اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے وفاقی دارالحکومت میں شادیوں کی تقریبات کو سادہ بنانے اور اصراف سے بچنے کے لیے ون ڈش پالیسی پر سختی سے عمل درآمد شروع کر دیا ہے۔ مئی 2026 کے حالیہ کریک ڈاؤن میں ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان نواز میمن کی ہدایت پر درجنوں شادی ہالز اور مارکیز کو سیل کیا گیا ہے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والے مالکان کے خلاف ایف آئی آرز درج کر کے گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئی ہیں۔
ون ڈش پالیسی کیا ہے اور اس کی ضرورت کیوں پڑی؟
ون ڈش پالیسی کا مقصد شادی بیاہ کی تقریبات میں شاہ خرچیوں کو روکنا اور غریب و متوسط طبقے پر مالی بوجھ کو کم کرنا ہے۔ اس قانون کے تحت:
شادی کی تقریب میں صرف ایک اہم ڈش (سالن مع چاول یا روٹی) اور ایک میٹھا پیش کرنے کی اجازت ہے۔
مہمانوں کی کل تعداد کو 200 افراد تک محدود رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
کھانے کے ضیاع کو روکنے کے لیے اس پالیسی پر عمل درآمد کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔
وفاقی حکومت کی ون ڈش پالیسی پر عمل درآمد کے لیے ضلعی انتظامیہ اسلام آباد کا سخت حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ، سیلنگ کے دوران عمارت میں ایونٹ منعقد کروانے پر مارکی مالک کے خلاف اندراج مقدمہ کے ساتھ ساتھ فی الفور گرفتاری عمل میں لائی جائے گی جبکہ بھاری جرمانے کے ساتھ عمارت کو سیل بھی… pic.twitter.com/SxZUlMnkyC
— DC Islamabad (@dcislamabad) May 4, 2026
انتظامیہ کا سخت ایکشن: گرفتاریاں اور جرمانے
مئی 2026 کے پہلے ہفتے میں اسلام آباد کے مختلف علاقوں بشمول ایکسپریس وے، ای الیون (E-11) اور بارہ کہو میں اسسٹنٹ کمشنرز نے اچانک چھاپے مارے۔ رپورٹ کے مطابق دوسری بار خلاف ورزی کرنے والے ہالز کو نہ صرف بھاری جرمانے کیے جا رہے ہیں بلکہ انہیں مستقل طور پر سیل بھی کیا جا رہا ہے۔
شادی ہال سیل ہونے سے کیسے بچائیں؟ (حفاظتی تدابیر)
اگر آپ اپنی یا اپنے کسی عزیز کی شادی کی تقریب اسلام آباد میں منعقد کر رہے ہیں تو درج ذیل احتیاطی تدابیر اپنا کر قانونی کارروائی سے بچ سکتے ہیں:
مینو کی پابندی کریں: صرف ایک سالن اور ایک میٹھی ڈش کا انتخاب کریں۔ سلاد اور رائتہ اس پابندی سے مستثنیٰ ہو سکتے ہیں لیکن اضافی ڈشز (جیسے تکہ، کباب اور مختلف قسم کے چاول) سے گریز کریں۔
وقت کی پابندی: ضلعی انتظامیہ نے شادی ہالز کے لیے رات 10 بجے تک کا وقت مقرر کیا ہے۔ مقررہ وقت پر تقریب ختم کرنا آپ کو جرمانے سے بچا سکتا ہے۔
مہمانوں کی تعداد: تقریب میں مدعو کیے گئے مہمانوں کی تعداد 200 سے زائد نہ ہونے دیں، ورنہ ہال انتظامیہ اور میزبان دونوں کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے۔
ہال انتظامیہ سے تحریری معاہدہ: ہال بک کرواتے وقت یہ یقینی بنائیں کہ وہ حکومتی ایس او پیز (SOPs) پر عمل کریں گے۔
مزید تازہ الرٹس اور اپڈیٹس کے لیے Urdu Khabar ضرور وزٹ کریں






