پاکستان اور تاجکستان نے وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے مابین سفارتی اور اقتصادی روابط کو مزید مستحکم کرتے ہوئے نوجوان نسل کو بااختیار بنانے کے لیے ایک تاریخی شراکت داری کا فیصلہ کیا ہے۔ ستمبر 2026 کے آغاز میں سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق دونوں دوست ممالک نے ایک انقلابی پاک تاجکستان نوجوانوں کا ترقیاتی منصوبہ تیار کر لیا ہے جس کے تحت کھیل، تکنیکی مہارت اور روزگار کے شعبوں میں مشترکہ پروگرامز کا انعقاد کیا جائے گا۔ اس جامع منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے حکومتِ پاکستان نے وزیر اعظم یوتھ پروگرام (PMYP) اور تاجکستان کی کمیٹی برائے امورِ نوجوانان و کھیل کے مابین مفاہمت کی ایک اہم ترین یادداشت (MoU) پر دستخط کرنے کے لیے وفاقی کابینہ سے باضابطہ منظوری مانگ لی ہے۔
مفاہمت کی یادداشت (MoU) کا فریم ورک اور قانونی منظوری
سفارتی ذرائع کے مطابق مجوزہ اسٹریٹجک معاہدے کا متن اور فریم ورک دونوں ممالک کی اعلیٰ قانونی اور سیاسی اتھارٹیز سے کلیئر ہو چکا ہے۔ پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے اس ڈرافٹ کو باقاعدہ سیاسی کلیئرنس دے دی ہے جبکہ لا ڈویژن نے بھی اس کے متن کو قانونی طور پر درست قرار دیا ہے۔ وزیر اعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود احمد خان کی نگرانی میں تمام ضروری دفتری اور سفارتی ضابطے مکمل کر لیے گئے ہیں۔ وفاقی کابینہ کی حتمی منظوری ملتے ہی دونوں ممالک کے وزرائے کھیل اور امورِ نوجوانان اس تاریخی دستاویز پر دستخط کریں گے جس کے بعد اس منصوبے کا باقاعدہ فیلڈ آپریشنل فیز شروع ہو جائے گا۔
روزگار کے نئے مواقع اور نوجوانوں کی پالیسی سازی میں شمولیت
پاک تاجکستان نوجوانوں کا ترقیاتی منصوبہ صرف کھیلوں تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کا ایک بہت بڑا حصہ دونوں ممالک کی نوجوان آبادی کو معاشی طور پر مستحکم کرنا ہے۔ پاکستان کی ‘نیشنل یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی 2026‘ کے وژن کے تحت اس معاہدے کے ذریعے پاکستانی اور تاجک نوجوانوں کے لیے درج ذیل تزویراتی اقدامات کیے جائیں گے:
اسکلز ڈویلپمنٹ اور ٹریننگ: آئی ٹی، ڈیجیٹل اکانومی اور جدید تکنیکی شعبوں میں نوجوانوں کے لیے مشترکہ تربیتی پروگرامز کا انعقاد۔
پالیسی سازی میں شمولیت: نوجوان لیڈرز اور پالیسی سازوں کے مابین تبادلوں کو فروغ دیا جائے گا تاکہ وہ حکومتی فیصلوں میں اپنا فعال کردار ادا کر سکیں۔
روزگار کی منتقلی: دونوں ممالک کے ٹریڈ ہاؤسز اور نجی کمپنیوں کے مابین روابط قائم کر کے نوجوانوں کے لیے انٹرن شپس اور ملازمتوں کے مواقع تلاش کرنا۔
اسپورٹس ڈپلومیسی: مشترکہ مقابلوں اور فٹ بال کا فروغ
اس شراکت داری کا دوسرا سب سے اہم ترین کالم کھیل اور جسمانی سرگرمیوں کا فروغ ہے۔ پاکستان اور تاجکستان نے اسپورٹس ڈپلومیسی کو عوامی روابط بڑھانے کا بہترین ذریعہ قرار دیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک کی قومی اور علاقائی ٹیموں کے مابین فٹ بال، والی بال اور مارشل آرٹس جیسے کھیلوں کے مشترکہ مقابلے منعقد کروائے جائیں گے۔ اس سے قبل پاکستان اور تاجکستان کے فٹ بال فیڈریشنز کے مابین بھی ایک خصوصی تعاون کا معاہدہ طے پا چکا ہے۔ مشترکہ کھیلوں کے ان پروگراموں سے نوجوانوں میں ٹیم ورک، ڈسپلن اور ایک دوسرے کی ثقافت کو سمجھنے کا بہترین موقع ملے گا۔
وسطی ایشیا کی یہ خشکی سے گھری ریاست پاکستان کی گوادر اور کراچی بندرگاہوں کے ذریعے عالمی تجارتی راستوں تک رسائی حاصل کر رہی ہے اور اب یہ کثیر الجہتی تعلیمی و اسپورٹس کوریڈور دونوں ممالک کے پائیدار مستقبل کی ضمانت بنے گا۔





