اگر آپ کو لگتا تھا کہ آپ کے کچن کا بجٹ پہلے ہی آسمان سے باتیں کر رہا ہے تو سندھ میں آموں کی فصل کی بیماری پھلوں کے بادشاہ کو آپ کی جیب پر ایک اور بڑا حملہ بنانے کے لیے تیار کر رہی ہے۔ آج صبح 21 اپریل 2026 کو محکمہ زراعت سندھ نے صوبے بھر میں ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ سندھ میں آموں کی فصل کی ایک تیزی سے پھیلنے والی بیماری جسے ‘مینگو سڈن ڈیتھ سنڈروم’ (MSDS) کی ایک خطرناک قسم اور پھپھوندی (Fungal) کے حملے کا مجموعہ قرار دیا جا رہا ہے اس وقت میرپورخاص، ٹنڈو الہ یار اور حیدرآباد کے باغات کو تیزی سے اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔
پاکستان کے عوام کے لیے سندھڑی آم کی آمد محض ایک موسمی تبدیلی نہیں بلکہ ایک تہوار کی حیثیت رکھتی ہے۔ تاہم اس سال سمر کنگ کو اپنی بقا کے خطرے کا سامنا ہے۔ فیلڈ افسران کی رپورٹس کے مطابق کھڑی فصل کا تقریباً 15 فیصد حصہ پہلے ہی پھل گرنے اور درختوں کے مرجھانے کی علامات ظاہر کر چکا ہے۔
سندھ میں آموں کی فصل کی بیماری (Sindh mango crop disease) قومی تشویش کیوں ہے؟
رواں سال Sindh mango crop disease گذشتہ سالوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے پھیل رہی ہے، جس کی بڑی وجہ اپریل کے شروع میں ہونے والی بارشوں کے بعد پیدا ہونے والی غیر معمولی نمی ہے۔ محکمہ زراعت سندھ کے مطابق یہ ہائی الرٹ صرف کسانوں کے لیے نہیں بلکہ پوری سپلائی چین کے لیے ایک وارننگ ہے۔
یہ بیماری درخت کے اندرونی نظام (Vascular System) پر حملہ کرتی ہے جس سے غذائی اجزاء پکتے ہوئے سندھڑی آم تک نہیں پہنچ پاتے۔ اس صوبے کے لیے جو پاکستان کی آموں کی برآمدات کا بڑا حصہ فراہم کرتا ہے سندھڑی کی فصل کی خرابی کا مطلب غیر ملکی زرِ مبادلہ کا نقصان اور مقامی زرعی معیشت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔
معاشی اثرات: سندھڑی کی قیمتیں اور آپ کے کچن کا بجٹ
ایک عام صارف کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟ سادہ الفاظ میں: مزید مہنگائی۔ عام طور پر اپریل وہ وقت ہوتا ہے جب رسد (Supply) مستحکم ہونا شروع ہوتی ہے۔ تاہم، ایمرجنسی الرٹ کے بعد تھوک فروشوں (Wholesalers) نے ابھی سے ہی پریمیم سندھڑی آم کی قیمتوں میں 25 سے 30 فیصد اضافے کی پیش گوئی کر دی ہے۔
اگر اگلے دس دنوں میں اس بیماری پر قابو نہ پایا گیا تو سمر کنگ صرف اشرافیہ کی پہنچ تک محدود ہو کر رہ جائے گا۔ وہ خاندان جو پہلے ہی اشیائے خوردونوش کی مہنگائی سے نبرد آزما ہیں ان کے لیے سستے موسمی پھل کا چھن جانا کچن بجٹ پر مزید دباؤ کا باعث بنے گا۔
حکومتی ردعمل اور آفیشل سپورٹ
پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (PARC) نے باغات کے مالکان کو ہنگامی سپرے پروٹوکول فراہم کرنے کے لیے تکنیکی ٹیمیں متحرک کر دی ہیں۔ کسانوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ درختوں کو ضرورت سے زیادہ پانی دینے سے گریز کریں اور کسی بھی قسم کی بیماری کی صورت میں فوری اطلاع دیں۔
حکومت نے اضلاع کے درمیان متاثرہ پودوں کی منتقلی روکنے کے لیے ایک مخصوص ہیلپ ڈیسک بھی قائم کیا ہے، تاکہ اس بیماری کو پنجاب کی دیر سے پکنے والی اقسام تک پہنچنے سے پہلے قرنطینہ کیا جا سکے۔
مزید تفصیلات اور تازہ خبروں کے لیے Urdu Khabar ضرور وزٹ کریں۔






