پاکستان کی خارجہ پالیسی، بین الاقوامی اقتصادی سفارت کاری، اور مشرقِ وسطیٰ کے جیو پولیٹیکل منظرنامے پر تعاون کو بڑھانے کے حوالے سے نیویارک سے ایک انتہائی سفارتی بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ملکی سلامتی، تجارتی حجم اور خلیجی ممالک کے ساتھ معاشی انضمام کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔
نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں تاریخی اجلاس کے سائیڈ لائنز پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے خلیج تعاون کونسل (GCC) کے سیکرٹری جنرل جاسم محمد البدیوی سے ایک اعلیٰ سطحی سفارتی ملاقات کی ہے۔ اس اہم سیشن کا بنیادی محور پاک جی سی سی تعلقات کا فروغ کے پورے فریم ورک کا سائنسی جائزہ لینا اور خلیجی ریاستوں کے کارپوریٹ مینیجرز کے ساتھ مل کر سرمایہ کاری کے نئے اور اسمارٹ راستے مینوفیکچر کرنا ہے۔
تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں ڈیجیٹل کوریڈورز کا قیام
ملاقات کے دوران اسحاق ڈار اور جی سی سی کے سیکرٹری جنرل کے مابین ہونے والے مذاکرات میں خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک (سعودی عرب، یو اے ای، قطر، بحرین، کویت اور عمان) کے ساتھ پاکستان کے تجارتی حجم کو بڑھانے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
سفارتی مینیجرز کی جانب سے جاری کردہ آفیشل پریس ریلیز کے مطابق، اس تزویراتی ملاقات میں درج ذیل تین بنیادی پیرامیٹرز کو حتمی شکل دی گئی ہے:
آزادانہ تجارتی معاہدہ : پاکستان اور خلیج تعاون کونسل کے مابین آزادانہ تجارتی معاہدے کے مینوفیکچرڈ پلان کو تیز کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے تاکہ پاکستانی برآمدات کو خلیجی منڈیوں تک ڈیوٹی فری اور کیش لیس کوریڈور کے ذریعے رسائی مل سکے۔
توانائی اور انفراسٹرکچر پراجیکٹس: خلیجی ممالک کے پبلک سیکٹر فنڈز کو پاکستان کے متبادل توانائی ، سولر پاور کٹس اور جدید تعمیراتی شعبوں میں انویسٹ کرنے کے لیے کلاؤڈ سپورٹ فراہم کی جائے گی۔
ایس آئی ایف سی کا اسمارٹ فریم ورک: نائب وزیراعظم نے سیکرٹری جنرل کو خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے پورٹل کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی، جو خلیجی سرمایہ کاروں کے لیے مینوئل دفتری رکاوٹوں کو منٹوں میں حل کرنے کا سوفٹ وئیر بیسڈ نظام مہیا کرتا ہے۔
علاقائی امن و استحکام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کیپیسٹی
ملاقات میں خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل جاسم محمد البدیوی نے خطے میں امن، سلامتی اور پائیدار استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے تعمیری اور تزویراتی کردار کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ پاکستان نے ہمیشہ ڈائیلاگ اور سفارت کاری کے مروجہ کونسل رولز کے تحت علاقائی تنازعات کو حل کرنے کی مینوئل اور سائنسی کوشش کی ہے۔
سیکرٹری جنرل نے جی سی سی اور اس کے رکن ممالک کے ساتھ پاکستان کی قریبی شراکت داری کو سراہتے ہوئے انسدادِ دہشت گردی، بحری سلامتی (جیسے آبنائے ہرمز اور بحیرہ عرب کے تجارتی راستوں کا تحفظ) اور لائیو انٹیلی جنس شیئرنگ کے شعبوں میں مشترکہ سوفٹ وئیر بیسڈ مانیٹرنگ گرڈز کو اپ گریڈ کرنے پر زبردست آمادگی ظاہر کی۔ یہ پائیدار سفارتی رخ بلیک مارکیٹنگ کا خاتمہ کر کے بین الاقوامی برادری کے سامنے پاکستان کے سافٹ امیج کو مستقل طور پر بلند کرے گا جو طویل مدتی کریڈٹ ریٹنگ انڈیکس کو بہتر بنانے کے لیے سب سے اولین ترجیح ہے۔






