پاکستان اور وسطی ایشیائی ریاست قازقستان نے اپنے باہمی معاشی، تجارتی اور سفارتی روابط کو ایک نئی بلندی پر لے جانے کے لیے موجودہ معاہدوں پر ہنگامی بنیادوں پر عملدرآمد تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں منعقدہ ایک اہم اجلاس کے دوران دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ اب تک طے پانے والی تمام مفاہمت کی یادداشتوں کو زبانی کلامی وعدوں سے آگے بڑھا کر ٹھوس کاروباری، تجارتی اور سرمایہ کاری کے مواقع میں تبدیل کیا جائے گا۔
اس اہم تزویراتی فیصلے سے نہ صرف پاک قازقستان تعلقات کو مزید وسعت ملے گی بلکہ دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے لیے باہمی تجارت کے نئے دروازے بھی کھلیں گے۔
رانا تنویر حسین اور قازق سفیر یرژان کیستافن کی اہم ملاقات
یہ اہم پیش رفت وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق (National Food Security and Research) رانا تنویر حسین اور پاکستان میں تعینات قازقستان کے سفیر یرژان کیستافن کے درمیان ہونے والی ایک اعلیٰ سطح کی ملاقات میں سامنے آئی۔ اسلام آباد میں ہونے والی اس بیٹھک میں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کا تفصیلی جائزہ لیا۔
ملاقات کے دوران درج ذیل کلیدی اور تزویراتی شعبوں پر گہرائی سے تبادلہ خیال کیا گیا:
زرعی تجارت : دونوں ممالک کے درمیان پھلوں، سبزیوں اور زرعی اجناس کی برآمدات و درآمدات بڑھانے پر غور۔
غذائی تحفظ: خطے میں اناج اور دیگر غذائی اشیاء کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانا۔
منقطع روابط کا خاتمہ: وسطی ایشیا اور پاکستان کے درمیان زمینی اور فضائی راستوں کو فعال بنانا۔
زرعی میکانائزیشن: جدید زرعی مشینری، ٹیکنالوجی اور سائنسی ریسرچ کا تبادلہ کرنا۔
Pakistan and Kazakhstan have agreed to accelerate the implementation of existing agreements and Memorandums of Understanding and transform them into concrete trade, investment and business opportunities.@RTanveerPMLN #News #RadioPakistan https://t.co/ylZOcCNSn1
— Radio Pakistan (@RadioPakistan) August 13, 2026
زراعت کے شعبے میں غیر استعمال شدہ صلاحیت اور تجارتی حجم
وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے قازق سفیر سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ زراعت کا شعبہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے سب سے بڑا اور اہم ترین ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین زراعت کے میدان میں وسیع اور غیر استعمال شدہ صلاحیت موجود ہے جس سے تاحال فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا۔
رانا تنویر حسین نے دونوں اطراف کے حکام پر زور دیا کہ وہ روایتی دفتری کارروائیوں کے بجائے نتیجہ خیز حکمتِ عملی اپنائیں تاکہ تجارتی منصوبوں کو تجارتی طور پر قابلِ عمل بنایا جا سکے۔ انہوں نے دونوں ملکوں کے اداروں اور تاجر برادری کے درمیان براہِ راست روابط قائم کرنے کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی۔
جوائنٹ ورکنگ گروپ کا اگلا اجلاس قازقستان میں بلانے کا فیصلہ
ملاقات کے اختتام پر دونوں ممالک نے دوطرفہ تعاون کی مسلسل نگرانی کے لیے ایک اہم فیصلہ کیا۔ یہ طے پایا کہ پاکستان قازقستان جوائنٹ ورکنگ گروپ آن ایگریکلچر کا اگلا اجلاس قازقستان میں منعقد کیا جائے گا۔ اس اجلاس کا مقصد اب تک ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لینا اور مستقبل کے لیے تعاون کے نئے شعبوں کی نشاندہی کرنا ہوگا۔
قازقستان وسطی ایشیا میں گندم اور دیگر اناج پیدا کرنے والا ایک بڑا ملک ہے، جبکہ پاکستان ٹیکسٹائل، چاول، اور پھلوں کی پیداوار میں مہارت رکھتا ہے۔ ان دونوں کے اشتراک سے خطے میں فوڈ سیکیورٹی کے مسائل حل کرنے میں بڑی مدد ملے گی۔






