پاکستان کی داخلی سلامتی، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نیٹ ورک اور سائنسی و ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے انٹیگریشن میں ایک انتہائی تاریخی اور انقلابی سنگِ میل حاصل کر لیا گیا ہے۔ پنجاب پاکستان کا وہ پہلا صوبہ بن گیا ہے جس نے سیکیورٹی انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے باقاعدہ طور پر پنجاب آرٹیفیشل انٹیلی جنس ہب قائم کیا ہے۔
5 ستمبر 2026 کو وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (PERA) اور پروونشل انٹیلی جنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسیسمنٹ سینٹر (PIFTAC) کے ہیڈ کوارٹرز سے اس میگا پراجیکٹ کی باقاعدہ ای-لانچنگ کی۔ اس جدید ڈیجیٹل کوریڈور کا بنیادی مقصد سیکیورٹی اداروں کے مینوئل کسٹمز کو ختم کر کے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) اور کلاؤڈ سسٹمز کے ذریعے سیکیورٹی تھریٹس کا سراغ لگانا بروقت ڈیجیٹل الرٹس جاری کرنا اور عوام کے تحفظ کو فول پروف بنانا ہے۔
پی آئی ایف ٹی اے سی (PIFTAC) کا قیام اور پاک فوج کا سٹرکچرل تعاون
اسمارٹ سیکیورٹی مینوئل کے تحت قائم ہونے والے اس انٹیلی جنس فیوژن سینٹر کو پاک فوج اور دیگر قومی سلامتی کے اداروں کے اشتراک سے مینوفیکچر کیا گیا ہے۔ پریس بریفنگ کے دوران وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اس تصوراتی وژن کو ریکارڈ مدت میں عملی جامہ پہنانے پر سیکیورٹی اداروں، خصوصاً کور کمانڈر لاہور لیفٹیننٹ جنرل فیاض حسین شاہ کے کلیدی کردار اور تکنیکی معاونت کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔
اس نئے سوفٹ وئیر بیسڈ سیکیورٹی ڈھانچے کے اہم خدوخال درج ذیل ہیں:
ون یونٹ آپریشنز: تمام اہم سیکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ایک ہی کلاؤڈ نیٹ ورک کے نیچے ون یونٹ بن کر کام کریں گے تاکہ مینوئل دفتری تاخیر کا خاتمہ ہو سکے۔
ڈسٹرکٹ ڈیجیٹل الرٹس: کسی بھی ناگہانی واقعے یا سیکیورٹی تھریٹ کی صورت میں یہ سوفٹ ویئر ضلعی کوآرڈینیشن کمیٹیوں کو فوری طور پر آٹو جنریٹڈ ڈیجیٹل الرٹس جاری کرے گا تاکہ بڑے نقصان سے پہلے ہی کارروائی کی جا سکے۔
بارڈر چیک پوسٹوں کی اسکیننگ: پنجاب کے دیگر ہمسایہ صوبوں اور تین سرحدی علاقوں سے آنے والے خطرات کو روکنے کے لیے انٹری پوائنٹس پر اے آئی اسکیننگ کیمرے نصب کر دیے گئے ہیں۔
سیف سٹی کیمرہ نیٹ ورک اور اے آئی ویڈیو اینالیٹکس کا انضمام
پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی (PSCA) کے موجودہ کیمرہ انفراسٹرکچر کو اس نئے ہب کے سوفٹ ویئر کے ساتھ مربوط کر دیا گیا ہے۔ اب روایتی مینوئل مانیٹرنگ کے بجائے جہاں آپریٹرز کو چوبیس گھنٹے اسکرینوں کو دیکھنا پڑتا تھا جدید اے آئی ویڈیو اینالیٹکس خودکار طریقے سے مشکوک سرگرمیوں، نمبر پلیٹس کی اسکیننگ اور چہروں کی شناخت کر کے الرٹ سگنلز جنریٹ کرے گی۔
اس ٹیکنالوجی کو چائلڈ پروٹیکشن سسٹم کے لیے بھی فعال کیا گیا ہے تاکہ گلی محلوں اور بازاروں میں بچوں کے خلاف ہونے والے جرائم کی لائیو ٹریکنگ کی جا سکے۔ ان اقدامات کی بدولت صوبے میں کرائم ریٹ کو مزید کم کرنے میں مدد ملے گی، جبکہ ماضی کے کچے کے علاقوں کو کلیئر کرانے کے بعد اب وہاں مستقل ڈیجیٹل چوکیاں قائم کی جا رہی ہیں۔
اسکولوں میں اے آئی مضمون کی شمولیت اور تعلیمی نیٹ ورک کی توسیع
وزیراعلیٰ پنجاب نے واضح کیا کہ ان کی حکومت صرف سیکیورٹی تک محدود نہیں ہے بلکہ نوجوان نسل کو ٹیکنالوجی کی عالمی مارکیٹ کے مطابق تیار کرنے کے لیے کارپوریٹ سطح پر اقدامات کر رہی ہے۔ اسی وژن کے تحت حکومتِ پنجاب نے صوبے بھر کے تمام سرکاری اسکولوں کی کمپیوٹر لیبز کو اپ گریڈ کر کے مصنوعی ذہانت (AI) کو لازمی مضمون کے طور پر شامل کرنے کا اصولی فیصلہ بھی کر لیا ہے تاکہ بچے بچپن سے ہی کوڈنگ اور سائنسی اینالیٹکس سیکھ سکیں۔ اس کے علاوہ لاہور میں پاکستان کی پہلی انٹرنیٹ سٹی اور خصوصی اے آئی یونیورسٹی کے قیام کا سٹرکچرل روڈ میپ بھی فائنل کیا جا چکا ہے۔






