پاکستان کے بنیادی ہیلتھ کیئر انفراسٹرکچر ، ڈیجیٹل صحت کے شعبے اور پسماندہ دیہی علاقوں میں بسنے والے شہریوں کی طبی سہولیات تک رسائی کو فول پروف بنانے کے لیے وفاقی وزارتِ صحت کی جانب سے ایک انتہائی اہم اور انقلابی سنگِ میل حاصل کر لیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر برائے قومی صحت خدمات، ریگولیشنز و کوآرڈینیشن سید مصطفیٰ کمال نے باقاعدہ طور پر اعلان کیا ہے کہ حکومت نے پہلے مرحلے (Phase 1) کے تحت 10 نئی ٹیلی میڈیسن ڈسپنسریاں کامیابی سے قائم کر کے انہیں مکمل طور پر فعال کر دیا ہے۔
9 ستمبر 2026 کو اسلام آباد کے قریبی دیہی علاقے شاہ اللہ دتہ میں دسویں ڈیجیٹل ہیلتھ کلینک کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ صحت نے اس اسٹریٹجک کوریڈور کا سائنسی اور تنظیمی فریم ورک پبلک کیا۔ اس اقدام کا بنیادی ہدف وفاقی حکومت ٹیلی میڈیسن ڈسپنسریاں پروگرام کے تحت روایتی اور پسماندہ مینوئل پرچی سسٹمز کا خاتمہ کرنا اور کلاؤڈ سسٹمز کے ذریعے غریب کسانوں اور دور دراز کے کسٹمرز (مریضوں) کو براہِ راست ملک کے سب سے بڑے ہسپتالوں کے اسپیشلسٹ ڈاکٹروں سے جوڑنا ہے۔
صبح سے رات 8 بجے تک بلاتعطل خدمات اور ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی کا روڈ میپ
وزارتِ صحت کی جانب سے جاری کردہ آفیشل مینوئل کے مطابق ان تمام 10 مراکز کی مانیٹرنگ اور آپریشنل اوقات کو شہریوں کی سہولت کے لیے انتہائی لچکدار بنایا گیا ہے۔ سید مصطفیٰ کمال نے واضح کیا کہ یہ ٹیلی میڈیسن ڈسپنسریاں صبح سے لے کر رات 8:00 بجے تک مسلسل کھلی رہیں گی۔
اس نئے سوفٹ وئیر بیسڈ ہیلتھ نیٹ ورک کے اہم خدوخال درج ذیل خطوط پر وضع کیے گئے ہیں:
لائیو آڈیو ویڈیو کنسلٹیشن: مریضوں کو پمز (PIMS) یا دیگر بڑے ہسپتالوں تک جانے کے مینوئل سفری اخراجات سے بچانے کے لیے ہائی ڈیفینیشن ویڈیو اسٹریمنگ کے ذریعے لائیو چیک اپ کی سہولت میسر ہوگی۔
اگلے فیز میں اسمارٹ اپ گریڈیشن: وزیرِ صحت کے مطابق اگلے مرحلے میں ان ڈسپنسریوں کو مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی میڈیکل ڈائیگنوسٹک کٹس اور ایڈوانسڈ سوفٹ ویئر ٹولز سے لیس کیا جائے گا۔
فوری ای-پریسکرپشن : ڈاکٹر دور بیٹھ کر مریض کی لائیو ہسٹری اور علامات کی اسکیننگ کرنے کے بعد ڈیجیٹل نسخہ جنریٹ کرے گا، جس کے تحت مریض کو موقع پر ہی مفت لائف سیونگ ادویات فراہم کی جائیں گی۔
اسلام آباد کے 28 بنیادی ہیلتھ یونٹس (BHUs) کی ڈیجیٹلائزیشن کا ہدف
شاہ اللہ دتہ میں ہونے والی اس تقریب کے دوران وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے ایک اور بڑے معاشی اور سٹرکچرل پراجیکٹ کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ وفاقی دارالحکومت کے تمام 28 بیسک ہیلتھ یونٹس (BHUs) کو مراحل وار مکمل طور پر ٹیلی میڈیسن مراکز میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل حکومت نے گوکینہ، بھمبر اور چکر جیسے دور دراز علاقوں میں ‘صحت کہانی’ (Sehat Kahani) کے تکنیکی اور لاجسٹک اشتراک سے پیپر لیس ہیلتھ کلوڈ کلینکس قائم کیے تھے جنہیں کمیونٹی کی سطح پر زبردست پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔
انفراسٹرکچر مینیجرز کا ماننا ہے کہ اس ڈیجیٹل منتقلی کی بدولت پمز اور پولی کلینک جیسے بڑے سرکاری ہسپتالوں کے مینوئل او پی ڈی (OPD) پر دباؤ ریکارڈ حد تک کم ہو جائے گا اور ڈاکٹرز صرف انتہائی تشویشناک کیسز پر اپنی توجہ مرکوز کر سکیں گے۔
لازمی ہیپاٹائٹس سی (Hepatitis C) اسکریننگ اور ہیلتھ کارڈ کی بحالی
وزارتِ صحت نے اس موقع پر پبلک ہیلتھ سیفٹی انڈیکس کو بہتر بنانے کے لیے دو بڑے ریگولیٹری فیصلوں کا بھی نفاذ کیا ہے۔ وزیراعظم کے خصوصی پروگرام کے تحت اسلام آباد کے ان تمام مراکز پر 12 سال اور اس سے زائد عمر کے تمام شہریوں کے لیے ہیپاٹائٹس سی کی اسکریننگ بالکل مفت کر دی گئی ہے۔ مزید برآں وزارتِ صحت کے تمام سرکاری ملازمین کے لیے یہ ٹیسٹ لازمی قرار دیا گیا ہے اور انکار کی صورت میں ان کی تنخواہیں روکنے کا مینوئل الرٹ جاری کیا گیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایات پر صحت سہولت کارڈ پروگرام کو بھی مکمل طور پر بحال کر دیا گیا ہے جس کے تحت اسلام آباد کے 15 بڑے نجی ہسپتالوں میں کسٹمرز (شہریوں) کو کیش لیس اور مفت علاج کی لاجسٹک سہولت میسر ہوگی اور اس کے تمام فائنینشل اخراجات وفاقی حکومت خود برداشت کرے گی۔






