پاکستان کے فنانشل ریگولیٹری انفراسٹرکچر، پبلک فنانس مینجمنٹ، مانیٹری فریم ورک اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تزویراتی کوریڈورز سے ڈیجیٹل اکانومی کے تئیں اب تک کا سب سے بڑا اور پراعتماد معاشی بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ مرکزی بینک کے آفیشل ڈیٹا کے مطابق مالیاتی سال 2025-26 کے دوران ملک میں کیو آر کوڈ فعال مرچنٹس کی تعداد ساڑھے تین گنا بڑھ کر 3.8 ملین تک پہنچ گئی ہے۔
8 اکتوبر 2026 کو جاری کردہ اسٹیٹ بینک لاگز کے مطابق اس تاریخی فن ٹیک مہم کے نفاذ کے ساتھ ہی باقاعدہ طور پر پاکستان کیو آر پیمنٹس گروتھ کا ڈیجیٹل کلاؤڈ نیٹ ورک فعال ہو چکا ہے۔ پچھلے سال یہ تعداد محض 1.1 ملین پر ہالٹ تھی۔ نئے انڈیکس کے تحت ان مرچنٹس نے پورٹل پر سال بھر میں 297 ملین ٹرانزیکشنز لاگ ان کیں جن کی مجموعی فیسکل مالیت 1.6 ٹریلین روپے ریکارڈ کی گئی ہے جو ملکی معیشت کی فیسکل لکویڈیٹی برقرار رکھنے اور کیش لیس سوسائٹی کے مینوفیکچرڈ پلان کے لیے ناگزیر ہدف تسلیم کی گئی ہے۔
روزانہ 5.5 ارب روپے کی ادائیگیاں اور کیش لیس پاکستان سبسڈی کا آڈٹ
آڈٹ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستانی دکان دار اب روزانہ 0.8 ملین کیو آر ٹرانزیکشنز پر کارروائی کر رہے ہیں جس کی اوسط ڈیجیٹل مالیت تقریباً 5.5 ارب روپے روزانہ بنتی ہے۔ اس کے برعکس مالیاتی سال 2025 میں کل کیو آر ٹرانزیکشنز کا حجم محض 86 ملین پر منجمد تھا۔
اس تاریخی گروتھ اور حکومتی سبسڈی کٹس کا تفصیلی بریک ڈاؤن درج ذیل مارک ڈاؤن جدول کے مطابق سنک ہے:
| ڈیجیٹل فنانس پیرامیٹر لاگ | گزشتہ سال کا مینوئل بیس لائن | حالیہ فیسکل والیم انڈیکس | وزیرِ اعظم کیش لیس اسکیم پروٹوکول |
| کل فعال کیو آر مرچنٹس | 1.1 ملین دکان دار لاگ | 3.8 ملین مرچنٹس لائیو | نادرا اور بینک پورٹلز سے آٹو سنک۔ |
| مجموعی ٹرانزیکشنز مالیت | 234 ارب روپے کا حجم | 1.6 ٹریلین روپے آٹو لاک | روزانہ 5.5 ارب روپے کسٹمرز پے کرنا۔ |
| حکومتی سبسڈی فنڈز گرڈ | ابتدائی ریسرچ فیز | 3.5 ارب روپے الاٹ | فی ٹرانزیکشن زیادہ سے زیادہ 100 روپے کیش۔ |
وزیراعظم کی ‘کیش لیس پاکستان انیشی ایٹو’ کے تحت حکومت ہر اہل ٹرانزیکشن کی مالیت پر 0.5 فیصد کی اسمارٹ سبسڈی پے کر رہی ہے جو کسٹمر اور مرچنٹ کے فائنانشل بینکوں کے مابین برابر تقسیم ہوتی ہے جبکہ بینکوں کو مرچنٹ آن بورڈنگ کے لیے 0.25 فیصد تک چارج کرنے کے اینٹی چیٹنگ رولز کی اجازت دی گئی ہے۔






