نیب نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو گرفتار کر لیا

قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے سوموار کو  اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی درخواست ضمانت مسترد کر دی گئی اور اس کے بعد ان کو گرفتار کر لیا گیا نیز ان کی عبوری ضمانت بھی لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے منسوخ کردی گئی ہے۔

شہباز شریف کی یہ گرفتاری منی لانڈرنگ اور آمدنی سے زائد اثاثوں کے کیس کی وجہ سے ہوئی جو اس سے قبل نیب کے ذریعہ دائر کیا گیا تھا۔ 

تفصیلات کے مطابق خواتین سمیت مسلم لیگ ن کے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد لاہور ہائیکورٹ کے باہر موجود تھی جہاں شہباز شریف کو گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے نیب اور پی ٹی آئی کی حکومت کے خلاف نعرہ بازی کی جبکہ  گرفتاری کے فورا بعد ہی سیکیورٹی اہلکاروں اور شہباز شریف کے حامیوں کے مابین مختلف جھڑپیں بھی ہوئیں۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف نے شہباز شریف کی گرفتاری کی خبر پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے مخالفین کو متنبہ کیا کہ اے پی سی میں بنائی گئی حکمت عملی پر ہر صورت عمل درآمد ہو گا۔ اپنےبٹویٹر پیغام میں. واز شریف نے کہا کہ کسی کو بھی یہ غلط فہمی نا رہےکہ وہ اس طرح کے ہتھکنڈوں کے ذریعے پارٹی کو شکست دے سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج اس کٹھ پتلی نظام نے شہباز شریف کو گرفتار کرکے اے پی سی کی قرارداد کی توثیق کردی ہے۔ شہباز شریف نے پہلے بھی کہا تھا کہ انہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے رکھا جائے یا نہیں اے پی سی کے دوران کیے گئے تمام فیصلوں پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ نواز شرید کا یہ بیان ٹویٹر پر شہباز شریف کی گرفتاری سے کچھ دیر بعد جاری ہوا۔ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ شہباز کو صرف اسی لئے گرفتار کیا گیا ہے کیونکہ وہ ان لوگوں کے ہاتھوں میں کھیلنے سے انکار کر چکے ہیں جو انہیں اپنے بھائی کے خلاف استعمال کرنا چاہتے تھے۔ وہ ان قیاس آرائیوں کا حوالہ دے رہی تھیں کہ سول ملٹری تعلقات سے نمٹنے کے حوالے سے نواز اور شہباز کی رائے میں اختلاف ہے۔

جاویریہ حارث

جاویریہ حارث اردو خبر میں پاکستان میں مقیم مصنف اور سابق ایڈیٹر ہیں۔