پاکستان میں محفوظ اور فکسڈ انکم (Fixed Income) سرمایہ کاری کے لیے قومی بچت اسکیمیں ہمیشہ سے شہریوں کی پہلی پسند رہی ہیں۔ حال ہی میں وفاقی حکومت نے مہنگائی کے تناسب اور معاشی استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے نیشنل سیونگز اسکیموں کے منافع میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ حکومت کی جانب سے مختلف بچت اسکیموں اور سرٹیفکیٹس پر مجموعی طور پر 1 فیصد سے لے کر 2.20 فیصد تک کا اضافہ کیا گیا ہے جس کا اطلاق 26 مئی سے ہو چکا ہے۔
اس فیصلے کا بنیادی مقصد ان سرمایہ کاروں کو ریلیف فراہم کرنا ہے جو کم رسک (Low-risk) کے ساتھ مستحکم ماہانہ آمدنی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اگر آپ بھی قومی بچت اسکیموں میں سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو آپ کو سینٹرل ڈائریکٹوریٹ آف نیشنل سیونگز (CDNS) کی جانب سے جاری کردہ نئے ریٹس اور قوانین کے بارے میں مکمل معلومات ہونی چاہئیں۔
نیشنل سیونگز کی نئی شرح منافع کا نیا شیڈول اور اہم سرٹیفکیٹس
وزارتِ خزانہ کے نوٹیفکیشن کے مطابق نئی شرحِ منافع کو فوری طور پر نافذ کر دیا گیا ہے۔ اس بار حکومت نے زیادہ تر توجہ ان اسکیموں پر دی ہے جو عام شہریوں اور کاروباری طبقے میں سب سے زیادہ مقبول ہیں۔
ذیل میں اہم ترین اسکیموں کی نئی سالانہ شرح درج ہے:
اسپیشل سیونگز اسکیمز (Special Savings Schemes): اس اسکیم پر منافع کی شرح کو بڑھا کر 11.60 فیصد کر دیا گیا ہے۔
ریگولر انکم سرٹیفکیٹس (Regular Income Certificates – RIC): ماہانہ منافع فراہم کرنے والی اس مقبول اسکیم پر اب سالانہ 11.82 فیصد کے حساب سے منافع دیا جائے گا۔
بہبود اور پینشنرز اسکیمز (Behbood & Pensioner Schemes): بیواؤں، معذور افراد اور بزرگ شہریوں کے لیے اس اسکیم پر منافع کی شرح کو 12 فیصد پر برقرار رکھا گیا ہے یعنی اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اس سے قبل حکومت نے 2 لاکھ روپے تک کی سرمایہ کاری پر بہبود سیونگز سرٹیفکیٹ کی ایک مخصوص کیٹیگری کے لیے منافع کی شرح 12.96 فیصد مقرر کی تھی جو کہ اب بھی نافذ العمل ہے۔
سرمایہ کاری پر ماہانہ منافع کا بریک ڈاؤن
عام سرمایہ کاروں کی آسانی کے لیے نیشنل سیونگز نے نئی شرحِ منافع کے مطابق ماہانہ ملنے والی رقم کا ایک تخمینہ بھی جاری کیا ہے تاکہ شہریوں کو اپنی مالیاتی منصوبہ بندی (Financial Planning) میں آسانی ہو:
100,000 روپے کی سرمایہ کاری پر: نئے ریٹس کے تحت ایک لاکھ روپے جمع کرانے پر سرمایہ کار کو ماہانہ تقریباً 1,080 روپے کا منافع حاصل ہوگا۔
200,000 روپے کی سرمایہ کاری پر: دو لاکھ روپے کی کل سرمایہ کاری پر اب ماہانہ تقریباً 2,160 روپے کا منافع اکاؤنٹ میں منتقل کیا جائے گا۔
دوسری طرف بیواؤں اور معذور افراد کے لیے خوش آئند بات یہ ہے کہ بہبود سرٹیفکیٹ پر 12 فیصد ریٹ برقرار رہنے کی وجہ سے انہیں ہر ایک لاکھ روپے کی سرمایہ کاری پر پورے 1,000 روپے ماہانہ ملتے رہیں گے۔ یہ منافع سرٹیفکیٹ خریدنے کی تاریخ سے ہی ہر ماہ باقاعدگی سے ملنا شروع ہو جاتا ہے۔
| نیشنل سیونگز اسکیم کا نام | پرانی یا نئی سالانہ شرح منافع | 1 لاکھ روپے پر ماہانہ منافع (اندازاً) |
| اسپیشل سیونگز اسکیمز | 11.60% | 1,080 روپے |
| ریگولر انکم سرٹیفکیٹس (RIC) | 11.82% | 985 روپے |
| بہبود سیونگز سرٹیفکیٹس (BSC) | 12.00% (برقرار) | 1,000 روپے |
| خصوصی بہبود اکاؤنٹ (محدود) | 12.96% (برقرار) | 1,080 روپے |
ٹیکس اور زکوٰۃ کی کٹوتیاں
قومی بچت اسکیموں سے حاصل ہونے والا منافع مکمل طور پر ٹیکس فری نہیں ہوتا۔ ایف بی آر (FBR) کے قوانین کے مطابق منافع کی رقم پر درج ذیل کٹوتیاں لاگو ہوتی ہیں:
ودہولڈنگ ٹیکس (WHT): ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ (ATL) میں شامل افراد (Filers) کے لیے منافع پر 15 فیصد ٹیکس کٹوتی ہوتی ہے جبکہ نان فائلرز (Non-Filers) کے لیے یہ شرح 30 فیصد ہے۔
زکوٰۃ کی کٹوتی: یکم رمضان کو موجود کل رقم پر 2.5 فیصد زکوٰۃ کاٹی جاتی ہے۔ تاہم بہبود سیونگز سرٹیفکیٹس اور پینشنرز بینیفٹ اکاؤنٹس قانوناً زکوٰۃ کی کٹوتی سے مستثنیٰ (Exempted) ہیں۔ سائلین چاہیں تو انویسٹمنٹ کے وقت زکوٰۃ سے استثنیٰ کا فارم (CZ-50) بھی جمع کرا سکتے ہیں۔
مزید تازہ ترین خبروں اور اپڈیٹس کے لیے Urdu khabar فالو کریں۔






