ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) نے پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے ڈھانچے میں ایک انقلابی تبدیلی کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت اب طلباء ایک وقت میں دو ڈگریاں حاصل کرنے کے لیے دو مختلف پروگرامز میں داخلہ لے سکیں گے۔ اس فیصلے کا مقصد پاکستانی طلباء کو عالمی معیار کے مطابق تعلیمی مواقع فراہم کرنا اور ان کی پیشہ ورانہ مہارتوں میں اضافہ کرنا ہے
پاکستان میں دوہری ڈگری (Dual Degree) کا نیا قانون کیا ہے؟
ایچ ای سی کے نئے منظور شدہ فریم ورک کے مطابق اب یونیورسٹی کے طلباء کے لیے بیک وقت دو ڈگریاں حاصل کرنا قانونی طور پر ممکن ہو گیا ہے۔ اس سے قبل، پاکستان میں ایک ہی وقت میں دو ریگولر ڈگریاں کرنا ممنوع تھا اور اس کی وجہ سے اکثر طلباء کی ڈگریاں منسوخ کر دی جاتی تھیں۔
نئے رولز کے مطابق:
طلباء ایک ہی وقت میں دو مختلف تعلیمی شعبوں (Disciplines) میں تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ ضروری نہیں کہ دونوں ڈگریاں ایک ہی شعبے سے ہوں؛ مثلاً ایک طالب علم بی ایس کمپیوٹر سائنس کے ساتھ ساتھ بی اے انگلش یا اکنامکس بھی کر سکتا ہے۔
یونیورسٹیاں اب طلباء کو دوہری ڈگری اور جوائنٹ ڈگری کے اختیارات فراہم کریں گی۔
جوائنٹ ڈگری (Joint Degree) پروگرامز کی تفصیلات
ایچ ای سی نے صرف دوہری ڈگری ہی نہیں بلکہ جوائنٹ ڈگری پروگرامز کی بھی منظوری دی ہے۔ اس پروگرام کے تحت:
طالب علم اپنی تعلیم کا ایک حصہ ایک یونیورسٹی میں اور باقی حصہ کسی دوسری یونیورسٹی میں مکمل کر سکے گا۔
اس کے لیے متعلقہ یونیورسٹیوں کے درمیان ایچ ای سی سے منظور شدہ ایم او یو (MoU) ہونا لازمی ہے۔
پاکستانی یونیورسٹیاں اب غیر ملکی یونیورسٹیوں کے ساتھ مل کر بھی ایسی ڈگریاں متعارف کروا سکیں گی جس سے پاکستانی طلباء کو بین الاقوامی سطح کا ایکسپوزر ملے گا۔
رجسٹریشن اور داخلے کا طریقہ کار
اگر آپ دو ڈگریوں میں ایک ساتھ داخلہ لینا چاہتے ہیں، تو درج ذیل نکات کو مدنظر رکھیں:
وقت کا انتظام: عام طور پر ایک ڈگری ریگولر (صبح) اور دوسری ڈگری ایوننگ یا ڈسٹنس لرننگ (آن لائن) کے ذریعے کرنے کی اجازت دی جاتی ہے تاکہ کلاسوں کا وقت آپس میں نہ ٹکرائے۔
ایچ ای سی کی تصدیق: داخلہ لینے سے پہلے یقینی بنائیں کہ آپ کی یونیورسٹی نے ایچ ای سی کے اس نئے فریم ورک کو اپنا لیا ہے اور وہ باقاعدہ طور پر ہائر ایجوکیشن کمیشن سے الحاق شدہ ہے۔
یونیورسٹی کی پالیسی: ہر یونیورسٹی اس پالیسی کو نافذ کرنے کے لیے اپنے قوانین خود مرتب کر رہی ہے، اس لیے اپنی جامعہ کے ‘ایڈمیشن آفس’ سے رجوع کرنا بہترین ہے۔
اس فیصلے کے طلباء پر مثبت اثرات
اس قانون سے ان طلباء کو سب سے زیادہ فائدہ ہوگا جو ایک سے زائد مہارتیں حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک طالب علم جو انجینئرنگ کر رہا ہے، وہ مینجمنٹ کی ڈگری بھی ساتھ لے کر چل سکتا ہے، جس سے ملازمت کے بازار میں اس کی اہمیت بڑھ جائے گی۔ مزید معلومات کے لیے آپ وزارت تعلیم پاکستان کی ویب سائٹ سے بھی رہنمائی لے سکتے ہیں۔
تازہ ترین الرٹس اور اہم اپڈیٹس کے لیے Urdu Khabar کا وزٹ ضرور کریں۔






