قومی ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی نے شناختی کارڈ، نائیکوپ (NICOP) یا پاکستان اوریجن کارڈ (POC) بنوانے والے شہریوں کے لیے ایک بڑا ریلیف جاری کیا ہے۔ نادرا کے نئے عوامی آگاہی اعلامیے کے مطابق وہ تمام درخواستیں جو کوالٹی کنٹرول (QC) کے آخری مرحلے میں مسترد ہو جاتی ہیں اب ان کو بغیر کسی اضافی فیس کے دوبارہ جمع کروایا جا سکے گا۔ نادرا نہ صرف یہ درخواستیں مفت پراسیس کرے گا بلکہ انہیں ترجیحی بنیادوں پر ایگزیکٹو کیٹیگری کے تحت تیز ترین وقت میں تیار کرے گا۔
نادرا ایپلی کیشن میں ‘کیو سی ریجیکٹڈ’ کا کیا مطلب ہے؟
نادرا کے نظام میں ‘QC’ سے مراد کوالٹی کنٹرول ہے۔ یہ وہ آخری اور حساس مرحلہ ہوتا ہے جہاں کارڈ پرنٹنگ پریس میں جانے سے پہلے نادرا کا مرکزی نظام درخواست گزار کی تصویر، فنگر پرنٹس کی کوالٹی، اورائفون فارمیٹ اور کوائف کی دوبارہ گہری اسکریننگ کرتا ہے۔
اگر تصویر دھندلی ہو، انگلیوں کے نشانات صاف نہ ہوں یا ڈیٹا بیس میں کوئی تضاد پایا جائے تو کمپیوٹر اسکرین پر اسٹیٹس QC Rejected ظاہر ہو جاتا ہے۔ نادرا کے اس نئے اقدام کا بنیادی مقصد اسی ریجیکشن اسٹیٹس کا شکار ہونے والے شہریوں کی مشکل آسان کرنا اور ان کے پیسوں کو ضائع ہونے سے بچانا ہے۔
لوکل شہریوں کے لیے نادرا میں کیو سی ریجیکٹڈ کا حل
اگر آپ نے نادرا کے دفتر جا کر یا اپنے موبائل سے پاک آئی ڈی (PakID) ایپ کے ذریعے درخواست جمع کروائی تھی اور وہ کیو سی ریجیکٹ ہو گئی ہے تو آپ کو درج ذیل 3 مراحل پر عمل کرنا ہوگا:
قریبی نادرا دفتر کا دورہ کریں
سب سے پہلے اپنے قریبی کسی بھی نادرا رجسٹریشن سینٹر (NRC) تشریف لے جائیں۔ یہ اصول ان تمام درخواست گزاروں پر یکساں لاگو ہوتا ہے جنہوں نے اصل فارم دفتر میں جمع کروایا تھا یا موبائل ایپ کے ذریعے آن لائن اپلائی کیا تھا۔
ضروری کاغذی کارروائی مکمل کریں
نادرا سینٹر پہنچ کر متعلقہ افسران سے رجوع کریں اور انہیں اپنی ریجیکٹڈ درخواست کا ڈیٹا فراہم کریں۔ عملہ آپ کے کیس کا جائزہ لے گا اور جس خامی (مثلاً فنگر پرنٹ یا تصویر کی خرابی) کی وجہ سے کارڈ مسترد ہوا تھا، اسے دوبارہ بائیومیٹرک لے کر موقع پر ہی درست کرے گا۔
مفت ایگزیکٹو پروسیسنگ کا حصول
تمام ضروری کارروائی اور تصدیق مکمل ہونے کے بعد نادرا کا سسٹم آپ کی اس درخواست کو بغیر کسی اضافی فیس یا چارجز کے دوبارہ فائنل سبمٹ کر دے گا۔ سب سے اچھی بات یہ ہے کہ اس ری سبمیشن کو ایگزیکٹو کیٹیگری میں اپگریڈ کر دیا جائے گا جس کا مطلب ہے کہ آپ کا کارڈ اب عام دنوں کے بجائے صرف 6 دنوں کے اندر بن کر تیار ہو جائے گا۔
اوورسیز پاکستانیوں کے لیے نادرا میں کیو سی ریجیکٹڈ کا حل
وہ اوورسیز پاکستانی جو ایسے ممالک میں مقیم ہیں جہاں نادرا کا کوئی فزیکل سینٹر یا سفارت خانے میں ڈیسک موجود نہیں ہے اور انہوں نے پاک آئی ڈی ایپ کے ذریعے نائیکوپ (NICOP) یا پی او سی (POC) اپلائی کیا تھا، ان کے لیے ایک آن لائن شکایت پر مبنی طریقہ کار متعارف کروایا گیا ہے:
نادرا کے آفیشل کمپلینٹ مینجمنٹ پورٹل complaints.nadra.gov.pk پر جائیں۔
اپنے نائیکوپ یا پی او سی کی درخواست کے QC Rejected اسٹیٹس کے خلاف آن لائن شکایت رجسٹر کروائیں۔ پورٹل پر مانگی گئی تمام ضروری معلومات درست فراہم کریں۔
نادرا کا آن لائن سیل آپ کی شکایت موصول ہونے کے بعد آپ کے کیس پر ضروری کارروائی کرے گا اور ای میل یا پورٹل کے ذریعے آپ کو ہدایات بھیجے گا۔
کارروائی مکمل ہونے کے بعد آپ کے پاک آئی ڈی (PakID) اکاؤنٹ کے ہوم پیج پر موجود Applications سیکشن میں ایک نیا خودکار فارم نمودار ہو جائے گا۔
نادرا اس نئے فارم کو بھی بغیر کسی اضافی فیس کے ہائی پرائیورٹی ایگزیکٹو کیٹیگری کے تحت پروسیس کرے گا اور کارڈ تیار ہوتے ہی آپ کے بین الاقوامی پتے پر کورئیر کر دیا جائے گا۔






