امریکی خلائی ادارے (NASA) اور ٹیک جائنٹ گوگل (Google) نے ملوک کر ایک انتہائی جدید اور انقلابی منصوبے پر کام شروع کر دیا ہے جس کے تحت خلا میں طویل مدتی سفر کرنے والے خلابازوں کے علاج کے لیے ایک آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) روبوٹک ڈاکٹر تیار کیا جا رہا ہے۔ یہ جدید ترین طبی روبوٹ مریخ (Mars) اور چاند کے طویل مشنز پر جانے والے انسانوں کو زمین سے کسی لائیو رابطے کے بغیر فوری اور خودکار طبی امداد فراہم کرنے کی صلاحیت رکھے گا۔
خلائی مشنز میں روبوٹک ڈاکٹر کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
زمین سے مریخ یا کسی دوسرے دور دراز سیارے تک سفر کے دوران ریڈیو سگنلز کی منتقلی میں شدید تاخیر (Time Delay) کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مریخ سے زمین تک سگنل آنے اور جانے میں تقریباً 20 سے 40 منٹ کا وقت لگ سکتا ہے۔ ایسی صورتحال میں اگر کسی خلاباز کو اچانک کوئی شدید طبی مسئلہ یا ہنگامی سرجری درکار ہو تو زمین پر موجود ڈاکٹروں سے لائیو گائیڈ لائن لینا ناممکن ہو جاتا ہے۔
گوگل اور ناسا کا اے آئی ڈاکٹر اسی خلائی خلا کو پُر کرنے کے لیے ڈیزائن کیا جا رہا ہے۔ گوگل کے جدید ترین میڈیکل اے آئی ماڈلز (جیسے Med-PaLM اور عمیق طبی ڈیٹا بیس) کو ناسا کے خلائی طبی پروٹوکولز کے ساتھ یکجا کیا جا رہا ہے۔ یہ روبوٹ خلا میں موجود طبی آلات کی مدد سے خود ٹیسٹ کر سکے گا، بیماری کی تشخیص کرے گا اور ضرورت پڑنے پر پیچیدہ آپریشن کرنے کے لیے خلابازوں کی رہنمائی یا خود کار سرجری سرانجام دے گا۔
ڈیپ سپیس میڈیسن اور مستقبل کے خلائی سفر
اس روبوٹک سسٹم کو خلائی جہازوں کے اندرونی نظام اور سینسرز کے ساتھ جوڑا جائے گا تاکہ یہ خلابازوں کے دل کی دھڑکن، بلڈ پریشر، ذہنی تناؤ اور آکسیجن کی سطح کی چوبیس گھنٹے نگرانی کر سکے۔ یہ صرف جسمانی امراض ہی نہیں بلکہ طویل تنہائی کے باعث پیدا ہونے والے نفسیاتی مسائل کی تشخیص اور کاؤنسلنگ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی نہ صرف خلابازوں کی جان بچانے کے لیے اہم ہے بلکہ مستقبل میں زمین کے ان دور دراز دیہی علاقوں اور جنگی میدانوں میں بھی انقلابی تبدیلی لائے گی جہاں ماہر ڈاکٹرز اور ہسپتالوں کی سہولیات موجود نہیں ہیں۔ ناسا اور گوگل اس سسٹم کے ابتدائی پروٹو ٹائپ کو بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (ISS) پر ٹیسٹ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔






