پاکستان میں مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ کی تیاریوں کے آخری مراحل میں جہاں انکم ٹیکس اور بجلی کے بلوں پر بحث جاری ہے وہاں نجی شعبے کے ملازمین (Private Employees) اور دیہاڑی دار مزدوروں کے لیے ایک انتہائی اہم دستاویزی پیش رفت سامنے آئی ہے ملک کے معتبر ترین تحقیقی ادارے ‘پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکانومکس‘ (PIDE) اور سیاسی حلیفوں کی جانب سے حکومت کو باقاعدہ تجویز دی گئی ہے کہ موجودہ معاشی صورتحال اور مہنگائی کے تناسب کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان میں کم سے کم اجرت کو موجودہ 40,000 روپے سے بڑھا کر 45,000 روپے ماہانہ مقرر کیا جائے
یہ تجویز ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اپریل میں سالانہ مہنگائی کی شرح دوبارہ 10.9 فیصد تک پہنچ چکی ہے جس نے کم آمدنی والے طبقے کی قوتِ خرید (Purchasing Power) کو شدید متاثر کیا ہے۔ اگر حکومت اس تجویز کو بجٹ فنانس بل کا حصہ بناتی ہے تو یہ مڈ رینج اور غیر ہنر مند نجی ملازمین کے لیے ایک بڑا قانونی ریلیف ثابت ہوگا۔
کم سے کم اجرت میں 12.5 فیصد اضافے کی نئی تجویز
پائیڈ (PIDE) کی رپورٹ کے مطابق موجودہ معاشی انڈیکس یہ تقاضا کرتا ہے کہ مزدوروں کے لیے ایک ایسا معاشی فلور (Wage Floor) طے کیا جائے جو نہ صرف ان کے گھریلو اخراجات کو سہارا دے سکے بلکہ نجی کمپنیوں کے لیے بھی اسے لاگو کرنا ممکن ہو۔ تجویز کردہ ماڈل کے تحت ملکی سطح پر بنیادی تنخواہ میں 5,000 روپے (12.5 فیصد) کا اضافہ کر کے اسے 45,000 روپے کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
اس ماڈل میں صوبائی سطح پر رہائشی اخراجات کے فرق کو دیکھ کر درج ذیل بریک ڈاؤن تجویز کیا گیا ہے:
پنجاب اور بلوچستان: ان صوبوں کے لیے نجی ورکرز کی کم سے کم بنیادی تنخواہ 45,000 سے 45,500 روپے تجویز کی گئی ہے۔
سندھ اور خیبر پختونخوا: شہری علاقوں میں زندگی گزارنے کی اعلیٰ لاگت اور صنعتی گنجانیت کی وجہ سے ان صوبوں میں کم سے کم تنخواہ 46,000 روپے ماہانہ مقرر کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
نجی ملازمین پر متوقع قواعد اور کٹوتیوں کے قوانین
پاکستان میں کم سے کم اجرت کا قانون جب بھی نافذ ہوتا ہے تو نجی اداروں کے مالکان اور فیکٹری مالکان کے لیے کچھ مخصوص ریگولیٹری قواعد لاگو ہوتے ہیں۔
متوقع گائیڈ لائنز کے مطابق نجی ملازمین کے لیے درج ذیل شرائط اہم ہوں گی:
غیر ہنر مند ورکرز کا تحفظ: یہ بنیادی تنخواہ سیکیورٹی گارڈز، صفائی کے عملے، فیکٹری ورکرز اور کنسٹرکشن لیبر جیسے غیر ہنر مند (Unskilled) افراد پر لازمی لاگو ہوگی۔
سرکاری کٹوتیوں کی اجازت: ماضی کے عدالتی اور صوبائی نوٹیفیکیشنز کے تسلسل کے مطابق اگر کوئی کمپنی اپنے ورکرز کو کھانا، رہائش (Accommodation) یا ٹرانسپورٹ فراہم کرتی ہے تو وہ تنخواہ میں سے مخصوص فکسڈ کٹوتیاں کرنے کی مجاز ہوگی۔
سوشل سیکیورٹی آرڈیننس میں ترمیم: پنجاب اسمبلی نے حال ہی میں ملازمین سوشل سیکیورٹی ایکٹ کے تحت پرانی تنخواہوں کی حدود کی قانونی پیچیدگیوں کو دور کیا ہے تاکہ ہر رجسٹرڈ نجی ورکر کو ای او بی آئی (EOBI) اور سوشل سیکیورٹی کارڈز کے مکمل فوائد فراہم کیے جا سکیں۔
انفارمل سیکٹر اور قانون پر عمل درآمد کا بڑا چیلنج
سفارشات میں اس تلخ حقیقت کا بھی اعتراف کیا گیا ہے کہ پاکستان کی تقریباً 80 فیصد افرادی قوت انفارمل سیکٹر (جیسے مقامی دکانیں، گھریلو ملازمین، اور چھوٹے کارخانے) میں کام کرتی ہے جہاں مالکان اکثر سرکاری ریٹ لسٹ پر عمل نہیں کرتے اور مزدوروں کو مقررہ حد سے کم تنخواہ دیتے ہیں۔
اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی لیبر ڈپارٹمنٹس کو ہدایت دینے کی تجویز ہے کہ وہ نجی اداروں کا باقاعدہ آڈٹ کریں اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں پر بھاری جرمانے عائد کریں۔ نجی ملازمین کو یہ حق حاصل ہوگا کہ اگر انہیں مقررہ قانون سے کم تنخواہ دی جائے، تو وہ صوبائی منیمم ویجز بورڈ یا فیملی کورٹس سے رجوع کر سکتے ہیں۔






