آج، 25 اپریل 2026، پاکستان کرکٹ کے لیے ایک ایسا دن ہے جب ظفر گوہر انگلینڈ منتقل ہونے کے باعث اسے تاریخ میں ٹیلنٹ کے ضیاع کے عنوان سے یاد رکھا جائے گا۔ باصلاحیت لیفٹ آرم اسپنر ظفر گوہر نے باضابطہ طور پر انگلینڈ کی شہریت اختیار کرنے اور وہاں کی قومی ٹیم کے لیے دستیاب ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ خبر محض ایک کھلاڑی کے ملک چھوڑنے کی نہیں بلکہ اس گہرے نظاماتی زوال کی عکاسی ہے جس نے پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔
پاکستان کرکٹ میں ٹیلنٹ کی کبھی کمی نہیں رہی لیکن اس ٹیلنٹ کو سنبھالنے والے ہاتھ ہمیشہ سے انا پرستی اور سیاست کا شکار رہے ہیں۔ Zafar Gohar Defects to England محض ایک سرخی نہیں بلکہ ان تمام کھلاڑیوں کی آواز ہے جنہیں ڈومیسٹک کرکٹ میں خون پسینہ بہانے کے باوجود سلیکٹرز کے متکبرانہ رویوں نے دیوار سے لگا دیا۔ ظفر گوہر جنہوں نے انگلینڈ کی کاؤنٹی کرکٹ میں اپنی اسپن باؤلنگ سے بلے بازوں کو تگنی کا ناچ نچایا، پی سی بی کی ترجیحات میں کبھی جگہ نہ بنا سکے۔
کاؤنٹی میں شاندار کارکردگی اور پی سی بی کا ‘متکبرانہ’ جواب
ظفر گوہر کی انگلینڈ منتقلی کی سب سے بڑی وجہ سلیکشن کمیٹی کا وہ رویہ ہے جس نے میرٹ کی دھجیاں اڑا دیں۔ ظفر گوہر نے گزشتہ دو سیزنز میں انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ECB) کے زیرِ انتظام کاؤنٹی کرکٹ میں 100 سے زائد وکٹیں حاصل کیں۔ جب انہوں نے پی سی بی حکام سے رابطے کی کوشش کی تو انہیں مبینہ طور پر یہ جواب ملا کہ "کاؤنٹی کرکٹ کی کارکردگی ہمارے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی”۔
یہ وہی بورڈ ہے جو آؤٹ آف فارم کھلاڑیوں کو محض ان کی اسٹار پاور کی بنیاد پر بار بار مواقع دیتا ہے لیکن جب ایک مستند اسپنر بیرونِ ملک جا کر دنیا کے بہترین بلے بازوں کو آؤٹ کرتا ہے تو اسے غیر متعلقہ قرار دے دیا جاتا ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) کی انا: کھلاڑیوں کی ہجرت کی اصل وجہ
پی سی بی کا موجودہ ڈھانچہ کھلاڑیوں کے ساتھ رابطے کے فقدان (Communication Gap) کا شکار ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) کے اعلیٰ حکام اور سلیکٹرز کا رویہ اکثر ایسا ہوتا ہے جیسے کھلاڑی ان کے ملازم ہوں نہ کہ ملک کا اثاثہ۔ ظفر گوہر کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں کبھی یہ نہیں بتایا گیا کہ ان میں کیا کمی ہے یا انہیں ٹیم میں واپس آنے کے لیے کیا کرنا ہوگا۔
جب کسی پروفیشنل کھلاڑی کو یہ احساس ہو جائے کہ اس کی محنت کی کوئی قدر نہیں اور اس کا مستقبل محض چند لوگوں کی پسند ناپسند پر منحصر ہے تو وہ معاشی اور پیشہ ورانہ تحفظ کے لیے ہجرت کا راستہ چنتا ہے۔ ظفر گوہر کا انگلینڈ منتقل ہونا اسی سسٹم کی بے حسی کا نتیجہ ہے۔
ٹیلنٹ کا ضیاع: پاکستان کو مستقبل میں کیا نقصان ہوگا؟
ظفر گوہر جیسے اسپنر کا ہاتھ سے نکل جانا ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ آج جب ہماری قومی ٹیم اسپن باؤلنگ کے بحران سے گزر رہی ہے ہم نے ایک ایسے کھلاڑی کو کھو دیا جو انگلینڈ کی کنڈیشنز کا ماہر بن چکا تھا۔ اگر یہی رویہ برقرار رہا تو وہ دن دور نہیں جب ہمارا ڈومیسٹک اسٹرکچر محض ایک خانہ پری بن کر رہ جائے گا اور بہترین ٹیلنٹ آئی سی سی (ICC) کی دیگر رکن ممالک کی نمائندگی کرتا نظر آئے گا۔
مزید تازہ خبریں اور اہم اپڈیٹس کے لیے Urdu Khabar ضرور ملاحظہ کریں۔






