پاکستان کے وفاقی اور صوبائی سرکاری محکموں، پبلک سیکٹر آرگنائزیشنز اور ڈیجیٹل گورننس کے نیٹ ورکس کو ہیکرز اور بیرونی سائبر حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے وفاقی حکومت نے ایک انتہائی اہم اور تزویراتی قدم اٹھایا ہے۔ حکومتِ پاکستان کی وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن نے ملک بھر کے سرکاری ملازمین، افسران، ٹیکنیکل اسٹاف اور انتظامی مینیجرز کے لیے سائبر سیکیورٹی کی ایک نئی اور جامع گائیڈ لائن جاری کر دی ہے۔
آج، 6 ستمبر 2026 کو جاری ہونے والی اس آفیشل رپورٹ کے مطابق یہ اہم ترین دستاویز حکومت پاکستان کے تحت کام کرنے والے ادارے، نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم آف پاکستان (PKCERT) کی جانب سے تیار اور شائع کی گئی ہے جسے باقاعدہ طور پر نیشنل سائبر سیکیورٹی ہینڈ بک کا نام دیا گیا ہے۔ اس ہینڈ بک کا بنیادی مقصد روزمرہ کے حکومتی آپریشنز کے دوران حساس کلاؤڈ ڈیٹا، سرکاری فائلز اور انٹرنیٹ کنکشنز کو محفوظ بنانا ہے۔
آٹھ اہم شعبوں کی اسکیننگ اور ملازمین کی انفرادی ذمہ داری کا مینوئل
وزارتِ آئی ٹی کی پریس ریلیز کے مطابق، یہ ہینڈ بک پاکستان انفارمیشن سیکیورٹی فریم ورک (PISF) 2026، نیشنل سائبر سیکیورٹی پالیسی 2021، اور سرٹ رولز (CERT Rules) 2023 کے قانونی تقاضوں کو عملی ہدایات میں تبدیل کرتی ہے۔ یہ گائیڈ لائنز بین الاقوامی سائبر سیکیورٹی اسٹینڈرڈز اور بیسٹ پریکٹسز کے عین مطابق مینوفیکچر کی گئی ہیں۔
اس سائنسی ہینڈ بک کے اسٹرکچرل فریم ورک کے تحت 8 کلیدی سائبر سیکیورٹی شعبوں کا احاطہ کیا گیا ہے، جس میں ملازمین کے لیے درج ذیل گائیڈ لائنز لازمی قرار دی گئی ہیں:
پاس ورڈز کا تحفظ: روایتی مینوئل پاس ورڈز کے بجائے فیکٹر اور ٹو سٹیپ ویریفیکیشن (2FA) کا نفاذ۔
ای میل اسکیننگ: سرکاری ای میلز پر آنے والے نامعلوم لنکس یا فشنگ پیغامات پر کلک کرنے کی مینوئل ممانعت۔
سوفٹ وئیر اپ ڈیٹس: تمام آفیشل کمپیوٹرز اور کلاؤڈ سسٹمز کے سافٹ ویئرز کو چوبیس گھنٹے اپ ڈیٹ رکھنا تاکہ ہیکرز سیکیورٹی لوپ ہولز کا فائدہ نہ اٹھا سکیں۔
حساس معلومات کی شیئرنگ: نادرا کے ڈیٹا یا حساس سرکاری خط و کتابت کو غیر محفوظ نیٹ ورکس یا ذاتی واٹس ایپ پر منتقل کرنے پر پابندی۔
مشترکہ ذمہ داری کا تصور اور نفیس ترین سائبر خطرات کا چیلنج
اس ہینڈ بک میں اس بات پر خصوصی طور پر زور دیا گیا ہے کہ سائبر سیکیورٹی اب کسی ایک محکمے کی نہیں بلکہ تمام ملازمین کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ جیسے جیسے پاکستان کے سرکاری ادارے پیپر لیس، کلاؤڈ بیسڈ اور آپس میں مربوط ہو رہے ہیں کسی بھی ایک سویلین یا ٹیکنیکل کسٹمر (ملازم) کی چھوٹی سی مینوئل غفلت پورے ملک کے انفراسٹرکچر کے ڈیٹا کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
تاہم، وفاقی حکومت نے گائیڈ لائنز کے مینوئل میں یہ سائنسی وضاحت بھی شامل کی ہے کہ ان تمام اصولوں پر سختی سے عملدرآمد کرنے کے باوجود دنیا کے انتہائی نفیس اور جدید ترین ہیکنگ حملوں کے خلاف 100 فیصد مکمل تحفظ کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ لیکن یہ اقدام وفاقی اور صوبائی سطح پر سائبر خطرات کے انڈیکس کو ریکارڈ حد تک کم کرنے میں کلیدی ثابت ہو گا۔






