امریکی امیگریشن پالیسی، گلوبل ٹیک مارکیٹ اور بین الاقوامی ہنرمندوں کے روزگار کے کوریڈورز کے حوالے سے واشنگٹن سے ایک انتہائی سنسنی خیز اور غیر معمولی معاشی ریگولیٹری خبر سامنے آئی ہے۔ امریکہ نے غیر ملکی پیشہ ور افراد بالخصوص انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سافٹ ویئر انجینئرز کے لیے سب سے مقبول دستاویزی ویزا H-1B کے تحت نافذ کردہ ایک لاکھ ڈالر کی ہائی اینڈ فیس کے ہنگامی قانون میں مزید ایک سال کی توسیع کر دی ہے۔
اس تزویراتی توسیع کے بعد ملکی اور عالمی سطح پر امریکی ویزا فیس اضافہ آرڈر کا فائنینشل فریم ورک مکمل طور پر برقرار رہے گا۔ یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز اور امریکی ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مینیجرز کی جانب سے جاری کردہ آفیشل مینوئل کے مطابق اس غیر معمولی مالیاتی اقدام کا بنیادی ہدف بڑی ٹیک کمپنیوں کی طرف سے سستی غیر ملکی لیبر کے مینوئل استعمال کو روکنا اور مقامی امریکی شہریوں کے روزگار کے انڈیکس کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ یہ آرڈر ستمبر 2026 سے لے کر اگلے بارہ ماہ تک کڑی مانیٹرنگ کے ساتھ لائیو رہے گا۔
ٹیک کمپنیوں پر بھاری مالیاتی بوجھ اور ویزا کسٹمز کا سائنسی آڈٹ
امریکی محکمہ امیگریشن کے نئے سوفٹ وئیر بیسڈ ریگولیٹری رولز کے تحت یہ بھاری فیس ان تمام کمپنیوں پر لاگو کی گئی ہے جو اپنے کارپوریٹ ڈھانچے میں ضرورت سے زیادہ غیر ملکی ورکرز کو وائٹ لسٹ کرتی ہیں۔ واشنگٹن کے مینیجرز نے مینوفیکچرنگ آڈٹ کے ذریعے اس بات کو لازمی قرار دیا ہے کہ ایسی کمپنیاں جو ایچ ون بی (H-1B) کسٹمرز پر انحصار کرتی ہیں انہیں ملکی فنڈز میں یہ بھاری رقم جمع کرانی ہوگی۔
اس سخت فائنینشل فریم ورک کے بنیادی پیرامیٹرز درج ذیل خطوط پر وضع کیے گئے ہیں:
سپر ڈیپینڈنٹ کمپنیوں کا کوٹہ: یہ ایک لاکھ ڈالر کا فیس آرڈر صرف ان نجی کمپنیوں اور مینیجرز پر لاگو ہوتا ہے جن کی افرادی قوت کا ایک بڑا حصہ (50 فیصد سے زائد) غیر ملکی ویزا ہولڈرز پر مشتمل ہو۔
آن لائن رجسٹریشن اور پورٹل اسکیننگ: کمپنیوں کو کسی بھی مینوئل سفارش یا لوپ ہول سے بچانے کے لیے پورا نظام 100 فیصد پیپر لیس کر دیا گیا ہے۔ یو ایس سی آئی ایس (USCIS) کے کلاؤڈ پورٹل پر لاگ ان کر کے کمپنیوں کو اپنی بائیومیٹرک افرادی قوت کا لائیو ریکارڈ اور ٹرانزیکشن لاگز جمع کرانے ہوتے ہیں۔
کیش لیس فیس ٹرانزیکشنز: ویزا فیس کی یہ خطیر رقم صرف ڈیجیٹل بینکنگ چینلز یا کیش لیس کوریڈورز کے ذریعے ہی وصول کی جاتی ہے تاکہ فنانشل آڈٹ کو سوفٹ وئیر کے ذریعے مکمل طور پر شفاف رکھا جا سکے۔
پاکستانی، بھارتی اور بین الاقوامی ہنرمندوں پر معاشی اثرات کا جائزہ
کارپوریٹ مینیجرز اور امیگریشن ایکسپرٹس کے مطابق اس آرڈر میں مزید ایک سال کی توسیع سے پاکستان، بھارت اور دیگر ترقی پذیر ممالک کے مایہ ناز آئی ٹی پروفیشنلز کے لیے امریکی روزگار کے راستے عارضی طور پر مشکل ہو جائیں گے۔ سلیکون ویلی کی بڑی ٹیک فرمز اب اس بھاری معاشی بوجھ سے بچنے کے لیے غیر ملکی ہنرمندوں کی مینوئل ہائرنگ کو کم کر رہی ہیں جس سے گلوبل ریوینیو فلو اور ترسیلاتِ زر کا گراف متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
تاہم انشورنس اور کریڈٹ ریٹنگ انڈیکس کو مستحکم رکھنے کے لیے امریکی حکومت کا ماننا ہے کہ یہ تزویراتی ٹیکس ماڈل امریکی معیشت کے سافٹ امیج کو مستقل طور پر فروغ دے گا اور ملکی ریونیو کو مینوفیکچرنگ اور ریسرچ پراجیکٹس میں استعمال کیا جا سکے گا۔






