اکیسویں صدی کے وسط میں عالمی منظرنامے پر ایک ایسا خاموش لیکن انتہائی گہرا بحران سر اٹھا رہا ہے جو دنیا کے معاشی اور سیاسی نقشے کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ چیلنج دنیا بھر کی آبادی کا تیزی سے بوڑھا ہونا ہے۔ جاپان، جرمنی، اٹلی، جنوبی کوریا اور حتیٰ کہ چین جیسے بڑے معاشی پاور ہاؤسز اس وقت گرتی ہوئی شرحِ پیدائش اور بڑھتی ہوئی لائف ایکسپیکٹینسی (عمر کی میعاد) کے دوہرے جال میں پھنس چکے ہیں ۔ ان ممالک میں ریٹائرڈ بزرگوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جبکہ کام کرنے والی فعال افرادی قوت مسلسل سکڑتی جا رہی ہے ۔ اس کے بالکل برعکس پاکستان ایک ایسے سحر انگیز آبادیاتی موڑ پر کھڑا ہے جہاں اس کی تقریباً 60 فیصد سے زائد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اور ملک کی اوسط عمر محض 21 سال ہے ۔
یہ بدلتی ہوئی عالمی آبادیاتی تبدیلیاں پاکستان کے لیے کوئی بوجھ یا بحران نہیں بلکہ ایک ایسا تاریخی اور سنہری معاشی ٹکٹ ہیں جو اگر درست حکمتِ عملی سے استعمال کیا جائے تو ملک کو دنیا کا اگلا ہیومن ریسورس بیک بون بنا سکتا ہے ۔ اگر پاکستان نے وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے طویل مدتی منصوبہ بندی کی تو وہ دنیا بھر کی لیبر مارکیٹ کا سب سے بڑا مرکز بن کر ابھر سکتا ہے ۔
بوڑھی ہوتی دنیا اور عالمی لیبر مارکیٹ کا سنگین بحران
بین الاقوامی اداروں اور ورلڈ اکنامک فورم کی رپورٹس واضح کرتی ہیں کہ ترقی یافتہ ممالک میں ہنر مند افرادی قوت کی کمی (Labor Shortage) اس وقت ان کی صنعتی پیداوار اور معاشی شرحِ نمو کو کھا رہی ہے ۔ جرمنی کو اپنی مینوفیکچرنگ اور انجینئرنگ انڈسٹری کو پٹری پر رکھنے کے لیے سالانہ لاکھوں بیرونی ورکرز کی ضرورت ہے جاپان کو معمر آبادی کی دیکھ بھال کے لیے لاکھوں ہیلتھ کیئر ورکرز درکار ہیں جبکہ برطانیہ اور خلیجی ممالک تعمیرات، ہوا بازی، لاجسٹکس اور ہائی ٹیک سروسز میں افرادی قوت کی شدید قلت کا سامنا کر رہے ہیں ۔
ان حالات میں ان ممالک کے پاس بیرونی دنیا سے ٹیلنٹ اور لیبر برآمد کرنے کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں بچا. یہ وہ بین الاقوامی خلا ہے جہاں پاکستان کا یوتھ بلج (نوجوانوں کی کثرت) دنیا کی پہلی ترجیح بن سکتا ہے ۔ یہ عالمی آبادیاتی تبدیلیاں پاکستان کو یہ نادر موقع فراہم کرتی ہیں کہ وہ روایتی مصنوعات جیسے ٹیکسٹائل یا زرعی اجناس کی برآمدات پر انحصار کم کرے اور اپنے سب سے قیمتی اثاثے یعنی انسانی سرمائے (Human Capital) کی بین الاقوامی برآمد پر توجہ مرکوز کرے ۔
ڈیجیٹل اکانومی اور فری لانسنگ میں پاکستان
ٹیکنالوجی کے میدان میں پاکستان کے نوجوان پہلے ہی اپنی بے پناہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کر رہے ہیں. پاکستان عالمی سطح پر فری لانسنگ اور ڈیجیٹل سروسز فراہم کرنے والی بڑی مارکیٹس میں شمار ہوتا ہے ۔ بین الاقوامی کلائنٹس پاکستانی ڈویلپرز، سافٹ ویئر انجینئرز اور گرافک ڈیزائنرز کو ان کی لچک مختلف ٹائم زونز میں دستیابی اور کم لاگت میں اعلیٰ معیار کے کام کی وجہ سے ترجیح دیتے ہیں ۔
تاہم موجودہ عالمی طلب کو دیکھتے ہوئے ہمیں صرف انفارمیشن ٹیکنالوجی تک محدود نہیں رہنا چاہیے ۔ دنیا کو اس وقت صرف کوڈرز کی ضرورت نہیں بلکہ انہیں نرسوں، طبی عملے، الیکٹریشنز، پلمبرز، سول ٹیکنیشنز اور لاجسٹکس مینیجرز کی بھی اشد ضرورت ہے ۔ پاکستان کو اپنی تعلیمی اور ٹیکنیکل پالیسیوں کو ہنگامی بنیادوں پر ان عالمی تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ہوگا ۔ ہمارے فنی تعلیمی اداروں (جیسے ٹیوٹا اور نیوٹیک) کو اپنی ڈگریوں اور سرٹیفیکیشنز کو بین الاقوامی معیار کے مطابق اپ گریڈ کرنا ہوگا تاکہ پاکستانی نوجوان براہِ راست عالمی اداروں میں ملازمت حاصل کرنے کے اہل ہو سکیں۔
قانونی راستوں کی فراہمی اور ‘ڈونکی روٹ’ کا مستقل خاتمہ
ہر سال پاکستان کے ہزاروں باصلاحیت نوجوان یورپ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک پہنچنے کے لیے انسانی اسمگلروں کے ہتھے چڑھ کر اپنی زندگی اور جمع پونجی داؤ پر لگا دیتے ہیں ۔ غیر قانونی طور پر سرحدیں عبور کرنے کا یہ خطرناک عمل، جسے مقامی زبان میں ‘ڈونکی روٹ’ (Dunki Route) کہا جاتا ہے نہ صرف بڑے انسانی المیوں کو جنم دیتا ہے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے پاسپورٹ اور برانڈ امیج کو بھی شدید نقصان پہنچاتا ہے ۔
حکومتِ پاکستان کو اس قیمتی افرادی قوت کو ایجنٹوں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے بجائے ریاستی سطح پر ان کی قانونی اور محفوظ ہجرت کا انتظام کرنا ہوگا ۔ اس سلسلے میں سعودی عرب کے ساتھ کیا جانے والا ‘تکامول’ (Takamol) اسکلز ویریفکیشن پروگرام ایک شاندار اور قابلِ تقلید مثال ہے جس کے تحت پاکستانی ورکرز کو سعودی عرب کی ضرورت کے مطابق تصدیق شدہ اسناد فراہم کی جاتی ہیں۔ پاکستان کو جرمنی، جاپان، برطانیہ اور یورپی یونین کے دیگر ممالک کے ساتھ براہِ راست گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ (G2G) معاہدے کرنے چاہئیں تاکہ ہمارے نوجوان باوقار طریقے سے بیرونِ ملک جا کر ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ بھیج سکیں ۔
آٹومیشن اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا بڑھتا ہوا چیلنج
پاکستان کے لیے سبے اہم ترین نکتہ یہ سمجھنا ہے کہ یہ آبادیاتی موقع یا ڈیموگرافک ونڈو ہمیشہ کے لیے کھلی نہیں رہے گی ۔ آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI)، روبوٹکس اور آٹومیشن کی تیز رفتار پیش رفت بوڑھے ہوتے ہوئے ممالک کو ایک مضبوط متبادل فراہم کر رہی ہے ۔ اگر جاپان، یورپ یا چین نے اپنے لیبر کرائسز کو روبوٹس اور اے آئی کے ذریعے مستقل طور پر حل کر لیا تو مستقبل میں انسانی لیبر کی مانگ دنیا بھر میں نہ ہونے کے برابر رہ جائے گی ۔
لہذا پاکستان کے پاس عمل کرنے اور پالیسیاں بدلنے کے لیے صرف اگلی ایک یا دو دہائیاں ہی باقی ہیں۔ اگر ہم نے اب بھی روایتی سستی کا مظاہرہ کیا، تعلیم اور صحت کے بجٹ میں انقلابی اضافہ نہ کیا اور اپنے نوجوانوں کو جدید زبانوں (جیسے جرمن، جاپانی، کورین) اور فیوچر اسکلز سے آراستہ نہ کیا تو یہ عظیم یوتھ بلج ایک معاشی اثاثہ بننے کے بجائے بے روزگاری، جرائم اور معاشرتی بے چینی کا ایک ایسا ٹائم بم بن جائے گا جسے سنبھالنا ناممکن ہوگا ۔
اب نہیں تو کبھی نہیں
پاکستان ماضی میں زرعی انقلاب کی دوڑ میں ویلیو ایڈیشن نہ کرنے صوبائی چپقلش اور غیر مستقل پالیسیوں کی وجہ سے عالمی سطح پر ایک بڑی زرعی معیشت بننے کا موقع گنوا چکا ہے۔ اب قدرت نے پاکستان کو اپنی نوجوان افرادی قوت کی شکل میں ترقی کا دوسرا اور سب سے بڑا موقع فراہم کیا ہے ۔ یہ بدلتی ہوئی عالمی آبادیاتی تبدیلیاں پاکستان کو پکار رہی ہیں کہ وہ عالمی ورک پلیسز اور انٹرنیشنل بورڈ رومز میں اپنا حق تسلیم کروائے ۔
اگر حکومت، نجی شعبہ، یونیورسٹیاں اور اسٹارٹ اپس مل کر ایک مربوط اور جدید قومی جدت پسندی کا نظام تشکیل دیں تو کوئی وجہ نہیں کہ آنے والے ایک دہائی میں دنیا کی بڑی بڑی فارچیون 500 کمپنیوں کی قیادت پاکستانی نوجوان نہ کر رہے ہوں۔ یہ وقت سست بیانیوں سے نکل کر ہنگامی بنیادوں پر فیصلے کرنے کا ہے کیونکہ تاریخ بار بار ایسے سنہری مواقع دہلیز پر لا کر نہیں دیتی ۔






