حکومتِ پاکستان کے زیرِ انتظام چلنے والے ریلوے نیٹ ورک کے مسافروں کے لیے ایک بڑی خبر سامنے آئی ہے۔ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات اور بالخصوص ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے اور کئی روٹس پر مسافروں کی شدید کمی کے باعث پاکستان ریلویز ٹرینیں معطل کرنے کا ایک بڑا فیصلہ کیا گیا ہے ریلوے حکام کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین معلومات کے مطابق فی الوقت مجموعی طور پر 8 مسافر ٹرینوں کی خدمات کو عارضی طور پر روک دیا گیا ہے تاکہ محکمے کو مزید مالیاتی نقصانات سے بچایا جا سکے۔ پاکستان ریلویز نے اس فیصلے کو بڑھتے ہوئے آپریشنل اخراجات کو مینیج کرنے کے لیے ایک ناگزیر اقدام قرار دیا ہے۔
معطل ہونے والی 8 مسافر ٹرینوں کی مکمل فہرست
پاکستان ریلویز کے ترجمان کے مطابق جن ٹرینوں کا آپریشن فی الحال روکا گیا ہے ان میں مختلف صوبوں کو ملانے والی ایکسپریس اور لوکل مسافر ٹرینیں شامل ہیں۔ معطل ہونے والی ٹرینوں کے نام درج ذیل ہیں:
بولان میل (Bolan Mail)
خوشحال خان خٹک ایکسپریس (Khushhal Khan Khattak Express)
میھران ایکسپریس (Mehran Express)
چمن پیسنجر (Chaman Passenger)
ماروی ایکسپریس (Marvi Express)
سمن سرکار ایکسپریس (Saman Sarkar Express)
موہن جوڈارو ایکسپریس (Moenjodaro Express)
راوی ایکسپریس (Ravi Express)
ٹائم ٹیبل اور روٹس کی باقاعدہ تصدیق کے لیے مسافر پاکستان ریلویز کی آفیشل ویب سائٹ پر جا کر آن لائن شیڈول اور لائیو ٹریکنگ مانیٹر کر سکتے ہیں۔
ٹرینیں بند کرنے کی اصل وجوہات: ڈیزل کی قیمتیں اور لوئر آکوپینسی
ریلوے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ اچانک نہیں بلکہ ایک تفصیلی مالیاتی اور آپریشنل جائزے کے بعد لیا گیا ہے۔ اس معطلی کے پیچھے دو بڑی وجوہات کارفرما ہیں:
ایندھن کے بڑھتے ہوئے اخراجات: پاکستان میں حال ہی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں جو اضافہ ہوا ہے اس نے ریلوے کے بجٹ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ڈیزل مہنگا ہونے کی وجہ سے ٹرینوں کو چلانے کی لاگت (Operational Costs) دگنی ہو چکی ہے۔
مسافروں کی تعداد میں کمی (Low Passenger Turnout):جن روٹس پر ان 8 ٹرینوں کو چلایا جا رہا تھا، وہاں گزشتہ چند ماہ سے مسافروں کی تعداد انتہائی کم ریکارڈ کی گئی۔ کم مسافروں کے ساتھ ٹرین چلانا محکمے کے لیے مسلسل خسارے کا باعث بن رہا تھا۔
حکومتِ پاکستان کے مانیٹرنگ سیل اور پبلک سیکٹر کی مالیاتی پالیسیوں کے حوالے سے مزید معلومات وزارتِ ریلوے پاکستان کے وفاقی پورٹل سے حاصل کی جا سکتی ہیں۔
کیا یہ معطلی مستقل ہے؟ ریلوے حکام کا اہم موقف
پاکستان ریلویز کے ترجمان نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ ٹرینوں کی یہ بندش مستقل بنیادوں پر نہیں بلکہ ایک عارضی اقدام (Temporary Measure) ہے۔ محکمہ ریلوے مسلسل ایندھن کی قیمتوں، آپریشنل لاگت اور مسافروں کی طلب کا جائزہ لے رہا ہے۔ جیسے ہی معاشی صورتحال مستحکم ہوگی اور ان روٹس پر مسافروں کی آمد و رفت میں بہتری آئے گی ان تمام معطل شدہ سروسز کو دوبارہ سے بحال کر دیا جائے گا۔
ریلوے انتظامیہ نے ان ٹرینوں میں پہلے سے بکنگ کروانے والے مسافروں کو قریبی ریزرویشن دفاتر سے رابطہ کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ ان کے ٹکٹس کے متبادل انتظامات یا ریفنڈ کا عمل مکمل کیا جا سکے۔






