پاکستان میں بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور نیپرا (NEPRA) کی جانب سے سولر پالیسیوں میں حالیہ تبدیلیوں نے صارفین کو ایک نئی سوچ بچار میں ڈال دیا ہے، خصوصاً نیٹ بلنگ کے حوالے سے۔ حکومت کی جانب سے نیٹ میٹرنگ (Net Metering) کو مرحلہ وار نیٹ بيلنگ (Net Billing) میں تبدیل کرنے کے نئے قوانین متعارف کروائے جا رہے ہیں۔ پرانے نیٹ میٹرنگ سسٹم میں صارفین جتنے یونٹ گرڈ کو بیچتے تھے اتنے ہی یونٹ واپس لینے کی سہولت موجود تھی (1:1 تناسب)۔ تاہم نئے قوانین کے تحت اب آپ کو رات کے وقت گرڈ سے لی جانے والی مہنگی بجلی کے مقابلے میں، دن کو گرڈ کو بیچی جانے والی بجلی کی قیمت کم ملے گی۔
اس نئی صورتحال میں بہت سے لوگ پریشان ہیں کہ کیا اب سولر سسٹم لگانا فائدہ مند رہے گا یا نہیں؟ جواب ہے: جی ہاں، بالکل فائدہ مند رہے گا! لیکن اب آپ کو اپنی بچت کو برقرار رکھنے کے لیے سمارٹ طریقے اپنانے ہوں گے۔ ذیل میں نیٹ بيلنگ کے اس نئے دور میں اپنے سولر سسٹم سے 100% فائدہ اٹھانے اور بل کو صفر کرنے کے 3 بڑے اور خفیہ راز بتائے جا رہے ہیں۔
ہائبرڈ انورٹر اور بیٹری اسٹوریج کا استعمال
نئے قوانین کے تحت دن کے وقت گرڈ کو بجلی سستے داموں بیچنا اور رات کو مہنگی بجلی خریدنا سب سے بڑا نقصان ہے۔ اس کا بہترین حل یہ ہے کہ آپ اپنے سسٹم کو اون گرڈ (On-Grid) سے ہائبرڈ (Hybrid System) پر منتقل کریں۔
توانائی کا ذخیرہ: دن کے وقت جب آپ کے سولر پینلز اضافی بجلی بنا رہے ہوں تو اسے گرڈ کو سستے داموں بیچنے کی بجائے اپنی بیٹریوں (Lithium or Tubular Batteries) میں ذخیرہ کریں۔
پیک آورز میں استعمال: شام 6 بجے سے رات 11 بجے تک جب پاکستان میں بجلی کے ریٹس سب سے زیادہ (Peak Hours) ہوتے ہیں، آپ گرڈ سے بجلی بالکل بند کر دیں اور اپنے گھر کا پورا لوڈ بیٹری اور سولر پر چلائیں۔ اس طرح آپ نیپرا کو سستی بجلی بیچنے اور ان سے مہنگی بجلی خریدنے کے چکر سے آزاد ہو جائیں گے۔
لوڈ شفٹنگ ٹیکنالوجی اور سمارٹ ٹائمرز
نیٹ بيلنگ کے نظام میں بچت کا دوسرا بڑا راز یہ ہے کہ آپ اپنے گھر کے بھاری لوڈ (جیسے انورٹر اے سی، واٹر پمپ، واشنگ مشین اور استری وغیرہ) کو استعمال کرنے کا وقت تبدیل کریں۔
سولر کی براہ راست بجلی کا استعمال: اپنے تمام بھاری برقی آلات کو رات کی بجائے صبح 10 بجے سے دوپہر 3 بجے کے درمیان چلائیں۔ اس وقت سورج کی روشنی عروج پر ہوتی ہے اور سولر پینلز پوری طاقت سے بجلی بنا رہے ہوتے ہیں۔
بل میں براہ راست واضع کمی: جب آپ اے سی (AC) ڈائریکٹ سولر کی بجلی پر چلائیں گے تو آپ کو گرڈ سے بجلی لینے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ دن کو بنائی گئی بجلی کو گھر کے اندر ہی استعمال کر لینا اسے گرڈ کو سستے داموں بیچنے سے ہزار گنا بہتر ہے۔ اس کے لیے آپ سمارٹ ٹائمر سوئچز بھی استعمال کر سکتے ہیں۔
پینلز کی باقاعدہ صفائی اور زاویے کی درستگی نئے قوانین کے بعد چونکہ آپ کو اپنے سولر یونٹس کی کم قیمت ملنی اس لیے اب آپ کو اپنے سسٹم کی کارکردگی (Efficiency) کو 100 فیصد تک برقرار رکھنا ہوگا تاکہ کم سے کم وقت میں زیادہ یونٹس پیدا ہو سکیں۔
دھول مٹی سے نجات: پاکستان کے موسم میں گرد و غبار کی وجہ سے سولر پینلز کی کارکردگی 20 سے 30 فیصد تک گر جاتی ہے۔ پینلز کو ہفتے میں کم از کم دو بار صاف پانی سے دھوئیں۔
موسمی زاویہ (Seasonal Tilt): اپنے سولر پینلز کے اسٹینڈز کو فکس رکھنے کی بجائے ایڈجسٹ ایبل (قابلِ حرکت) بنائیں۔ گرمیوں اور سردیوں میں سورج کے بدلتے ہوئے زاویے کے مطابق پینلز کا رخ تبدیل کرنے سے بجلی کی پیداوار میں 15 فیصد تک کا واضع اضافہ ہوتا ہے جو نیٹ بيلنگ میں آپ کے منافع کو محفوظ رکھتا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ حکومت کے قوانین چاہے بدلتے رہیں اگر آپ سمارٹ ہائبرڈ ٹیکنالوجی اور بہتر مینجمنٹ کا استعمال کریں گے تو نیٹ بيلنگ کے دور میں بھی آپ ماہانہ لاکھوں روپے کی بچت کر سکتے ہیں۔






