پاکستان میں گاڑیوں کے شوقین افراد کے لیے گزشتہ چند سال بڑی گاڑیوں اور ایس یو ویز (SUVs) کے نام رہے ہیں، لیکن آج یعنی 23 اپریل 2026 کی صبح پاکستانی شورومز پر پاکستانی کار مارکیٹ میں تبدیلی واضح طور پر دیکھی جا رہی ہے۔ وہ خریدار جو کبھی بڑے انجن اور پر تعیش فیچرز کے پیچھے بھاگتے تھے اب وہ ایندھن کی بچت اور بجٹ کے مطابق چھوٹی گاڑیوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اس رجحان نے یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا پاکستان میں اب ایس یو وی کا دور ختم ہونے والا ہے؟
کیا ایس یو وی کا دور ختم ہو گیا؟
پاکستان میں آٹوموبائل کی صنعت ہمیشہ سے معاشی اتار چڑھاؤ کے زیرِ اثر رہی ہے۔ تاہم حالیہ مہینوں میں پاکستانی کار مارکیٹ میں تبدیلی محض ایک اتفاق نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی معاشی ضرورت بن چکی ہے۔ خریداروں کا ایس یو ویز سے ہیچ بیکس کی طرف جھکاؤ ظاہر کرتا ہے کہ اب گاڑی صرف ایک اسٹیٹس سمبل نہیں بلکہ روزمرہ کی ضرورت بنتی جا رہی ہے۔
ایندھن کی قیمتیں اور معاشی محرکات
اس تبدیلی کا سب سے بڑا محرک پیٹرول کی عالمی اور مقامی قیمتیں ہیں۔ وزارتِ خزانہ کی رپورٹس کے مطابق توانائی کے اخراجات میں اضافے نے خریداروں کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ ایسی گاڑیوں کا انتخاب کریں جن کا رننگ کاسٹ (Running Cost) کم ہو۔
ایک عام ایس یو وی شہر کے اندر 8 سے 10 کلومیٹر فی لیٹر کی ایوریج دیتی ہے جبکہ جدید ہیچ بیکس 18 سے 22 کلومیٹر فی لیٹر تک فراہم کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب شورومز پر فورچیونر یا اسپورٹیج کے بجائے آلٹو، سوئفٹ اور کلٹس کی طلب میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
حکومتی ٹیکسز اور نئی آٹو پالیسی
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے 1500cc سے زائد انجن والی گاڑیوں پر بھاری لگژری ٹیکس عائد کر رکھا ہے جس نے بڑی گاڑیوں کی قیمتوں کو آسمان سے باتیں کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ دوسری جانب انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ (EDB) کی نئی پالیسیز کے تحت چھوٹی اور مقامی سطح پر تیار ہونے والی گاڑیوں کو مراعات دی جا رہی ہیں۔ ان پالیسیوں کی وجہ سے پاکستانی کار مارکیٹ میں تبدیلی آئی ہے اور لوگ اب سیڈان یا بڑی کراس اوورز کے بجائے ایسی گاڑیوں میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں جو ٹیکس کے لحاظ سے سستی پڑتی ہیں۔
شہری ٹریفک اور پارکنگ کے عملی مسائل
ٹیکنالوجی اور ڈیزائن سے ہٹ کر عملی زندگی کے مسائل بھی اس تبدیلی کی وجہ ہیں۔ لاہور، کراچی اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں ٹریفک کا بڑھتا ہوا دباؤ بڑی گاڑیوں کے لیے ایک ڈراؤنا خواب بن چکا ہے۔ ہیچ بیکس اپنی کم جگہ گھیرنے کی صلاحیت کی وجہ سے تنگ گلیوں اور رش والے علاقوں میں زیادہ کامیاب ثابت ہو رہی ہیں۔ پارکنگ کی جگہ کی کمی نے بھی خریداروں کے ذہنوں میں یہ بات بٹھا دی ہے کہ شہر کے لیے چھوٹی گاڑی ہی بہترین انتخاب ہے۔
مزید اہم اپڈیٹس اور خبروں کے لیے Urdu Khabar وزٹ کریں






