھاری دھاتیں : ویپنگ ڈیوائس کے اندر موجود گرم ہونے والی دھاتی کوائل سے نکلنے والے باریک ذرات جیسے کہ نکل، کیڈمیم، اور لیڈ (سیسہ) دھوئیں کے ساتھ براہِ راست کینسر کی شکل میں پھیپھڑوں کی گہرائیوں میں جا کر جم جاتے ہیں۔

نوجوان نسل: اس پوشیدہ وباء کا سب سے آسان ہدف

اگر ہم اپنے اردگرد خصوصاً پاکستان کے بڑے شہروں جیسے لاہور، کراچی اور اسلام آباد کے تعلیمی اداروں اور کیفے کلچر پر نظر دوڑائیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ یہ برقی سگریٹ ہمارے اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبہ میں ایک وباء کی طرح پھیل چکی ہے۔ مینوفیکچررز نے جان بوجھ کر ان ڈیوائسز کو یو ایس بی (USB) ڈرائیو یا فینسی گجٹس جیسا ڈیزائن دیا ہے تاکہ نوجوان اسے فیشن کی علامت سمجھیں اور والدین یا اساتذہ کی نظروں سے بھی چھپا سکیں گے۔

اس وقت ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ روایتی سگریٹ پینے والے کو تو حقارت یا تشویش کی نظر سے دیکھا جاتا ہے، لیکن ہاتھ میں ویپ پکڑ کر دھواں اڑانے والے نوجوان کو ‘کول’ (Cool) یا جدید سمجھا جاتا ہے۔ یہی وہ سماجی قبولیت ہے جو ہماری نوجوان نسل کو آہستہ آہستہ موت کے منہ میں دھکیل رہی ہے۔ نیکوٹین کی لت اتنی شدید ہوتی ہے کہ اس کی جکڑ میں آنے کے بعد نوجوانوں کے دماغی افعال، توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت اور موڈ میں شدید تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔

عالمی سطح پر اٹھائے جانے والے اقدامات اور سدِباب

اس نئی تحقیق کے سامنے آنے کے بعد دنیا بھر کے طبی ماہرین اور عالمی ادارہ صحت (WHO) نے ای سگریٹ پر سخت پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ تیز کر دیا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک، بشمول بھارت، برازیل اور کئی یورپی ممالک نے پہلے ہی ویپنگ مصنوعات کی فروخت اور درآمد پر مکمل پابندی عائد کر رکھی ہے۔ امریکہ اور برطانیہ جیسے ممالک میں فلیورڈ ویپس پر پابندیاں لگانے کے قوانین منظور کیے جا رہے ہیں تاکہ بچوں کو اس کی کشش سے دور رکھا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں:  چائنہ ویکسن 75 فیصد موثر ہے، ڈاکٹر فیصل

پاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہاں تاحال ویپنگ کی ریگولیشن کے حوالے سے کوئی سخت قوانین موجود نہیں ہیں۔ یہ مصنوعات ہر چھوٹی بڑی دکان، آن لائن اسٹورز اور شاپنگ مالز میں بغیر کسی عمر کی تصدیق کے کھلے عام فروخت ہو رہی ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ حکومتِ پاکستان اور وزارتِ صحت اس نئی طبی تحقیق کی روشنی میں فوری طور پر ایک جامع پالیسی وضع کریں۔

اس نئی طبی تحقیق نے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں کر دی ہے کہ ویپنگ سگریٹ کا کوئی محفوظ متبادل نہیں ہے بلکہ یہ کینسر کے سفر کا ایک مختلف راستہ ہے۔ منہ اور پھیپھڑوں کے خلیات میں ہونے والی یہ ابتدائی تبدیلیاں اس بات کی گواہی ہیں کہ جسم کے اندر خاموشی سے ایک لاوا پک رہا ہے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔

ہمیں بطور معاشرہ، والدین اور اساتذہ اپنی ذمہ داریوں کو پہچاننا ہوگا۔ ہمیں اپنے بچوں کو یہ سمجھانا ہوگا کہ دھوئیں کے ان خوشبودار بادلوں کے پیچھے کینسر کا ایک بھیانک چہرہ چھپا ہوا ہے۔ فیشن اور جدت کے نام پر اپنی صحت کا سودا کرنا سراسر نادانی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس کی اشتہار بازی پر فوری پابندی لگائے اور تعلیمی اداروں کے اردگرد اس کی فروخت کو جرم قرار دے۔ یاد رکھیے، صحت مند پھیپھڑے ہی ایک صحت مند قوم کی ضمانت ہوتے ہیں۔

عروج نیازی

عروج نیازی

عروج نیازی ایک تعلیم اور صحت سے متعلق رپورٹر ہیں جو ماحولیاتی آگاہی، امراض، آلودگی اور تعلیمی ترقی جیسے اہم موضوعات پر لکھتی ہیں۔ ان کی تحریریں معاشرتی بہتری اور عوامی فلاح کے پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہیں۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ خبریں

نیوکلیئر سائنس اولمپیاڈ میڈلز

نیوکلیئر سائنس اولمپیاڈ میڈلز: پاکستانی طلبہ نے جدہ میں تاریخ رقم کر دی

اگست 10, 2026
مقامی لوگوں کے حقوق کا تحفظ

مقامی لوگوں کے حقوق کا تحفظ: صدر زرداری کا عالمی برادری کے نام اہم پیغام

اگست 10, 2026
ویپنگ کے نقصانات اور کینسر

فیشن ایبل زہر: کیا ویپنگ واقعی روایتی سگریٹ کا محفوظ متبادل ہے؟

اگست 10, 2026
حج 2027 پیکیجز کا اعلان

حج 2027 پیکیجز کا اعلان: طویل اور شارٹ حج کی قیمتیں اور اہم پالیسی اصلاحات

اگست 10, 2026
لاہور میٹرو بس سروس معطلی

لاہور میٹرو بس سروس معطلی: فنڈز اور ایندھن کے تنازع پر 11 اگست سے آپریشنز بند کرنے کا اعلان

اگست 10, 2026
مکہ دفاعی معاہدہ کی تفصیلات

مکہ دفاعی معاہدہ کی تفصیلات: ترکیہ کا بڑا انکشاف اور علاقائی اثرات

اگست 10, 2026

اردو خبر ویب سائٹ عوام کے لئے مقامی اور ٹرینڈنگ خبروں کو شیئر کرنے کے لئے بنائی گئی ہے۔ یہاں آپ کیلئے تازہ ترین خبریں ، آراء ، شہ سرخیاں ، کہانیاں ، رجحانات اور بہت کچھ ہے۔ قومی واقعات اور تازہ ترین معلومات کے لئے سائٹ کو براؤز کریں

ہم سے رابطہ کریں
سائٹ کا نقشہ

  ہمارے بارے میں    |    پرائیویسی پالیسی    |    سروس کی شرائط

نیوکلیئر سائنس اولمپیاڈ میڈلز

نیوکلیئر سائنس اولمپیاڈ میڈلز: پاکستانی طلبہ نے جدہ میں تاریخ رقم کر دی

اگست 10, 2026
مقامی لوگوں کے حقوق کا تحفظ

مقامی لوگوں کے حقوق کا تحفظ: صدر زرداری کا عالمی برادری کے نام اہم پیغام

اگست 10, 2026
ویپنگ کے نقصانات اور کینسر

فیشن ایبل زہر: کیا ویپنگ واقعی روایتی سگریٹ کا محفوظ متبادل ہے؟

اگست 10, 2026

ہمارے ساتھ رہئے

Blogger-b Quora Tiktok Medium Newspaper Instagram Youtube Facebook X Twitter Users

Add New Playlist

No Result
View All Result
  • Home

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.