پاکستان میں خواتین کے کھیلوں اور بالخصوص قومی کھیل ہاکی کے حوالے سے ایک بڑی اور تاریخی خوشخبری سامنے آئی ہے۔ پاکستان ویمنز جونیئر ہاکی ٹیم نے شاندار کارکردگی کی بنیاد پر ویمنز جونیئر ایشیا کپ 2026 (Women’s Junior Asia Cup) کے لیے باقاعدہ طور پر کوالیفائی کر لیا ہے۔ یہ کامیابی اس لحاظ سے انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ پاکستانی خواتین کی جونیئر ٹیم پورے 14 سال کے طویل انتظار کے بعد اس براعظمی ٹورنامنٹ کے اسٹیج پر واپس لوٹی ہے۔ اس سے قبل پاکستان نے آخری بار 2012 میں اس باوقار ایونٹ میں شرکت کی تھی۔
ایشین ہاکی فیڈریشن کی جانب سے باقاعدہ تصدیق
ایشین ہاکی فیڈریشن (AHF) نے پاکستان کی اس تاریخی کوالیفیکیشن کی باقاعدہ تصدیق پاکستان ہاکی فیڈریشن (PHF) کو بھیجے گئے ایک آفیشل خط کے ذریعے کی ہے۔ اے ایچ ایف (AHF) کے صدر فومیو اوگورا کی جانب سے بھیجے گئے اس تہنیتی خط میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے مسقط، عمان میں منعقدہ "ویمنز جونیئر اے ایچ ایف کپ 2026” (Women’s Junior AHF Cup) میں اپنی حتمی رینکنگ اور عمدہ کھیل کی بدولت یہ جگہ حاصل کی ہے۔
ایشین ہاکی فیڈریشن نے اپنے خط میں پی ایچ ایف کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا:
"ہمیں پاکستان کی جونیئر نیشنل ٹیم کو ویمنز جونیئر ایشیا کپ 2026 کے لیے کامیابی سے کوالیفائی کرنے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے بے حد خوشی ہو رہی ہے۔ یہ خط آپ کی فیڈریشن کی کوالیفیکیشن اور ایونٹ میں شرکت کی اہلیت کی باقاعدہ توثیق کرتا ہے۔”
اے ایچ ایف نے پی ایچ ایف سے درخواست کی ہے کہ وہ ٹورنامنٹ کی انتظامی تیاریوں، سفری انتظامات، رہائش اور شیڈولنگ کو بروقت حتمی شکل دینے کے لیے 24 جولائی 2026 تک اپنی شرکت کی تحریری تصدیق لازمی جمع کروا دے۔
14 سالہ تعطل کا خاتمہ اور خواتین کی ہاکی کا احیاء
پاکستانی خواتین کی جونیئر ٹیم کا 2012 کے بعد پہلی بار ایشیا کپ کے مرکزی مرحلے میں پہنچنا ملک میں کالی داس اور روایتی کاغذی کارروائیوں سے ہٹ کر گراؤنڈ لیول پر ہونے والی محنت کا نتیجہ ہے۔ گذشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان ہاکی فیڈریشن کے شعبہ خواتین (Women Wing) اور حکومت کی جانب سے ڈومیسٹک لیول پر متعدد ٹورنامنٹس کا انعقاد کیا گیا۔ حال ہی میں اسلام آباد کے ناصربندہ ہاکی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے ‘پرائم منسٹر نیشنل جونیئر ویمنز ہاکی چیمپئن شپ 2026’ جیسے مقابلوں نے نوجوان کھلاڑیوں کو اپنا ٹیلنٹ دکھانے کا بھرپور موقع فراہم کیا جس سے اس بین الاقوامی اسکواڈ کی تشکیل ممکن ہوئی۔
پی ایچ ایف (PHF) کے حکام کوچنگ اسٹاف اور سابق اولمپئنز نے اس سنگِ میل کو پاکستان میں خواتین کی ہاکی کے احیاء کی جانب ایک انقلابی قدم قرار دیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر گرین شرٹس کی یہ واپسی نچلی سطح پر موجود دیگر نوجوان لڑکیوں کے حوصلے بلند کرے گی۔
ویمنز جونیئر اے ایچ ایف کپ مسقط 2026 کا سفر
اگرچہ جونیئر اے ایچ ایف کپ 2026 کے دوران پاکستان کو بنگلہ دیش، ہانگ کانگ چائنا اور ازبکستان جیسی مضبوط ٹیموں کے خلاف سخت مقابلوں کا سامنا کرنا پڑا اور کچھ میچز میں شکست کا منہ بھی دیکھنا پڑا لیکن ٹیم نے مجموعی رینکنگ پوائنٹس کی بدولت ایشیا کپ کے ٹاپ کلاؤڈ میں اپنی جگہ محفوظ رکھی۔ اس ٹورنامنٹ میں شرکت کا بنیادی مقصد ہی ایشیائی سطح کے بڑے ٹورنامنٹ کا ٹکٹ حاصل کرنا تھا جس میں پاکستانی لڑکیاں کامیاب رہیں۔
مستقبل کے چیلنجز اور جونیئر ورلڈ کپ پر نظریں
ویمنز جونیئر ایشیا کپ 2026 صرف ایک براعظمی اعزاز کی جنگ نہیں ہے بلکہ یہ ایونٹ بین الاقوامی ہاکی فیڈریشن (FIH) کے ویمنز جونیئر ہاکی ورلڈ کپ کے لیے بطور کوالیفائر بھی کھیلا جائے گا۔ ایشیا کپ کی ٹاپ پوزیشن حاصل کرنے والی ٹیمیں براہِ راست ورلڈ کپ کے لیے ٹکٹ حاصل کر پائیں گی لہذا پاکستان کے پاس اب عالمی سطح پر ابھرنے کا ایک شاندار موقع ہے۔
سپورٹس مبصرین کا کہنا ہے کہ اب پی ایچ ایف کو بغیر کسی تاخیر کے کھلاڑیوں کے لیے طویل مدتی تربیتی کیمپس (Training Camps) کا انعقاد کرنا چاہیے جہاں انہیں جدید فلڈ لائٹس، آسٹرو ٹرف اور بین الاقوامی معیار کی کوچنگ فراہم کی جا سکے تاکہ وہ ایشیا کپ میں روایتی حریف بھارت، جنوبی کوریا اور جاپان جیسی ورلڈ کلاس ٹیموں کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکیں۔






