راولپنڈی جیسے مصروف شہر میں خواتین کو ہراساں کیے جانے یا عدم تحفظ کے احساس سے بچانے کے لیے پنک بٹن راولپنڈی ایک بڑا ریلیف ثابت ہو رہا ہے۔ پنک بٹن کا مقصد سڑکوں اور پبلک ٹرانسپورٹ پر خواتین کی نقل و حرکت کو محفوظ بنانا ہے تاکہ وہ بغیر کسی خوف کے اپنے تعلیمی اداروں اور کام کی جگہوں پر جا سکیں۔
راولپنڈی میں خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے حکومتِ پنجاب اور پنجاب پولیس نے ایک انقلابی قدم اٹھایا ہے۔ آج 23 اپریل 2026، سے شہر بھر کے پبلک ٹرانسپورٹ اسٹیشنز اور مخصوص پوائنٹس پر ‘پنک بٹن’ (Pink Button) سسٹم کو فعال کر دیا گیا ہے۔ یہ سسٹم نہ صرف جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ہے بلکہ یہ خواتین مسافروں کو کسی بھی ہنگامی صورتحال میں صرف 10 منٹ کے اندر مدد پہنچانے کی قانونی ضمانت بھی دیتا ہے۔
پنک بٹن سسٹم کیسے کام کرتا ہے؟
یہ سسٹم دو تہوں (Layers) پر مشتمل ہے: فزیکل بٹنز اور ورچوئل ایپ۔
فزیکل بٹنز: میٹرو بس اسٹیشنز، بس اسٹاپس اور اہم چوراہوں پر گلابی رنگ کے خصوصی بٹنز نصب کیے گئے ہیں۔ کسی بھی خطرے کی صورت میں بٹن دبانے پر الرٹ براہِ راست پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی (PSCA) کے کنٹرول روم میں جاتا ہے۔
ورچوئل پنک بٹن: یہ فیچر ویمن سیفٹی ایپ میں بھی شامل کیا گیا ہے جسے پنجاب پولیس نے ڈیزائن کیا ہے۔
بٹن دبتے ہی مانیٹرنگ سینٹر میں خاتون کی لوکیشن (GPS) واضح ہو جاتی ہے اور قریب ترین سیف سٹی کیمرہ خودکار طور پر اس مقام پر فوکس ہو جاتا ہے جس سے پولیس کو صورتحال کا فوری اندازہ ہو جاتا ہے۔
10 منٹ کی رسپانس گارنٹی: ایک نیا معیار
اس سسٹم کی سب سے بڑی خاصیت اس کا ریسپانس ٹائم ہے۔ آئی جی پنجاب کے مطابق راولپنڈی ڈولفن فورس اور پیٹ رولنگ یونٹس کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ الرٹ موصول ہونے کے بعد زیادہ سے زیادہ 10 منٹ کے اندر جائے وقوعہ پر پہنچیں۔ اگر پولیس ٹیم اس وقت کے اندر پہنچنے میں ناکام رہتی ہے تو متعلقہ افسر کو جوابدہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یہ ضمانت خواتین میں اعتماد پیدا کرنے کے لیے دی گئی ہے تاکہ وہ خود کو تنہا محسوس نہ کریں۔ حکومتِ پنجاب کے اس اقدام کو سماجی حلقوں میں بہت سراہا جا رہا ہے کیونکہ یہ براہِ راست خواتین کی آزادی اور تحفظ سے جڑا ہے۔
ٹیکنالوجی اور مستقبل کا منظرنامہ
پنک بٹن محض ایک الارم نہیں بلکہ ایک مکمل مانیٹرنگ نیٹ ورک ہے۔ اس میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) کا استعمال کیا گیا ہے جو مشکوک حرکات و سکنات کو بھانپ کر متعلقہ ٹیموں کو پہلے سے الرٹ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس سسٹم کے نفاذ سے خواتین کے خلاف جرائم میں 40 فیصد تک کمی آ سکتی ہے۔
مزید تازہ خبریں اور اہم معلومات کے لیے Urdu Khabar ضرور وزٹ کریں۔






