پاکستان نے عالمی سطح پر تیزی سے بدلتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت، ویب تھری اور فب ٹیک کے میدان میں اپنی پوزیشن کو مضبوط بنانے کے لیے ایک انقلابی پالیسی تبدیلی کا آغاز کر دیا ہے۔ وزیرِ مملکت اور پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے واضح کیا ہے کہ حکومت ملک کے اندر ریگولیٹری وضاحت اور جدید ترین ڈیجیٹل انفراسٹرکچر قائم کرنے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔
ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند میں منعقدہ سلک روڈ فنانس اینڈ ٹیکنالوجی فورم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دنیا بھر کے مندوبین کے سامنے پاکستان کا جدید معاشی وژن پیش کیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ روایتی حکومتی پالیسیوں کے مینوئل کے برعکس اب ایسے جدید ترین ادارے بنانے کی ضرورت ہے جو روایتی سفارتی کوریڈورز سے ہٹ کر تیزی سے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کی رفتار کا ساتھ دے سکیں۔
پابندیوں سے فریم ورک تک: پاکستان کی اسٹریٹجک منتقلی
چیئرمین بلال بن ثاقب نے فورم کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان نے ماضی کی پالیسیوں کو تبدیل کرتے ہوئے اب ورچوئل اثاثوں پر محض پابندیاں عائد کرنے کے بجائے ایک باقاعدہ اور جامع ورچوئل اثاثوں کا ریگولیٹری فریم ورک قائم کرنے کی طرف کامیابی سے قدم بڑھایا ہے۔ یہ اسٹریٹجک تبدیلی پاکستان کو اگلی نسل کی ڈیجیٹل فنانس کے لیے تیار کرنے کی وسیع تر کوششوں کا ایک اہم حصہ ہے۔
انہوں نے مالیاتی نظام میں آنے والی نئی سائنسی تبدیلیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے درج ذیل اہم ترین نکات پیش کیے:
آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور ٹوکن ائزیشن: آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI)، اثاثوں کی ٹوکن ائزیشن اور ڈیجیٹل اثاثے عالمی سطح پر سرمایہ کاری کے کسٹمز، کیپیٹل مارکیٹس اور مالیاتی اداروں کے ڈھانچے کو یکسر بدل رہے ہیں۔
مالیاتی قدر کی تیز رفتار منتقلی: جدید سافٹ ویئرز اور کلاؤڈ نیٹ ورکس کی بدولت اب دنیا بھر میں فنڈز اور مالیاتی قدر کی نقل و حرکت پہلے سے کہیں زیادہ تیز اور پیپر لیس ہو چکی ہے۔
Minister of State and Chairman Pakistan Virtual Assets Regulatory Authority @Bilalbinsaqib has called for building regulatory institutions capable of keeping pace with technologies developing faster than traditional policy cycles#RadioPakistan #news https://t.co/yTUmhDBNIU pic.twitter.com/gB4CGF813N
— Radio Pakistan (@RadioPakistan) August 25, 2026
نوجوان نسل کے لیے پیغام: مصرفین کے بجائے مینوفیکچررز بنیں
پاکستان کی ابھرتی ہوئی آئی ٹی ایکسپورٹس اور نوجوان آبادی کا ذکر کرتے ہوئے وزیرِ مملکت نے ایک انتہائی اہم فکری اور مینوفیکچرنگ مائنڈ سیٹ کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خطیر نوجوان آبادی کو اب ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کا محض صارف بننے کے بجائے ان ٹیکنالوجیز کے گرد قائم ہونے والی کمپنیوں اور عالمی مالیاتی انفراسٹرکچر کا خالق اور بلڈر بننا ہو گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی نوجوانوں کو اے آئی (AI) اور بلاک چین کو صرف روزمرہ استعمال کے ٹولز کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ انہیں ان ٹیکنالوجیز کو ایک باقاعدہ صنعت کے طور پر اپنانا چاہیے تاکہ وہ دنیا بھر میں اپنی ٹیک کمپنیاں قائم کر کے ملکی ریونیو کو بڑھا سکیں۔ یہ وژن ہائیر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کے حالیہ بلاک چین کورسز کے آغاز کے بالکل عین مطابق ہے
عالمی شراکت داری اور ریگولیٹری اداروں کی اپ گریڈیشن
تاشقند فورم میں پاکستان کے اس ترقی پسندانہ موقف کو عالمی سرمایہ کاروں اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے مینیجرز کی جانب سے شدید سراہا گیا۔ بلال بن ثاقب نے واضح کیا کہ پی وی اے آر اے اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور ایس ای سی پی کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے تاکہ ڈیجیٹل فنانسنگ کے عمل میں کسٹمز اور مینوئل تاخیر کو ختم کیا جا سکے اور کیو آر کوڈ بیسڈ شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔ حکومت کا یہ قدم آنے والے سالوں میں پاکستان کو خطے کا ایک بڑا فب ٹیک حب بنا دے






