پاکستان میں نوجوانوں کو بااختیار بنانے بے روزگاری کے خاتمے اور چھوٹے کاروبار (SMEs) کو فروغ دینے کے لیے وفاقی حکومت نے ایک بڑا اور انقلابی اقدام اٹھایا ہے۔ وزیر اعظم یوتھ پروگرام کے تحت اب ملک بھر کے ہنر مند اور تعلیم یافتہ نوجوان اپنے کاروباری خوابوں کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے مالی معاونت حاصل کر سکتے ہیں۔ اس پروگرام کی سب سے خاص بات اس کا ‘ٹیئر 1’ (Tier-1) لون ہے جس کے تحت نوجوانوں کو 5 لاکھ روپے تک کا قرض مکمل طور پر بلا سود (0% Markup) فراہم کیا جا رہا ہے۔
عام طور پر بینکوں سے قرض لینے کے لیے جائیداد کے کاغذات، سونا یا بھاری سیکیورٹی (Collateral) جمع کروانی پڑتی ہے لیکن اس اسکیم کے نئے قواعد و ضوابط کے تحت اس شرط کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔
بینک ضمانت (Collateral) کی شرط سے بائی پاس کرنے کا نیا قانون
پاکستانی نوجوانوں کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہوتی ہے کہ ان کے پاس بینکوں کو دینے کے لیے کوئی قیمتی جائیداد یا ضمانت نہیں ہوتی۔ حکومتِ پاکستان اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اس دیرینہ مسئلے کا حل نکالتے ہوئے نئے قوانین متعارف کرائے ہیں:
کلین فنانسنگ (Clean Financing): نئے مروجہ قواعد کے مطابق، 5 لاکھ روپے تک کے تمام قرضے ‘کلین’ یعنی بغیر کسی جائیداد کی سیکیورٹی کے دیے جائیں گے۔
صرف ذاتی ضمانت (Personal Guarantee): بینک آپ سے کسی پلاٹ، دکان یا مکان کی دستاویزات نہیں مانگے گا بلکہ صرف قرض لینے والے کی اپنی ذاتی ضمانت (Personal Guarantee) کی بنیاد پر فنڈز جاری کر دیے جائیں گے۔
مائیکرو فنانس اداروں کا اشتراک: اس عمل کو مزید آسان بنانے کے لیے کمرشل بینکوں کے ساتھ ساتھ ملک کے معتبر مائیکرو فنانس اداروں کو بھی اس نیٹ ورک کا حصہ بنایا گیا ہے تاکہ دور دراز علاقوں کے نوجوان بھی بغیر کسی دباؤ کے اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔
قرض کی واپسی کی مدت اور ٹائم لائن کا بریک ڈاؤن
وزیر اعظم یوتھ بزنس اینڈ ایگریکلچر لون اسکیم کے تحت حاصل کیے گئے 5 لاکھ روپے کے قرض کی واپسی کا طریقہ کار انتہائی آسان اور نرم رکھا گیا ہے تاکہ نئے کاروباری افراد پر ابتدائی دنوں میں بوجھ نہ پڑے۔
ٹیئر 1 (T1) کے تحت ملنے والے قرض کی واپسی کی زیادہ سے زیادہ مدت 3 سال (36 مہینے) مقرر کی گئی ہے۔ یہ رقم برابر ماہانہ اقساط میں واپس کرنا ہوتی ہے۔ تاہم اگر کوئی نوجوان زراعت (Agriculture) یا فصلوں کے لیے یہ قرض لیتا ہے تو اس کی واپسی کی مدت ایک سال تک ہو سکتی ہے اور فصل کی کٹائی کے سائیکل کے مطابق اسے یکمشت بھی ادا کیا جا سکتا ہے۔ چونکہ اس پر کوئی سود یا مارک اپ نہیں ہے اس لیے آپ کو صرف وہی رقم لوٹانی ہے جو آپ نے بینک سے وصول کی ہوگی۔
کون اپلائی کر سکتا ہے؟ اہلیت کا معیار
وزیر اعظم یوتھ لون اسکیم کے تحت درخواست دینے کے لیے حکومت نے درج ذیل بنیادی شرائط وضع کی ہیں:
عمر کی حد: درخواست گزار کی عمر 21 سال سے 45 سال کے درمیان ہونی چاہیے۔ تاہم آئی ٹی (IT) اور ای کامرس سے وابستہ کاروبار شروع کرنے کے لیے عمر کی نچلی حد 18 سال رکھی گئی ہے۔
قومیت: تمام پاکستانی شہری (مرد، خواتین اور خواجہ سرا) جن کے پاس نادرا کا درست شناختی کارڈ (CNIC) موجود ہو وہ اپلائی کرنے کے اہل ہیں۔
کاروبار کی نوعیت: یہ قرض نئے کاروبار کے آغاز (Startup) یا پہلے سے موجود کسی چھوٹے کاروبار کو وسعت دینے، دونوں مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
آن لائن اپلائی کرنے کا مکمل اور آسان طریقہ
اس اسکیم کے لیے کسی بھی بینک برانچ میں جا کر دستی (Manual) فارم جمع کرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ تمام درخواستیں صرف آفیشل ویب پورٹل کے ذریعے ہی آن لائن وصول کی جاتی ہیں:
سب سے پہلے وزیر اعظم یوتھ پروگرام کے آفیشل لون پورٹل پر جائیں۔ وہاں موجود آل نیو ایپلیکیشن فارم پر کلک کریں اور اپنا درست شناختی کارڈ نمبر اور موبائل نمبر درج کریں یاد رہے کہ موبائل نمبر آپ کے اپنے نام پر رجسٹرڈ ہونا لازمی ہے۔ فارم میں اپنے مجوزہ کاروبار کی تفصیلات (Feasibility Report) اور ماہانہ اخراجات کا تخمینہ درست طریقے سے لکھیں۔ درخواست جمع ہونے کے بعد، اسٹیٹ بینک کی ہدایات کے مطابق متعلقہ بینک 45 دنوں کے اندر آپ کی درخواست پر فیصلہ کرنے کا پابند ہے۔






