جغرافیائی سیاست ، بین الاقوامی تعلیم اور کارٹوگرافی (نقشہ نویسی) کے میدان سے ایک ایسی تاریخی اور غیر معمولی عالمی پیشرفت سامنے آئی ہے جس نے دنیا کو دیکھنے کا ہمارا صدیوں پرانا نظریہ یکسر تبدیل کر دیا ہے ۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (UNGA) نے بھاری اکثریت سے دنیا کا ایک بالکل نیا اور درست نقشہ متعارف کرانے کی قرارداد منظور کر لی ہے جس کا نام اقوام متحدہ نیا عالمی نقشہ رکھا گیا ہے۔
4 ستمبر 2026 کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں ہونے والے ایک تاریخی اجلاس کے دوران اس انقلابی قرارداد کے حق میں 164 ممالک نے ووٹ دیا جبکہ صرف امریکہ (US) نے اس کی مخالفت میں ووٹ ڈالا اور 6 ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ افریقن یونین کے 54 ممالک کی حمایت اور مغربی افریقی ملک ٹوگو کی جانب سے پیش کی جانے والی اس قرارداد کا بنیادی مقصد 450 سال پرانے استعماری دور کے مرکیٹر نقشے کے فکری اور جغرافیائی نقصانات کو ختم کر کے دنیا کے سامنے تمام براعظموں کا اصل رقبہ پیش کرنا ہے۔
مرکیٹر نقشے کا المیہ اور افریقہ و لاطینی امریکہ کا جغرافیائی زوال
سنہ 1569 میں ڈچ کارٹوگرافر جیرارڈس مرکیٹر نے سمندری سفر اور بحری مینوئل گائیڈنس کے لیے ایک نقشہ مینوفیکچر کیا تھا۔ اس روایتی کسٹمز والے نقشے کی سب سے بڑی سائنسی خرابی یہ تھی کہ یہ خطِ استوا سے دور قطبین کی طرف موجود زمین کے رقبے کو کئی گنا بڑھا کر دکھاتا ہے جبکہ استوائی خطے میں واقع ممالک کو انتہائی چھوٹا ظاہر کرتا ہے۔
اس مینوئل خرابی کے باعث پچھلے ساڑھے چار سو سال سے درج ذیل جغرافیائی تضاد پوری دنیا کے تعلیمی نظام اور ذہنوں پر مسلط رہا ہے:
گرین لینڈ بمقابلہ افریقہ: روایتی مرکیٹر نقشے پر گرین لینڈ اور برعظم افریقہ سائز میں بالکل برابر نظر آتے ہیں جبکہ سائنسی حقیقت یہ ہے کہ افریقہ رقبے میں گرین لینڈ سے 14 گنا بڑا ہے۔
مغربی ممالک کی غیر منصفانہ برتری: اس مسخ شدہ نظام کی وجہ سے امریکہ، روس اور یورپ نقشے پر اپنے اصل سائز سے دگنے یا تگنے دکھائی دیتے ہیں، جبکہ افریقہ، لاطینی امریکہ اور جنوبی ایشیا (بشمول پاکستان و انڈیا) کو ان کے اصل رقبے سے بہت چھوٹا مینوفیکچر کر کے دکھایا گیا ہے جس سے ان خطوں کی معاشی اور سیاسی اہمیت عالمی سطح پر کم نظر آتی تھی۔
ٹوگو کے وزیر خارجہ رابرٹ ڈوسی نے اقوام متحدہ کے مینیجرز کے سامنے موقف پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ نقشے کبھی بھی غیر جانبدار نہیں ہوتے؛ یہ دنیا کے بارے میں ہمارے شعور اور تخیل کی رہنمائی کرتے ہیں اس لیے ایک غلط اور بگڑا ہوا نقشہ نسل در نسل گمراہی پھیلانے کا سبب بن رہا تھا جسے اب درست کرنا لازم تھا۔
ایکول ارتھ پروجیکشن کے نئے سائنسی فیچرز
اقوام متحدہ کی جانب سے منظور کی جانے والی اس نئی پالیسی کے تحت اب 16ویں صدی کے پرانے ڈیزائن کو آفیشل طور پر ریٹائر کر کے سال 2018 میں تیار کردہ جدید ایکول ارتھ پروجیکشن کو دنیا کا نیا ڈیجیٹل اور تعلیمی معیار قرار دے دیا گیا ہے۔ یہ نقشہ ریاضیاتی اور جغرافیائی طور پر زمین کے گولائی کے رقبے کو بالکل درست نسبت کے ساتھ سیدھی سطح پر منتقل کرنے کی مینوفیکچرنگ صلاحیت رکھتا ہے۔
اس نئے سوفٹ وئیر بیسڈ کارٹوگرافک ماڈل کے تحت دنیا کا نیا نقشہ ان اہم تبدیلیوں کے ساتھ سامنے آئے گا:
افریقہ کا حقیقی سائز: اس نئے نقشے پر برعظم افریقہ اپنی پوری وسعت کے ساتھ مرکز میں نظر آئے گا، جس کے اندر امریکہ، چین، انڈیا، جاپان اور پورا یورپ ایک ساتھ سما سکتے ہیں اور پھر بھی زمین باقی بچ جائے گی۔
فرانس اور برطانیہ کی تائید: فرانس نے جو اس قرارداد کا کو-اسپانسر تھا باقاعدہ طور پر اعلان کر دیا ہے کہ وہ اپنے تمام سرکاری محکموں، پبلک کلاؤڈ نیٹ ورکس اور اسکولوں کے سلیبس سے مرکیٹر نقشے کا استعمال فوری طور پر بند کر رہا ہے۔
عالمی اداروں میں نفاذ: اگرچہ اقوام متحدہ کی یہ قرارداد کسی ملک پر قانونی طور پر زبردستی نافذ نہیں کی جا سکتی لیکن اس کے باوجود دنیا بھر کے تعلیمی بورڈز، نقشہ بنانے والے پبلشرز، گوگل اور ایپل جیسے کلاؤڈ ٹیک مینیجرز اب اپنے سوفٹ ویئرز کو اپ گریڈ کر کے اسی نئے فریم ورک کے مطابق ڈھالنے کے پابند ہوں گے۔
اس تاریخی سفارتی کوریڈور کی بدولت اب دنیا بھر کے اسکولوں کے کمپیوٹر لیبز اور اٹلس کتابوں میں بچوں کو اپنے سیارے کا ایک سچا، غیر جانبدار اور سائنسی طور پر درست چہرہ دیکھنے کو ملے گا جو عالمی جغرافیائی سیاست میں استوائی اور افریقی ممالک کے سافٹ امیج کو مستقل طور پر فروغ دے گا۔






