فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کی جانب سے جاری ہونے والی تازہ ترین اپ ڈیٹ نے پاکستان میں ڈیجیٹل تخلیق کاروں پر دہرا ٹیکس کے باعث ڈیجیٹل کمیونٹی میں کھلبلی مچا دی ہے- جہاں پہلے ہی ویوز پر ٹیکس کی خبریں گردش کر رہی تھیں وہیں اب یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے درمیان ایک نیا اور سنگین خوف جنم لے رہا ہے: دہرا ٹیکس (Double Taxation)۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایک پاکستانی مواد تخلیق کرنے والا (Content Creator) اپنی محنت کی کمائی پر دو الگ الگ ممالک کو ٹیکس ادا کرے گا؟
پاکستان میں ڈیجیٹل اکانومی تیزی سے ترقی کر رہی ہے لیکن ٹیکس کے نئے اور پیچیدہ قوانین اس رفتار کو سست کر سکتے ہیں۔ ایف بی آر کی حالیہ کوششوں کا مقصد ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا ہے تاہم سورس آف انکم اور ریذیڈنسی کے درمیان الجھاؤ نے خدشات کو حقیقت بنا دیا ہے۔
دہرے ٹیکس کا معمہ اور یوٹیوب کی پالیسی
پاکستانی یوٹیوبرز پہلے ہی عالمی سطح پر ٹیکس کے نظام کا حصہ ہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ کے ویوز امریکہ سے آ رہے ہیں تو گوگل/یوٹیوب امریکی قوانین کے تحت وہاں پہلے ہی 15% سے 30% تک ودہولڈنگ ٹیکس کاٹ لیتا ہے۔ اب اگر ایف بی آر بھی اسی آمدن پر پاکستان میں ٹیکس وصول کرتا ہے تو تخلیق کار کی کل آمدن کا ایک بڑا حصہ صرف ٹیکسوں کی نذر ہو جائے گا۔
تخلیق کاروں کا موقف ہے کہ جب ایک بار بین الاقوامی سطح پر ٹیکس کٹ چکا ہے تو اسی رقم پر دوبارہ مقامی سطح پر ٹیکس وصول کرنا ناانصافی ہے۔
ایف بی آر کی اپ ڈیٹ اور دہرے ٹیکس سے بچاؤ کے معاہدے (DTAA)
پاکستان کے کئی ممالک کے ساتھ دہرے ٹیکس سے بچاؤ کے معاہدے موجود ہیں۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کی ویب سائٹ کے مطابق ان معاہدوں کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ایک ہی شخص کو ایک ہی آمدن پر دو بار ٹیکس نہ دینا پڑے۔
تاہم موجودہ بحران کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ایف بی آر کے حالیہ ویوز بیسڈ ٹیکس ماڈل میں اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ بیرون ملک کٹنے والے ٹیکس کو پاکستان میں کیسے ایڈجسٹ کیا جائے گا۔ اگر مناسب میکانزم نہ بنایا گیا تو تخلیق کاروں کے لیے اپنی کمائی بچانا ناممکن ہو جائے گا۔
ڈیجیٹل پاکستان ویژن کو خطرات
وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن (MoITT) نے ہمیشہ ڈیجیٹل برآمدات کو بڑھانے کی بات کی ہے۔ لیکن اس طرح کے مبہم قوانین سے "ڈیجیٹل برین ڈرین” کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دہرے ٹیکس کا مسئلہ حل نہ ہوا، تو بڑے یوٹیوبرز اپنے اثاثے اور بینک اکاؤنٹس دبئی یا دیگر ٹیکس دوست ممالک میں منتقل کر سکتے ہیں جس سے پاکستان کو حاصل ہونے والے قیمتی زرمبادلہ کا نقصان ہوگا۔
مزید تازہ خبریں اور اہم اپڈیٹس کے لیے Urdu Khabar کا رخ کریں۔






