آج صبح، 17 اپریل 2026 کو پاکستان ریلوے پولیس (PRP) نے ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے لاہور، پشاور اور سکھر کے تین بڑے مراکز میں 48 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی مقبوضہ زمین کامیابی سے واگزار کروا لی ہے۔ یہ آپریشن جو علی الصبح شروع ہوا ریلوے کی زمینوں سے غیر قانونی قبضے ختم کرنے کے ملک گیر مہم کا حصہ ہے۔
تین شہروں میں بڑی فتح: زمین کی واپسی کی تفصیلات
اینٹی انکروچمنٹ ٹیموں نے جنہیں مقامی انتظامیہ اور بھاری مشینری کی مدد حاصل تھی تینوں صوبوں میں بیک وقت کارروائی کی تاکہ قبضہ مافیا کو سنبھلنے کا موقع نہ مل سکے۔
لاہور: ریلوے ٹریکس کے قریب واقع انتہائی قیمتی تجارتی پلاٹوں کو غیر قانونی شیڈز اور گوداموں سے صاف کروا لیا گیا۔
پشاور: ریلوے کی مستقبل کی توسیع میں حائل رہائشی تجاوزات، جو کئی سالوں سے قائم تھیں، مسمار کر دی گئیں۔
سکھر: زراعت اور سٹوریج کے مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے زمین کے وسیع رقبے کو دوبارہ سرکاری کنٹرول میں لایا گیا ہے۔
یہ مربوط کوشش حالیہ مہینوں میں محکمہ کی جانب سے ایک ہی دن میں ہونے والی سب سے بڑی مالی ریکوریوں میں سے ایک ہے۔
واگزار کروائی گئی زمین کی تزویراتی اہمیت
ترجمان پاکستان ریلوے کے مطابق، واگزار کروائی گئی یہ زمین ایم ایل ون (ML-1) اور دیگر علاقائی رابطوں کے منصوبوں کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ ان رکاوٹوں کے خاتمے کے بعد، اب محکمہ ان تکنیکی سرویز اور ٹریک کی اپ گریڈیشن پر کام شروع کر سکے گا جو غیر قانونی تعمیرات کی وجہ سے رکے ہوئے تھے۔
زمینوں پر قبضے کے خلاف ‘زیرو ٹالرنس’ پالیسی
آئی جی ریلوے پولیس نے بیان دیا ہے کہ آج صبح کا یہ آپریشن قبضہ مافیا کے لیے ایک واضح پیغام ہے۔ وزارتِ ریلوے کی "کلین اینڈ کلیئر” پالیسی کے تحت پولیس کو سرکاری املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری وسائل استعمال کرنے کا مکمل اختیار دیا گیا ہے۔
حکام نے خبردار کیا ہے کہ ان مقامات پر دوبارہ قبضے کی کسی بھی کوشش کی صورت میں فوری طور پر ایف آئی آر (FIR) درج کی جائے گی اور ریلوے ایکٹ کے تحت مجرمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
تازہ خبریں اور اپڈیٹس جاننے کے لیے Urdu Khabar پر جائیں






