پاکستان کی خارجہ سیاست، علاقائی روابط اور اقتصادی سفارت کاری کے میدان سے ایک بہت بڑی اور تزویراتی خبر سامنے آئی ہے۔ وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف تین روزہ اہم سرکاری دورے پر کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک پہنچ گئے ہیں۔ آج، 31 اگست 2026 کو مناس انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر آمد پر کرغزستان کے کابینہ کے وزراء کے چیئرمین اور صدارتی انتظامیہ کے سربراہ عدیل بیک کاسیمالیف نے پاکستانی وفد کا شاندار اور پرجوش استقبال کیا۔ کرغز روایات کے مطابق معزز مہمان کو چھٹے ورلڈ نوماڈ گیمز کا آفیشل ماسکوٹ بھی پیش کیا گیا۔
وزیراعظم کا دورہ بشکیک 2026 پاکستان کے بین الاقوامی وقار میں اضافے کے لیے ایک تاریخی سنگِ میل ثابت ہونے جا رہا ہے۔ کرغز صدر سدیر جپاروف کی خصوصی اور باقاعدہ دعوت پر کیے جانے والے اس دورے کا سب سے بڑا اور مرکزی نقطہ یہ ہے کہ اس سربراہی اجلاس کے بعد پاکستان اگلے ایک سال یعنی 2026-2027 کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کی باقاعدہ صدارت سنبھالے گا۔ اس تزویراتی منتقلی کے بعد اگلا ایس سی او سربراہی اجلاس پاکستان کے وفاق دارالحکومت اسلام آباد میں منعقد کیا جائے گا۔
شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس، ایس سی او پلس کانفرنس اور پاکستانی وفد کی مانیٹرنگ
بشکیک میں قیام کے دوران وزیراعظم شہباز شریف شنجیانگ تعاون تنظیم کے مرکزی کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کے اجلاس اور ہائی لیول ایس سی او پلس سمٹ میں پاکستان کی مینوفیکچرنگ اور سیکیورٹی پوزیشن کا دفاع کریں گے۔ وزیراعظم کے ہمراہ اس اعلیٰ سطحی وفد میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر مواصلات عبدالعلیم خان اور وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ سمیت ریاست کے اعلیٰ مینیجرز شریک ہیں۔
اس عالمی فورم پر پاکستانی مینیجرز درج ذیل خطوط پر اپنا موقف پیش کریں گے:
علاقائی امن و استحکام: سرحد پار دہشت گردی، منی لانڈرنگ اور کلاؤڈ سائبر کرائمز کے خلاف کثیر الجہتی سائنسی اور انٹیلی جنس شیئرنگ کوریڈورز بنانا۔
معاشی کوریڈورز : سی پیک کے دوسرے مرحلے کو وسطی ایشیائی ریاستوں کے تجارتی روٹس اور گوادر پورٹ کے کسٹمز نیٹ ورک سے جوڑنا۔
ورلڈ نوماڈ گیمز کی افتتاحی تقریب: سفارتی مصروفیت کے پہلے ہی دن وزیراعظم بشکیک میں منعقد ہونے والے ثقافتی اور تاریخی کھیل ورلڈ نوماڈ گیمز کی شاندار افتتاحی تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کریں گے۔
Prime Minister @CMShehbaz has arrived in Bishkek on a three-day official visit to the Kyrgyz Republic@PakPMO @ForeignOfficePk #News #RadioPakistan https://t.co/6QMMp2rH3S pic.twitter.com/X6ShmvQCd6
— Radio Pakistan (@RadioPakistan) August 31, 2026
صدر سدیر جپاروف سے باہمی مذاکرات اور ایرانی صدر سے سائیڈ لائن ملاقاتیں
ایس سی او کی مرکزی مصروفیات کے ساتھ ساتھ یہ دورہ باہمی پاک-کرغزستان تعلقات کو مینوئل بیوروکریٹک تاخیر سے نکال کر ٹھوس معاشی فیصلوں میں تبدیل کرنے کا ایک بہترین موقع ہے۔ 2 ستمبر 2026 کو وزیراعظم شہباز شریف کرغز صدر سدیر جپاروف کے ساتھ ون آن ون اور وفود کی سطح پر تفصیلی مذاکرات کریں گے جس میں باہمی تعلقات کے پورے پہلو کا جائزہ لیا جائے گا۔
دونوں ممالک کے مابین درج ذیل اہم شعبوں میں تعاون کو گہرا کرنے کے لیے سوفٹ وئیر اور کسٹمز رولز کے مطابق دستاویزات اور معاہدوں پر دستخط کیے جائیں گے:
تجارت اور سرمایہ کاری : باہمی ریوینیو کسٹمز کو آسان بنانا اور آزادانہ تجارتی سامان کی منتقلی۔
توانائی کوریڈور : کاسا-1000 پاور پروجیکٹ کے ذریعے بجلی کی منتقلی کے سٹرکچرل فریم ورک کو تیز کرنا۔
تعلیم، سیاحت اور عوامی روابط: پاکستانی میڈیکل طلبہ کے کرغزستان میں قیام کے رولز کو محفوظ بنانا اور ویزا مینوئل کو کیش لیس و آن لائن سافٹ ویئر پر لانا۔
علاوہ ازیں دورے کے پہلے ہی دن وزیراعظم نے ایران کے صدر مسعود پزیشکیان اور دیگر عالمی رہنماؤں سے سائیڈ لائن ملاقاتیں کیں جہاں مشرقِ وسطیٰ کے سیکیورٹی انڈیکس اور تہران امن عمل پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔






