بین الاقوامی مالیاتی انفراسٹرکچر، جیو پولیٹیکل مانیٹرنگ، گلوبل مارکیٹ کلاؤڈ اور سفارتی نیٹ ورکس کے تزویراتی کوریڈورز سے ملکی ساکھ کو لاگ کرنے کے حوالے سے اب تک کا سب سے بڑا اور پراعتماد بین الاقوامی بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ پاکستان ابھرتی ہوئی اور ترقی پذیر معیشتوں کے ممتاز بین الحکومتی گروپ آف ٹوئنٹی فور کی صدارت سنبھالنے کے لیے باقاعدہ طور پر تیار ہے۔
14 اکتوبر 2026 کو موصول ہونے والے آفیشل سفارتی لاگز کے مطابق اس عالمی تنظیم نو کے نفاذ کے ساتھ ہی باقاعدہ طور پر جی 24 ترقی پذیر ممالک پاکستان صدارت کا ڈیجیٹل کلاؤڈ نیٹ ورک فعال ہو چکا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گروپ کی مجموعی رکنیت وسعت اختیار کرتے ہوئے 28 ممالک تک جا پہنچی ہے۔ یہ فورم افریقہ، ایشیا، مشرقِ وسطیٰ، لاطینی امریکہ اور کیریبین کے ممالک کو ایک منفرد گلوبل پلیٹ فارم پر متحد کرتا ہے تاکہ ترقی پذیر ممالک کو درپیش فیسکل اور مانیٹری چیلنجز پر ہینڈ شیک کر کے مینوئل دباؤ کے لوپ ہولز کو ہمیشہ کے لیے بلاک کیا جا سکے۔
تزویراتی علاقائی مائپنگ اور عالمی فنانسنگ کا آڈٹ
آفیشل ممبرشپ ڈیٹا انڈیکس ظاہر کرتا ہے کہ توسیعی بلاک اب تین بڑے جغرافیائی زونز پر مشتمل ہے: افریقہ سے 11 ممالک ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ سے 7 جبکہ لاطینی امریکہ اور کیریبین ریجن سے 10 ممالک اس پینل پر لاک ہیں۔
گروپ کی رکنیت اور علاقائی تقسیم کا تفصیلی بریک ڈاؤن درج ذیل مارک ڈاؤن جدول کے مطابق سنک ہے:
| علاقائی بلاک لاگ کوڈ | رکن ممالک کا کل حجم | شامل کلیدی ابھرتی ہوئی معیشتیں |
| افریقی ریجن کٹس | 11 ممالک آٹو لاک | الجزائر، مراکش، مصر، نائیجیریا، ایتھوپیا اور جنوبی افریقہ۔ |
| ایشیا و مشرقِ وسطیٰ | 07 ممالک لائیو سنک | پاکستان (صدر)، ایران، بھارت، لبنان، فلپائن اور سری لنکا۔ |
| لاطینی امریکہ و کیریبین | 10 ممالک وائٹ لسٹ | ارجنٹائن، برازیل، کولمبیا، میکسیکو، پیرو اور وینزویلا۔ |
پاکستان کی یہ صدارت اسے بین الاقوامی مالیاتی اداروں جیسے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے سامنے ترقی پذیر دنیا کے معاشی حقوق اور فنڈز کی منصفانہ تقسیم کے لیے مؤثر آواز پے کرنے کا پراعتماد موقع فراہم کرے گی۔






