اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کے گورنر جمیل احمد نے اسلام آباد میں ایک اہم بین الاقوامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے فنانسنگ کے نظام میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب کلائمیٹ فنانسنگ (Climate Financing) کے تحت خواتین، چھوٹے کاشتکاروں اور چھوٹے کاروباروں (SMEs) کو ترجیحی بنیادوں پر مالی معاونت فراہم کی جائے گی، کیونکہ یہی وہ طبقات ہیں جو ماحولیاتی آفات سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
اسٹیٹ بینک اور الائنس فار فنانشل انکلوژن کا مشترکہ پروگرام
یہ اہم اعلان اسٹیٹ بینک اور الائنس فار فنانشل انکلوژن (AFI) کے زیرِ اہتمام منعقدہ چار روزہ مشترکہ لرننگ پروگرام کی افتتاحی تقریب کے دوران کیا گیا۔ اس پروگرام میں دنیا کے چار براعظموں کے 24 ممالک کے مرکزی بینکوں اور مالیاتی اداروں کے 38 اعلیٰ حکام شرکت کر رہے ہیں جو گرین فنانس پالیسیوں کے نفاذ پر تبادلہ خیال کریں گے۔ پاکستان پہلی بار اس عالمی پروگرام کی میزبانی کر رہا ہے۔
کلائمیٹ فنانسنگ پر گورنر اسٹیٹ بینک کا اعلان کرتے ہوئے جمیل احمد نے 2022 کے تباہ کن سیلاب کا حوالہ دیا جس سے پاکستان کو 30 ارب ڈالر کا معاشی و مادی نقصان ہوا اور 3 کروڑ سے زائد افراد متاثر ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا فنانشل سسٹم صرف ماحول دوست منصوبوں کو ہی سپورٹ نہ کرے بلکہ متاثرہ کمیونٹیز کو ماحولیاتی خطرات سے پہلے ہی نمٹنے اور لچک پیدا کرنے کے قابل بنائے۔
مالیاتی شمولیت اور گرین بینکنگ کے اہداف
گورنر اسٹیٹ بینک نے پاکستان کی معاشی اصلاحات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ ملک میں مالیاتی شمولیت کی شرح 71 فیصد تک پہنچ چکی ہے اور مرد و خواتین کے درمیان بینکنگ کا فرق کم ہو کر 27 فیصد رہ گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے 2017 میں گرین بینکنگ گائیڈ لائنز اور دسمبر 2025 میں کلائمیٹ اسٹریس ٹیسٹنگ گائیڈ لائنز جاری کیں جن کے ڈیٹا بیس کو اب دیگر ممالک کے ساتھ بھی شیئر کیا جا رہا ہے۔
اس کے علاوہ ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے ‘پاکستان ویمن انکلوژو فنانس پروگرام’ اور خواتین کاروباری افراد کے لیے خصوصی کوڈز متعارف کروائے گئے ہیں، تاکہ سیلاب اور دیگر آفات کا شکار ہونے والی دیہی خواتین کو معاشی طور پر مستحکم کیا جا سکے۔






