آج، 25 اپریل 2026، ستھرا پنجاب ہڑتال کے باعث پنجاب کے بڑے شہروں کی گلیاں اور بازار ایک سنگین صورتحال کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے فلیگ شپ پروگرام ‘ستھرا پنجاب’ کو اس وقت ایک بڑے بحران کا سامنا ہے کیونکہ صوبے بھر کے صفائی کارکن (Sanitary Workers) اپنی تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف ہڑتال پر ہیں۔ یہ احتجاج صرف چند افراد کا نہیں بلکہ اس پورے نظام کے خلاف ہے جو شہروں کو تو صاف دیکھنا چاہتا ہے لیکن ان ہاتھوں کو معاوضہ دینے میں ناکام ہے جو اسے صاف رکھتے ہیں
پنجاب حکومت نے ‘ستھرا پنجاب’ مہم کا آغاز صوبے کو کوڑے سے پاک کرنے کے لیے کیا تھا، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آ رہے ہیں۔ ستھرا پنجاب ہڑتال کی اصل وجہ ویسٹ مینجمنٹ کمپنیوں (LWMC, MWMC وغیرہ) کی جانب سے ورکرز کو گزشتہ دو سے تین ماہ کی تنخواہوں کی ادائیگی نہ کرنا ہے۔ جب ان محنت کشوں کے گھروں میں فاقوں کی نوبت آئی تو انہوں نے جھاڑو چھوڑ کر سڑکوں پر نکلنے کا فیصلہ کیا۔
ورکرز کے مطالبات اور تنخواہوں کا بحران
صفائی کارکنوں کا کہنا ہے کہ وہ شدید گرمی اور نامساعد حالات میں کام کرتے ہیں، لیکن انہیں نہ تو وقت پر تنخواہ ملتی ہے اور نہ ہی کوئی طبی تحفظ حاصل ہے۔ محکمہ لوکل گورنمنٹ پنجاب کے ریکارڈ کے مطابق ہزاروں ورکرز ڈیلی ویجز (Daily Wages) پر کام کر رہے ہیں جنہیں مستقل کرنے کا وعدہ تاحال پورا نہیں ہو سکا۔
ورکرز کے بنیادی مطالبات درج ذیل ہیں:
واجب الادا تنخواہوں کی فوری ادائیگی۔
طویل عرصے سے کام کرنے والے کچے ملازمین کو مستقل کرنا۔
کام کے دوران حفاظتی کٹس (دستانے، ماسک وغیرہ) کی فراہمی۔
عوامی صحت پر اثرات اور گندگی کا طوفان
اس ستھرا پنجاب ہڑتال کی وجہ سے لاہور، ملتان اور فیصل آباد جیسے شہروں میں کوڑے کے ڈھیر لگ چکے ہیں۔ اگر یہ تعطل مزید ایک دو دن برقرار رہا تو شدید گرمی کی وجہ سے تعفن پھیلے گا جس سے ڈینگی، ہیضہ اور سانس کی بیماریاں پھیلنے کا خدشہ ہے۔ شہری اس وقت دوہری مشکل میں ہیں ایک طرف گندگی اور دوسری طرف میونسپل سروسز کا مکمل تعطل۔
حکومتِ پنجاب کے آفیشل پورٹل Punjab.gov.pk پر اس حوالے سے کئی شکایات درج کی جا رہی ہیں لیکن تاحال ویسٹ مینجمنٹ کمپنیوں اور ورکرز یونین کے درمیان مذاکرات کسی منطقی انجام تک نہیں پہنچ سکے ہیں۔
حکومتِ پنجاب کا موقف اور ممکنہ حل
حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ فنڈز کے اجرا میں کچھ تکنیکی رکاوٹیں تھیں جنہیں دور کیا جا رہا ہے۔ تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ جب تک ‘ستھرا پنجاب’ جیسے بڑے پروجیکٹس میں ورکرز کے حقوق کو ترجیح نہیں دی جائے گی ایسے بحران بار بار پیدا ہوتے رہیں گے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ٹھیکیداری نظام کے بجائے براہِ راست ادائیگیوں کا ایسا شفاف نظام بنائے کہ محنت کشوں کو سڑکوں پر نہ آنا پڑے۔
مزید تازہ خبریں اور اہم اپڈیٹس کے لیے Urdu Khabar ضرور وزٹ کریں۔






