پاکستان نے اپنی طبی معیشت کو نئی زندگی دینے کے لیے ایک اہم اسٹریٹجک قدم اٹھاتے ہوئے پاکستان نیشنل میڈیکل ٹورازم انیشیٹو کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ یہ پروگرام ‘اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل’ (SIFC) کے زیرِ نگرانی تیار کیا گیا ہے جس کا بنیادی مقصد ملک کو سستی اور اعلیٰ معیار کی طبی خدمات کے لیے ایک علاقائی مرکز (Hub) بنانا ہے۔
یہ اقدام صرف صحت کی سہولیات تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ جراحی کی مہارت (Surgical Expertise) کو معاشی سفارت کاری کے ساتھ جوڑنے کی ایک سوچی سمجھی کوشش ہے تاکہ دنیا کو پاکستان کے بدلتے ہوئے طبی منظر نامے سے روشناس کرایا جا سکے۔
پی اے پی ایس (PAPS) کی 30 ویں سالانہ کانفرنس
اس اقدام کا باقاعدہ اعلان پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (PIMS) میں ‘پاکستان ایسوسی ایشن آف پلاسٹک سرجنز’ کی 30 ویں سالانہ کانفرنس کے دوران کیا گیا۔ علاقائی چیلنجز کے باوجود، اس تقریب میں ایوا ماریا اور نک ولسن جان جیسے عالمی شہرت یافتہ ماہرین سمیت 400 سے زائد مندوبین نے شرکت کی۔
عبدالخالق ملک کی سربراہی میں منعقد ہونے والی اس کانفرنس میں درج ذیل پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا:
جدید ایستھیٹکس (Aesthetics): بوٹوکس اور فلرز جیسے جدید طریقہ علاج کی نمائش۔
ری کنسٹرکٹیو ایکسی لینس: بین الاقوامی معیار کے مطابق پیچیدہ جراحی کے طریقہ کار۔
لائیو ورک شاپس: جدید ترین جراحی کی درستگی کا براہِ راست مظاہرہ۔
ٹیلی میڈیسن: ڈیجیٹل ریڑھ کی ہڈی
میڈیکل ٹورازم کے جسمانی انفراسٹرکچر کے ساتھ ساتھ حکومت ڈیجیٹل ہیلتھ پر بھی بھاری سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے حال ہی میں ‘صحت کہانی’ (Sehat Kahani) کے ٹیلی میڈیسن پلیٹ فارم کی توسیع کا جائزہ لیا۔
اسلام آباد اور کراچی میں آٹھ مراکز میں ٹیلی میڈیسن کے تعارف سے رسائی اور اخراجات میں کمی کے حوالے سے اہم سنگ میل عبور کیے گئے ہیں۔
معاشی اثر: ٹیلی میڈیسن کے اس منصوبے سے مریضوں کے غیر ضروری سفری اخراجات کی مد میں اب تک تقریباً 80 لاکھ روپے (8 ملین) کی بچت ہو چکی ہے۔
وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت اہم اجلاس میں ٹیلی میڈیسن منصوبے کی شاندار کارکردگی پیش کی گئی۔
— Syed Mustafa Kamal (@KamalMQM) April 13, 2026
ابتدائی 3 ماہ میں اسلام آباد اور کراچی کے 8 مراکز پر کامیاب نفاذ کے ذریعے ہزاروں مریضوں کو جنرل اور اسپیشلسٹ سہولیات فراہم کی گئیں، جن میں گائناکالوجی، بچوں اور جلد کے… pic.twitter.com/vaAPNIhBSQ
ٹیلی میڈیسن سے فائدہ اٹھانے والوں کی تفصیلات
| میٹرک (Metric) | اعداد و شمار |
| بنیادی مستفید کنندگان (خواتین) | 65% |
| فعال مراکز | 8 (اسلام آباد اور کراچی) |
| تخمینہ شدہ بچت | 80 لاکھ روپے |
پاکستان نیشنل میڈیکل ٹورازم انیشیٹو کے اسٹریٹجک اہداف
سیکرٹری صحت اسلم غوری اور ڈی جی SIFC اسد الرحمن چیمہ کے مطابق یہ اقدام تین کلیدی ستونوں پر استوار ہے:
کم لاگت (Cost-Effectiveness): مغربی یا مشرق وسطیٰ کی مارکیٹوں کے مقابلے میں انتہائی کم قیمت پر جراحی اور طبی خدمات کی فراہمی۔
معیار کی ضمانت (Quality Assurance): غیر ملکی مریضوں میں اعتماد پیدا کرنے کے لیے مقامی ہسپتالوں کو بین الاقوامی ایکریڈیشن (Accreditation) کے مطابق ڈھالنا۔
سرمایہ کاری میں سہولت: SIFC فریم ورک کی مدد سے سپیشلٹی ہسپتالوں اور طبی آلات کے شعبے میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) کو راغب کرنا۔
پاکستان نیشنل میڈیکل ٹورازم انیشیٹو معیشت میں ‘انسان دوست ترقی’ کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔ پلاسٹک سرجری اور ری کنسٹرکٹیو سرجری جیسی مخصوص مارکیٹوں پر توجہ دے کر جہاں پاکستانی سرجن پہلے ہی عالمی شہرت رکھتے ہیں حکومت زرمبادلہ کا ایک پائیدار ذریعہ پیدا کرنے اور ساتھ ہی مقامی آبادی کے لیے صحت کے نظام کو بہتر بنانے کی امید رکھتی ہے۔
تازہ ترین خبروں اور اپڈیٹس کے لیے Urdu Khabar ضرور دیکھیں






