پاکستان کو درپیش توانائی کے بحران اور مہنگے درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے کے لیے ایک بڑی اور انقلابی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اعلان کیا ہے کہ ترکیہ کی سرکاری کمپنی ترکش پیٹرولیم (TPAO) ستمبر یا اکتوبر کے مہینے میں پاکستان کی علاقائی سمندری حدود میں باقاعدہ طور پر گہرے سمندر سے تیل اور گیس نکالنے کے لیے ڈرلنگ شروع کر دے گی۔ تقریباً دو دہائیوں کے طویل تعطل کے بعد پاکستان میں آف شور ڈرلنگ کا آغاز ملکی معیشت کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔ اس منصوبے کے تحت ترک بحریہ کے جدید ترین بحری جہاز اور سائنسی آلات پاکستانی سمندروں کا رخ کریں گے۔
ترکش پیٹرولیم کی سرمایہ کاری اور منصوبے کی تفصیلات
وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کے مطابق اس ابتدائی کھدائی اور سائنسی سروے کے مرحلے پر ترکش پیٹرولیم کی جانب سے تقریباً 120 سے 130 ملین ڈالرز کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) کی جائے گی۔ اگر یہ ڈرلنگ کامیاب رہتی ہے اور سمندر کے نیچے تجارتی پیمانے پر ہائیڈرو کاربن کے ذخائر دریافت ہو جاتے ہیں، تو یہ سرمایہ کاری اربوں ڈالرز تک پہنچ جائے گی۔
یہ منصوبہ دونوں ممالک کے درمیان دسمبر 2025 میں اسلام آباد منرلز انویسٹمنٹ فورم کے دوران طے پانے والے معاہدوں کا تسلسل ہے۔ اس مشترکہ بولی کے معاہدے کے تحت ترکیہ کی TPAO پاکستان کی قومی کمپنیوں جیسے کہ ماڑی انرجیز (Mari)، او جی ڈی سی ایل (OGDCL)، اور پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (PPL) کے ساتھ مل کر مکران اور انڈس بیسن (Indus Basin) کے مختلف بلاکس پر کام کر رہی ہے۔
پاکستان کے لیے سمندری ذخائر کی اہمیت اور معاشی اثرات
پاکستان اس وقت اپنی توانائی کی ضروریات کا تقریباً 90 فیصد حصہ خام تیل اور مائع قدرتی گیس (LNG) کی شکل میں درآمد کرتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق:
پاکستان کی روزانہ تیل کی طلب تقریباً 500,000 بیرل ہے۔
اس کے مقابلے میں پاکستان کی مقامی پیداوار صرف 70,000 بیرل روزانہ ہے۔
اس بڑے فرق کی وجہ سے پاکستان کو ہر سال اربوں ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ باہر بھیجنا پڑتا ہے۔ اگر مکران یا انڈس گہرے سمندر کے بلاکس سے تیل یا گیس دریافت ہو جاتی ہے، تو پاکستان نہ صرف توانائی میں خود کفیل ہو جائے گا بلکہ ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی دیکھنے کو ملے گی۔
مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ اور پاک ترک تزویراتی تعلقات
پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ معاشی تعاون پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان حال ہی میں طے پانے والے تاریخی مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ کا ہی ایک مثبت شاخسانہ ہے۔ پاکستان اب خلیجی اور برادر ممالک کے ساتھ مل کر محض دفاعی حد تک نہیں بلکہ اقتصادی، سائنسی اور توانائی کے شعبوں میں بھی طویل مدتی منصوبوں پر تیزی سے عمل درآمد کر رہا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی خصوصی ہدایات پر ایک بین الاقوامی کمپنی پاکستان کے پورے انرجی سیکٹر کا جامع روڈ میپ بھی تیار کر رہی ہے جو جلد پیش کر دیا جائے گا۔






