پشاور یونیورسٹی احتجاج میں جاری یہ حالیہ صورتحال محض ایک اتفاق نہیں بلکہ برسوں سے جاری مالیاتی بدانتظامی اور فنڈز کی کمی کا شاخسانہ ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے ملازمین کی تنخواہوں میں 40 فیصد کٹوتی اور ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن کی عدم ادائیگی نے سفید پوش طبقے کو سڑکوں پر آنے پر مجبور کر دیا ہے۔ جمرود روڈ کی ناکہ بندی کی وجہ سے ہزاروں مسافروں کو گھنٹوں ٹریفک جام کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جو اس ادارے کے مالیاتی دیوالیہ پن کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
جمرود روڈu کی ناکہ بندی: احتجاج کی شدت اور عوامی اثرات
پشاور یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن (PUTA) اور کلاس تھری و فور کے ملازمین کی یونینز نے ہڑتال کا اعلان کر رکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے مالی مطالبات پورے نہیں ہوتے احتجاجی دھرنا جاری رہے گا۔ اس ناکہ بندی نے نہ صرف شہر کی نقل و حمل کو مفلوج کر دیا ہے بلکہ صوبائی حکومت اور ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشانات کھڑے کر دیے ہیں۔
مالیاتی خسارے کی اصل وجہ: 1.5 ارب روپے کا خلا
پشاور یونیورسٹی احتجاج کی بنیادی جڑ وہ سنگین بجٹ خسارہ ہے جو اس وقت 1.5 ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔ مارچ کے مہینے میں ملازمین اس وقت حیران رہ گئے جب ان کے اکاؤنٹس میں کل تنخواہ کا محض 40 سے 60 فیصد حصہ منتقل کیا گیا۔
اس سے بھی زیادہ تشویشناک صورتحال ریٹائرڈ پروفیسرز اور عملے کی ہے جنہیں کئی ماہ سے پنشن کی مد میں ایک روپیہ بھی نہیں ملا۔ آمدنی اور اخراجات کے درمیان بڑھتا ہوا یہ فرق اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) اور صوبائی حکومت کی جانب سے بیل آؤٹ پیکجز کی عدم فراہمی نے ادارے کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔
یونیورسٹی کب کھلے گی؟ انتظامیہ اور یونینز کے درمیان تعطل
فی الوقت جامعہ پشاور جزوی طور پر بند ہے۔ اگرچہ کچھ تحقیقی سہولیات اور آن لائن وسائل تک رسائی ممکن ہے لیکن باقاعدہ کلاس روم تدریس اور انتظامی خدمات معطل ہیں۔ یونیورسٹی دوبارہ کب کھلے گی؟ اس حوالے سے انتظامیہ نے کوئی حتمی تاریخ نہیں دی ہے۔
ملازمین کی یونینز نے کام پر واپسی کے لیے تین اہم شرائط رکھی ہیں:
مارچ کی بقیہ 60 فیصد تنخواہوں کی فوری ادائیگی۔
پنشن کے تمام واجبات کی کلیئرنس۔
مستقبل میں بروقت ادائیگیوں کے لیے حکومتِ خیبر پختونخوا کی جانب سے تحریری ضمانت۔
تعلیمی مستقبل خطرے میں: طلبہ کے لیے بڑھتی ہوئی پریشانی
ان احتجاجی لہروں نے ہزاروں طلبہ کے تعلیمی مستقبل کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ امتحانات قریب ہیں اور کلاسوں کی معطلی ڈگریوں میں تاخیر اور تعلیمی کیلنڈر کی تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔ اگرچہ طلبہ اساتذہ کے مالی مسائل کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کر رہے ہیں لیکن وہ اپنے ضائع ہونے والے قیمتی وقت کے بارے میں بھی شدید فکر مند ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صوبائی خزانے سے فوری طور پر فنڈز فراہم نہ کیے گئے تو یونیورسٹی کا ڈھانچہ مکمل طور پر مفلوج ہو سکتا ہے۔
مزید تازہ خبریں اور اہم اپڈیٹس کے لیے Urdu Khabar ضرور ملاحظہ کریں۔






