پاکستان کے بڑے شہروں خصوصاً پنجاب میں ٹریفک مینجمنٹ کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور سیف سٹی کیمروں کی مدد سے ای-چالان (E-Challan) کا نظام تیزی سے کام کر رہا ہے۔ اکثر اوقات شہریوں کو معلوم ہی نہیں ہوتا اور ان کی گاڑی یا موٹر سائیکل پر سگنل توڑنے اوور اسپیڈنگ یا ہیلمٹ نہ پہننے کی وجہ سے چالان ہو چکا ہوتا ہے۔ اگر یہ چالان وقت پر جمع نہ کروائے جائیں تو ٹریفک پولیس آپ کی گاڑی کو کسی بھی ناکے پر روک کر ضبط (Impound) کر سکتی ہے۔ اس پریشانی سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ باقاعدگی سے اپنا آن لائن چالان چیک کریں تاکہ کسی بھی خفیہ جرمانے کا بروقت پتہ چل سکے۔
خفیہ ٹریفک ای چالان اور گاڑی ضبط ہونے کا خطرہ
ماضی میں چالان صرف موقع پر موجود ٹریفک وارڈن ہی کاٹتے تھے لیکن اب ہائی ٹیک کیمرے آپ کی گاڑی کی نمبر پلیٹ کی تصویر لے کر خودکار طریقے سے چالان سسٹم میں اپ لوڈ کر دیتے ہیں۔
اطلاع نہ ملنا: ایکسائز ڈیپارٹمنٹ میں موبائل نمبر یا پتہ اپ ڈیٹ نہ ہونے کی وجہ سے اکثر شہریوں کو چالان کا ایس ایم ایس (SMS) موصول نہیں ہوتا۔
کاغذی کارروائی میں رکاوٹ: اگر آپ کے چالان واجب الادا ہوں، تو آپ اپنی گاڑی کسی دوسرے کے نام ٹرانسفر نہیں کر سکتے اور نہ ہی ٹوکن ٹیکس جمع کروا سکتے ہیں۔
گاڑی کا بند ہونا: ٹریفک پولیس کے پاس اب ایسی جدید ڈیوائسز موجود ہیں جو سڑک پر چلتی گاڑی کا نمبر اسکین کر کے فوری بتا دیتی ہیں کہ اس پر کتنے چالان پینڈنگ ہیں، جس کے بعد گاڑی فوری طور پر تھانے بند کر دی جاتی ہے۔
شناختی کار اور نمبر پلیٹ کے ذریعے آن لائن چالان چیک کرنے کا طریقہ کار
محکمہ ٹریفک پولیس اور پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی (PSCA) نے شہریوں کی سہولت کے لیے ایک انتہائی آسان پورٹل فراہم کیا ہے، جس کے ذریعے کوئی بھی شخص چند سیکنڈز میں اپنے واجب الادا جرمانوں کی تفصیلات حاصل کر سکتا ہے۔
آفیشل ویب سائٹ کا استعمال
سب سے پہلے اپنے موبائل یا کمپیوٹر پر پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کا آفیشل ای-چالان پورٹل (echallan.psca.gop.pk) اوپن کریں۔
اس کے بعد پہلے باکس میں اپنی گاڑی یا موٹر سائیکل کا رجسٹریشن نمبر (مثال کے طور پر: LEB-19-1234) درج کریں۔
دوسرے باکس میں گاڑی کے مالک کا 13 ہندسوں پر مشتمل قومی شناختی کارڈ (CNIC) نمبر بغیر ڈیشز (-) کے لکھیں۔ اگر شناختی کارڈ دستیاب نہ ہو تو گاڑی کا چیسس نمبر (Chassis Number) بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
نیچے دیے گئے کیپچا (Captcha) کوڈ کو حل کریں اور "Search” کے بٹن پر کلک کریں۔
چالان کی تفصیلات اور اسٹیٹس دیکھنا
سرچ بٹن پر کلک کرتے ہی آپ کے سامنے ایک مکمل ڈیش بورڈ کھل جائے گا۔ اگر آپ کی گاڑی پر کوئی جرمانہ ہوگا، تو وہاں چالان کی تاریخ، وقت، خلاف ورزی کی نوعیت (جیسے سگنل کی خلاف ورزی یا ہیلمٹ نہ ہونا) اور چالان کی رقم واضح طور پر لکھی ہوئی نظر آئے گی۔
ای چالان کی آن لائن ادائیگی کیسے کی جائے؟
اگر چالان لسٹ میں کوئی جرمانہ ظاہر ہو رہا ہے تو اسے فوری طور پر ادا کرنے کے لیے درج ذیل طریقہ اپنائیں:
PSID نمبر حاصل کرنا: پورٹل پر موجود چالان کے سامنے "Generate Challan” کے آپشن پر کلک کریں، جس سے آپ کو ایک مخصوص 18 ہندسوں کا پی ایس آئی ڈی (PSID) نمبر مل جائے گا۔
ڈیجیٹل ادائیگی: اس پی ایس آئی ڈی نمبر کو آپ اپنے موبائل بینکنگ ایپ، ایزی پیسہ (EasyPaisa)، جیز کیش (JazzCash) یا ای-پے پنجاب (e-Pay Punjab) ایپ کے ذریعے سیکنڈز میں ادا کر سکتے ہیں۔
بینک برانچ: اگر آپ آن لائن ادائیگی نہیں کرنا چاہتے تو چالان فارم کا پرنٹ لے کر بینک آف پنجاب (BOP) کی کسی بھی برانچ میں نقد رقم جمع کروا سکتے ہیں۔
باقاعدگی سے آن لائن چالان چیک کرنے کی عادت ڈالیں تاکہ آپ کسی بھی ناگہانی پریشانی، بھاری جرمانوں اور روڈ پر گاڑی بند ہونے کی خفت سے محفوظ رہ سکیں۔






