پاکستان نے ملک میں اقتصادی استحکام اور پائیدار ترقی کے لیے معیشت کے اہم شعبوں میں امریکی کمپنیوں اور مالیاتی اداروں سے سرمایہ کاری بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اسلام آباد میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر کے درمیان ہونے والی حالیہ اعلیٰ سطحی ملاقات میں دوطرفہ تجارتی فریم ورک اور باہمی تعاون کو فروغ دینے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ پاکستان کا بنیادی مقصد جیو پولیٹکس (جغرافیائی سیاست) سے ہٹ کر جیو اکانومکس (جغرافیائی معیشت) پر توجہ مرکوز کرنا اور اپنی برآمدات کو بڑھانا ہے۔
پاکستان میں امریکی سرمایہ کاری کے لیے ترجیحی شعبے
پاکستان نے امریکی کارپوریٹ سیکٹر اور مالیاتی اداروں کے سامنے مخصوص اور منافع بخش منصوبے پیش کیے ہیں جن میں سرمایہ کاری کی فوری گنجائش موجود ہے۔ ان شعبوں کی تفصیل درج ذیل ہے:
1۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس
پاکستان میں آئی ٹی (IT) اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ حکومت نے امریکی کمپنیوں کو پاکستان کے باصلاحیت نوجوانوں اور فری لانسنگ مارکیٹ سے فائدہ اٹھانے کے لیے آئی ٹی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس میں طویل مڈت کی سرمایہ کاری کی دعوت دی ہے۔
2۔ زراعت اور ایگری ٹیک
زراعت پاکستان کی معیشت کا ایک چوتھائی حصہ تشکیل دیتی ہے۔ امریکی ٹیکنالوجی، جدید ترین آبپاشی کے نظام، پریسیژن فارمنگ اور کولڈ چین لاجسٹکس متعارف کروا کر زرعی پیداوار میں انقلابی تبدیلیاں لائی جا سکتی ہیں۔ حال ہی میں امریکی سفارت خانے کے تعاون سے منعقدہ ویبنار میں زرعی شعبے میں جدید امریکی بیجوں اور ٹیکنالوجی کی منتقلی پر اتفاق کیا گیا ہے۔
3۔ توانائی اور معدنیات
پاکستان اپنے توانائی کے مکس کو بہتر بنانے اور ماحول دوست توانائی کی طرف منتقل ہونے کے لیے کوشاں ہے۔ اس کے علاوہ تانبے، سونے اور لیتھیم جیسے اہم معدنی ذخائر کی تلاش اور ان کی ویلیو ایڈیشن کے لیے بھی امریکی سرمایہ کاری کو راغب کیا جا رہا ہے۔
دوطرفہ تجارت کا حجم اور نئے تجارتی معاہدے
امریکہ روایتی طور پر پاکستان کی مصنوعات کے لیے سب سے بڑی برآمدی مارکیٹ رہا ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کی موجودہ صورتحال درج ذیل ہے:
| تجارتی اشاریہ | تفصیلات و حجم (2025) | اہم نکات |
| کل دوطرفہ تجارتی حجم | تقریباً 8.7 ارب امریکی ڈالر | دونوں ممالک اسے 5 سالوں میں 20 ارب ڈالر تک لے جانا چاہتے ہیں۔ |
| پاکستان کی امریکہ کو برآمدات | 5.4 ارب امریکی ڈالر | ٹیکسٹائل، ملبوسات اور جراحی کے آلات سرفہرست ہیں۔ |
| امریکہ کی پاکستان کو برآمدات | 3.3 ارب امریکی ڈالر | اس میں زیادہ تر کپاس، سویابین اور جدید مشینری شامل ہے۔ |
| تجارتی فریم ورک | مذاکرات میں اہم پیش رفت | پاکستانی برآمد کنندگان کو امریکی مارکیٹ تک آسان رسائی دینے پر کام جاری ہے۔ |
اقتصادی اصلاحات اور سرمایہ کاری کا سازگار ماحول
وزارتِ خزانہ کے مطابق حکومت پاکستان نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر ساختی اور مالیاتی اصلاحات نافذ کی ہیں۔ انٹرنیشنل مونیٹری فنڈ کے پروگرام کے تحت معاشی نظم و ضبط قائم کیا گیا ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
حکومت امریکی اداروں جیسے کہ یو ایس انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ فنانس کارپوریشن (DFC) کی پاکستان کے کاروباری منظر نامے میں فعال شرکت کی خواہاں ہے تاکہ نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔ بیوروکریسی کی رکاوٹوں اور ریڈ ٹیپ کو ختم کر کے سرمایہ کاروں کو ون ونڈو آپریشنز کے ذریعے سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ پاکستان دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کے لیے ایک پرکشش ملک بن سکے۔






