پاکستان کے انفارمیشن ٹیکنالوجی (IT) اور ٹیلی کام کے شعبے نے ایک اور تاریخی اور معاشی کامیابی حاصل کر لی ہے جس کے بعد اب پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں کے لیے روس کی ایک بہت بڑی اور نئی تجارتی مارکیٹ کے دروازے کھلنے جا رہے ہیں۔ مالی سال 2025-26 کے دوران پاکستان کی آئی ٹی برآمدات ریکارڈ 4.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں جس میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد کا نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس وقت پاکستانی ٹیک انڈسٹری عالمی سطح پر نئے خریداروں اور منڈیوں کی تلاش میں ہے اور روس اس سلسلے میں ایک اہم ترین اسٹریٹجک پارٹنر بن کر ابھرا ہے۔
پاک روس آئی ٹی مذاکرات اور پائلٹ پروجیکٹس
سفارتی اور تجارتی ذرائع کے مطابق، دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کے مابین ہونے والے حالیہ مذاکرات کے انتہائی مثبت اور ٹھوس نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ ان مذاکرات کے دوران انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کے لیے کئی اہم مواقع کی ایک مختصر فہرست تیار کر لی گئی ہے جن پر دونوں ممالک مل کر کام کریں گے۔
آئی ٹی سیکرٹری ضرار ہشام خان نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وزارتِ آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام دونوں ممالک کے درمیان موجود تمام ریگولیٹری رکاوٹوں اور قانونی پیچیدگیوں کو دور کرنے کے لیے فعال کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ پاک روس آئی ٹی شراکت داری کے تحت پہلے پائلٹ پروجیکٹس کا آغاز بغیر کسی تاخیر کے فوری طور پر کر دیا جائے گا تاکہ پاکستانی سافٹ ویئر ہاؤسز اور فری لانسرز روس میں اپنی خدمات فراہم کرنا شروع کر سکیں۔
پاک روس دوطرفہ تعلقات اور مستقبل کا وژن
روس کی جانب سے پاکستانی آئی ٹی سیکٹر کو دی جانے والی یہ پیش رفت دونوں ممالک کے مابین بڑھتے ہوئے قریبی دوطرفہ تعلقات کا حصہ ہے۔ حال ہی میں روس نے پاکستانی طلبہ کے لیے اسکالرشپس کے کوٹے میں بھی نمایاں اضافہ کیا ہے جس سے دونوں ممالک کے نوجوانوں اور تعلیمی اداروں کے مابین روابط گہرے ہو رہے ہیں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ روس جیسے بڑے ملک تک رسائی حاصل ہونے سے نہ صرف پاکستان کی آئی ٹی برآمدات کے حجم میں اربوں ڈالر کا مزید اضافہ ہوگا بلکہ اس سے ملکی فارن ایکسچینج ریزرو (غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر) کو بھی ایک بڑا اور مستحکم سہارا ملے گا جو کہ ملکی معیشت کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔






