راولپنڈی کی تعمیر و ترقی کی تاریخ میں آج 20 اپریل 2026 ایک بڑا دن ہونا تھا، لیکن راولپنڈی رنگ روڈ ٹھلیاں انٹرچینج کے بغیر باضابطہ افتتاح تنازعات کی زد میں آ گیا ہے۔ جہاں ایک طرف حکومتی وزراء فیتے کاٹ رہے ہیں وہیں دوسری طرف مشتعل ٹرانسپورٹرز نے ٹائر جلا کر داخلی راستوں کو بند کر دیا ہے۔ اس احتجاج کی سب سے بڑی وجہ منصوبے کی شہ رگ یعنی ٹھلیاں انٹرچینج کو مکمل کیے بغیر سڑک کا افتتاح کرنا ہے۔
ٹرانسپورٹ برادری کا موقف ہے کہ اربوں روپے کی لاگت سے تیار ہونے والا یہ بائی پاس اس وقت تک بے معنی ہے جب تک اسے موٹر وے سے جوڑنے والا مرکزی راستہ (ٹھلیاں لنک) فعال نہیں ہو جاتا۔
ٹھلیاں انٹرچینج: منصوبے کی شہ رگ اور موجودہ بحران
ٹھلیاں انٹرچینج کو اس لیے ڈیزائن کیا گیا تھا کہ یہ بھاری ٹریفک اور مال بردار ٹرکوں کو شہر کے اندرونی رش میں داخل ہوئے بغیر براہِ راست ایم-2 (M-2) موٹر وے تک رسائی فراہم کر سکے۔ کراچی اور جنوبی پنجاب سے آنے والے ٹرانسپورٹرز کے لیے یہ انٹرچینج سب سے اہم ایگزٹ پوائنٹ ہے۔
راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی (RDA) کی جانب سے اس لنک کے بغیر افتتاح کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اب 22 پہیوں والے ٹرکوں کو متبادل کے طور پر تنگ اور کچی سڑکوں کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔ اس سے نہ صرف ٹریفک کا بدترین جام دیکھنے میں آ رہا ہے بلکہ گاڑیوں کے ایندھن اور ٹوٹ پھوٹ کی مد میں ٹرانسپورٹرز کو لاکھوں کا نقصان ہو رہا ہے۔
ٹرانسپورٹرز کا احتجاج: نامکمل افتتاح اور معاشی نقصانات
آج صبح 9 بجے سے جاری احتجاج نے جڑواں شہروں کے لاجسٹک نظام کو مفلوج کر دیا ہے۔ گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے مطابق ٹھلیاں انٹرچینج کی عدم موجودگی درج ذیل مسائل کا سبب بن رہی ہے:
ایندھن کی لاگت میں اضافہ: متبادل راستے استعمال کرنے سے فی پھیرا ایندھن کے اخراجات میں 15 سے 20 فیصد اضافہ ہو گیا ہے۔
سڑکوں کی حفاظت: بھاری ٹریفک کو مقامی آبادی کی سڑکوں پر منتقل کرنے سے حادثات کا خطرہ بڑھ گیا ہے جس کی ذمہ داری نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) اور مقامی انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔
معاشی رکاوٹیں: اشیائے خوردونوش کی بروقت فراہمی میں تاخیر سے پوری سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے۔
حکومتی موقف اور تکنیکی تاخیر کی وجوہات
محکمہ مواصلات و تعمیرات پنجاب کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹھلیاں انٹرچینج کا کام زمین کے حصول کے کچھ قانونی تنازعات اور ہائی اسپیڈ ریل کوریڈور کے نئے ڈیزائن کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ رنگ روڈ کو اس لیے کھولا گیا تاکہ ہلکی ٹریفک کو ریلیف مل سکے تاہم ٹرانسپورٹرز اس منطق کو مسترد کرتے ہوئے اسے سیاسی کریڈٹ لینے کی جلدی قرار دے رہے ہیں۔
ضلعی انتظامیہ اس وقت احتجاجی رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے، لیکن جب تک ٹھلیاں انٹرچینج کی تکمیل کی حتمی تاریخ سامنے نہیں آتی ٹرانسپورٹ برادری نے پہیہ جام ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
تازہ خبریں اور اہم اپڈیٹس جاننے کے لیے Urdu Khabar ضرور وزٹ کریں۔






