پاکستان کو معاشی پائیداری اور تکنیکی میدان میں خودکفیل بنانے کے لیے حکومتی سطح پر کوششیں مسلسل جاری ہیں۔ اس سلسلے میں ایک انتہائی اہم خبر سامنے آئی ہے جو ملک کے آئی ٹی اور اسمارٹ فون انڈسٹری کے شعبے میں بڑی تبدیلی کی ضامن بن سکتی ہے۔ نیویارک اور واشنگٹن کے متوقع دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف اور ایپل سی ای او ملاقات کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ یہ اعلیٰ سطحی گفتگو عالمی ٹیک جائنٹ "ایپل” (Apple) کو پاکستان کے ڈیوائس مینوفیکچرنگ اور ڈیجیٹل ایکو سسٹم میں راغب کرنے کے سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔
اینجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ (EDB) اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی کے اجلاس میں اس پیشرفت کی تصدیق کی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اس وقت 37 مقامی و عالمی کمپنیاں اسمارٹ فونز اسمبل کر رہی ہیں، لیکن ایپل اس وقت واحد عالمی برانڈ ہے جس کی مینوفیکچرنگ پلانٹ پاکستان میں موجود نہیں ہے۔ اس خلا کو پر کرنے کے لیے وزیراعظم شہباز شریف اور ایپل سی ای او ملاقات کو انتہائی متوقع اور اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ٹیکنالوجی کی منتقلی اور روزگار کے مواقع
اگر ایپل پاکستان میں اپنے پلانٹ یا اسمبلنگ کا آغاز کرتا ہے تو اس کے اثرات صرف موبائل فونز کی قیمتوں پر نہیں بلکہ پورے معاشی ڈھانچے پر مرتب ہوں گے۔ عالمی سطح پر جب بھی کوئی بڑا برانڈ کسی ملک کا رخ کرتا ہے تو وہاں جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی ہوتی ہے۔ مقامی انجینئرز اور تکنیکی ماہرین کو عالمی معیار کی تربیت کا موقع ملتا ہے جس سے لاکھوں براہ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ اس تناظر میں وزیراعظم شہباز شریف اور ایپل سی ای او ملاقات کو ملکی نوجوانوں کے مستقبل اور تکنیکی مہارت میں اضافے کا بہترین ذریعہ سمجھا جا رہا ہے۔
سرمایہ کاری اور برآمدات میں اضافہ
پاکستان اس وقت غیر ملکی زر مبادلہ کی کمی اور معاشی چیلنجز سے نبرد آزما ہے۔ ایپل جیسی بڑی کمپنی کی آمد سے نہ صرف اربوں ڈالر کی غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری (FDI) ملک میں آئے گی، بلکہ مقامی سطح پر اسمبل شدہ آئی فونز کی برآمدات سے ملک کو قیمتی زر مبادلہ بھی حاصل ہو سکے گا۔ حکومت پہلے ہی الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ فریم ورک کے تحت غیر ملکی کمپنیوں کو ٹیکس میں چھوٹ اور دیگر مراعات دینے پر کام کر رہی ہے۔ اس لیے وزیراعظم شہباز شریف اور ایپل سی ای او ملاقات کا بنیادی مقصد ایپل کو ان مراعات سے آگاہ کرنا اور پاکستان میں ان کا اعتماد بحال کرنا ہے۔
ڈیجیٹل پاکستان ویژن کی جانب اہم قدم
پاکستان میں 4G اور 5G نیٹ ورک کے پھیلاؤ کے ساتھ ساتھ جدید آلات اور ڈیوائسز کی دسترخوان بھی ضروری ہے۔ ایپل جیسی عالمی برانڈ کا باقاعدہ فیکٹری یا مینوفیکچرنگ ہب قائم کرنا ڈیجیٹل پاکستان ویژن کو مضبوط بنائے گا۔ اس سے نہ صرف ملکی ٹیکس نیٹ وسیع ہوگا بلکہ اسمگل شدہ اور غیر قانونی ڈیوائسز کی روک تھام میں بھی مدد ملے گی۔
مجموعی طور پر وزیراعظم شہباز شریف اور ایپل سی ای او ملاقات صرف ایک روایتی سفارتی یا کاروباری ملاقات نہیں ہے بلکہ یہ پاکستان کی اقتصادی اور ڈیجیٹل پالیسی میں ایک زبردست موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر یہ مذاکرات کامیابی سے ہمکنار ہوتے ہیں تو پاکستان خطے میں ٹیک مینوفیکچرنگ کا ایک نیا مرکز بن کر ابھر سکتا ہے۔






