پاکستان کے پہلے فوری ادائیگی کے نظام راست پیمنٹ سسٹم (Raast) نے مئی 2026 تک 50 ٹریلین روپے کی ٹرانزیکشنز کا سنگ میل عبور کر کے ملکی معیشت میں ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کے زیرِ اہتمام چلنے والے اس نظام نے عام آدمی کے لیے بینکنگ کو نہ صرف مفت بلکہ پلک جھپکتے ہی ممکن بنا دیا ہے۔ لیکن جہاں ڈیجیٹل ادائیگیاں بڑھ رہی ہیں وہاں سائبر فراڈ کے خطرات سے بچنے کے لیے اپنی بینکنگ ایپ کو محفوظ بنانا بھی ناگزیر ہو چکا ہے۔
راست (Raast) کی کامیابی اور عوامی اعتماد
اسٹیٹ بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق راست کے ذریعے روزانہ لاکھوں ٹرانزیکشنز کی جا رہی ہیں۔ اس کی بڑی وجہ اس کا پی ٹو پی (P2P) ماڈل ہے جس میں آپ کو طویل بینک اکاؤنٹ نمبر یاد رکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ آپ کا موبائل نمبر ہی آپ کا راست آئی ڈی بن جاتا ہے۔ مئی 2026 کے تازہ ترین اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ چھوٹے تاجروں سے لے کر گھریلو صارفین تک ہر کوئی اس کی رفتار اور بغیر کسی فیس کے منتقلی پر اعتماد کر رہا ہے۔
اپنی بینکنگ ایپ کو محفوظ بنانے کے 3 لازمی فیچرز
اگر آپ بھی راست یا دیگر ڈیجیٹل ذرائع سے لین دین کرتے ہیں تو اپنی بینکنگ ایپ میں درج ذیل 3 سیکیورٹی فیچرز فوری طور پر فعال کریں:
بائیومیٹرک لاگ ان (Biometric Authentication)
صرف پاس ورڈ یا پن (PIN) پر انحصار کرنا اب کافی نہیں رہا۔ اپنی ایپ میں فنگر پرنٹ یا فیس آئی ڈی لاگ ان کو فعال کریں۔
فائدہ: اگر کوئی آپ کا پاس ورڈ دیکھ بھی لے تو وہ آپ کے جسمانی نشانات کے بغیر ایپ تک رسائی حاصل نہیں کر سکے گا۔
2. ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن (2FA/OTP)
ہر ٹرانزیکشن کے لیے ون ٹائم پاس ورڈ (OTP) کو لازمی قرار دیں۔ یہ کوڈ آپ کے رجسٹرڈ موبائل نمبر یا ای میل پر آتا ہے۔
فائدہ: یہ سیکیورٹی کی دوسری تہہ ہے جو ہیکرز کو آپ کے اکاؤنٹ سے پیسے نکالنے سے روکتی ہے چاہے ان کے پاس آپ کی لاگ ان تفصیلات ہی کیوں نہ ہوں۔
ٹرانزیکشن لمٹ اور الرٹس (Limits & Notifications)
اپنی روزانہ کی ٹرانزیکشن کی حد (Limit) کو اپنی ضرورت کے مطابق سیٹ کریں اور ‘پش نوٹیفکیشنز’ آن رکھیں۔
فائدہ: کسی بھی مشکوک سرگرمی کی صورت میں آپ کو فوری الرٹ ملے گا، اور لمٹ کم ہونے کی صورت میں کوئی بھی بڑی رقم ایک ساتھ نہیں نکال سکے گا۔
سائبر فراڈ سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر
اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور ایف آئی اے (FIA) مسلسل شہریوں کو آگاہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنی حساس معلومات کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں۔
کبھی شیئر نہ کریں: اپنا OTP بینک کارڈ کا CVV نمبر، یا لاگ ان پاس ورڈ کسی بھی کال یا میسج پر نہ بتائیں۔سرکاری ذرائع: ڈیجیٹل بینکنگ کے محفوظ استعمال کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا آگاہی پورٹل اور ایف آئی اے سائبر کرائم کی ویب سائٹ کا باقاعدگی سے مطالعہ کریں۔
تازہ ترین خبروں اور اہم معلومات کے لیے Urdu Khabar کا دورہ ضرور کریں۔






