متحدہ عرب امارات (UAE) نے ٹریفک کی حفاظت کو یقینی بنانے اور مائیکرو موبلٹی (چھوٹی گاڑیوں) کے تیزی سے بڑھتے ہوئے رجحان کو کنٹرول کرنے کے لیے نئے اور سخت انتظامی قوانین کا اعلان کیا ہے۔ ان نئے قواعد و ضوابط کا بنیادی مقصد ای سکوٹر، ای بائیک اور موپیڈ چلانے والوں کے ساتھ ساتھ سڑک پر چلنے والے دیگر مسافروں اور پیدل چلنے والوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ حکومت کے مطابق یہ تمام ترمیمی قوانین یکم جنوری 2027 سے پورے ملک میں نافذ العمل ہوں گے۔
نئے پرمٹ سسٹم اور عمر کی حد کی تفصیلات
حکومتی اعلامیے کے مطابق اب امارات میں الیکٹرک سکوٹر (E-Scooter)، ای بائیک یا موپیڈ چلانے کے لیے رائیڈنگ پرمٹ حاصل کرنا لازمی ہوگا۔ اس پرمٹ کے لیے اپلائی کرنے کی کم از کم عمر 15 سال مقرر کی گئی ہے۔
یو اے ای میں ای سکوٹر کے قوانین کے تحت جاری کیے جانے والے یہ پرمٹ تین سال کے لیے کارآمد ہوں گے جس کے بعد ان کی لامحدود مدت کے لیے تجدید کروائی جا سکے گی۔ یہ پرمٹس پرسنل ٹرانسپورٹ کی متعدد کلاسوں کے لیے یکساں طور پر قابلِ قبول ہوں گے جس سے شہریوں کو بار بار الگ لائسنس بنانے کی زحمت نہیں کرنا پڑے گی۔
سڑکوں کے استعمال اور حفاظتی آلات پر پابندیاں
نئے فریم ورک کے تحت کسی بھی ذاتی سفری ڈیوائس کو عام گاڑیوں کے لیے مختص پبلک روڈز یا شاہراہوں پر چلانے کی سخت ممانعت ہوگی۔ ان گاڑیوں کو صرف حکومت کی طرف سے منظور شدہ اور متعین کردہ مخصوص ٹریکس یا راستوں پر ہی چلایا جا سکے گا۔ اس کے علاوہ تمام ای سکوٹرز اور ای بائیکس کے لیے لازمی حفاظتی معیارات پر پورا اترنا ضروری قرار دیا گیا ہے جن میں ہائی اور لو بیم والی فرنٹ لائٹس، پیچھے کی سرخ بریک لائٹس، کم از کم ایک پہیے پر مضبوط بریکنگ سسٹم اور پائیدار و محفوظ ٹائر شامل ہیں۔
ان قوانین میں سفری آلات کو چھ واضح کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں روایتی سائیکلیں، الیکٹرک سائیکلیں، ای سکوٹر، 50cc سے کم انجن اور 45 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار والی مینی موٹر بائیکس، اسکیٹ بورڈز اور بزرگوں و معذور افراد کے لیے خصوصی وہیل چیئرز شامل ہیں۔ تجارتی بنیادوں پر رینٹل سروس فراہم کرنے والے آپریٹرز بھی انہی قوانین کے پابند ہوں گے۔ مزید برآں چوراہوں پر پیدل چلنے والوں کے لیے واضح کیا گیا ہے کہ گرین لائٹ فلشنگ (چمکتیں سبز بتی) کے دوران سڑک پار کرنا شروع نہ کیا جائے البتہ جو لوگ پہلے سے سڑک کے درمیان موجود ہیں، وہ اسے محفوظ طریقے سے پار کر سکتے ہیں۔






