کوئٹہ: مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکہ/اسرائیل کے مابین جاری حالیہ کشیدگی اور ہرمز کی ناکہ بندی نے پاکستان کے رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے بلوچستان کو براہِ راست متاثر کیا ہے۔ پاکستان اور ایران کے مابین 900 کلومیٹر طویل پورٹس بارڈر (Porous Border) جڑا ہوا ہے جو بلوچستان کے مکران اور رخشان ڈویژن کو ایرانی صوبے سیستان و بلوچستان سے ملاتا ہے۔ ایران کا یہ علاقائی تنازع نہ صرف پاک ایران سرحد اور بلوچستان کی سلامتی کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر رہا ہے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان اربوں ڈالر کی بارڈر ٹریڈ کو بھی ایک نئے اسٹریٹجک موڑ پر لے آیا ہے۔
بلوچستان کی سیکیورٹی پر ایران تنازع کے اثرات اور عسکریت پسندی
ایران میں اندرونی ابتری یا بیرونی فوجی دباؤ کا سب سے پہلا اثر بارڈر مینجمنٹ پر پڑتا ہے۔ سیکیورٹی ماہرین کے مطابق ایران کی سرحد پر نگرانی کمزور ہونے سے اس خطے میں سرگرم عسکریت پسند تنظیموں جیسے بلوچ لبریشن آرمی (BLA) اور دیگر کالعدم تنظیموں کو فائدہ پہنچنے کا خدشہ ہے۔ ماضی میں بھی پاکستان نے ایران کے سرحدی علاقوں (جیسے سراوان) میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا۔
سرحدی سیکیورٹی پر پڑنے والے اثرات درج ذیل ہیں:
عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت: ایرانی سرحد کی کمزور نگرانی کے باعث دہشت گردوں کو کراس بارڈر نقل و حرکت اور دوبارہ منظم ہونے کا موقع مل سکتا ہے۔
داعش (ISKP) کا خطرہ: ایران میں عدم استحکام سے داعش خراسان جیسے شدت پسند گروہ بلوچستان میں اپنے نیٹ ورک کو مضبوط کر سکتے ہیں۔
سیکیورٹی وسائل پر دباؤ: پاک فوج اور فرنٹیئر کونسٹیبلری (FC) کو افغان سرحد کے ساتھ ساتھ اب مغربی سرحد پر بھی غیر معمولی نفری تعینات کرنی پڑ رہی ہے۔
پاک ایران بارڈر ٹریڈ اور پٹرولیم کی سپلائی میں خلل
سیکیورٹی کے بعد دوسرا بڑا دھچکا تجارتی شعبے کو لگا ہے۔ پاکستان اور ایران کے مابین سالانہ غیر رسمی اور رسمی تجارت کا حجم تقریباً 3 ارب ڈالر ہے۔ بلوچستان کی پوری ساحلی پٹی اور مکران ڈویژن کا دارومدار ایرانی مصنوعات بالخصوص سستے پٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی (LPG) پر ہے۔ روزانہ تقریباً 4,000 ٹن ایرانی ایندھن بلوچستان کے راستے پاکستان میں داخل ہوتا ہے۔ ایران میں ریفائنریوں پر حملوں یا سپلائی چین متاثر ہونے کی صورت میں بلوچستان میں سستے پٹرول کی سپلائی بند ہو سکتی ہے جس سے مقامی ٹرانسپورٹیشن اور روزگار بری طرح متاثر ہوگا۔
اس کے علاوہ مکران کا خطہ اپنی 70 فیصد سے زائد بجلی کی ضروریات (تقریباً 142 میگاواٹ) کے لیے ایرانی گرڈ پر انحصار کرتا ہے۔ ایرانی پاور انفراسٹرکچر پر حملوں کی صورت میں مکران ڈویژن میں شدید بلیک آؤٹ کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔
حالیہ سفارتی کوششیں اور سڑک کے راستے نئی تجارتی راہداریاں
ان تمام چیلنجز کے باوجود، حالیہ ہفتوں میں اسلام آباد اور تہران کے مابین اعلیٰ سطح کے سفارتی رابطوں میں تیزی آئی ہے۔ جولائی 2026 میں ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا جہاں انہوں نے پاکستانی ہم منصب محسن نقوی اور وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقاتیں کیں۔ دونوں ممالک نے کاؤنٹر ٹیررازم، بارڈر سیکیورٹی اور منشیات کی اسمگلنگ روکنے کے لیے ایک مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق کیا ہے۔
سمندری تجارتی راستوں (Strait of Hormuz) پر ناکہ بندی کے باعث پاکستان نے ایران کے لیے زمینی راستے کھول دیے ہیں۔ گوادر، کراچی اور پورٹ قاسم سے گبد اور تفتان بارڈر کراسنگز کے ذریعے روزانہ سینکڑوں مال بردار ٹرکوں کی آمد و رفت جاری ہے جس کا مقصد زرعی تجارت کو 5 ارب ڈالر تک لے جانا ہے۔ اگر حکومتِ پاکستان ان زمینی راہداریوں کو محفوظ بنا لیتی ہے اور مقامی بلوچ آبادی کو اس تجارت میں اسٹیک ہولڈر بناتی ہے تو ایران کا یہ بحران بلوچستان کے لیے ایک بڑی معاشی موقع میں بھی بدل سکتا ہے۔






